حضرت عزیر علیہ السلام (حصہ اول)

حضرت عزیر علیہ السلام کا سلسلہ نسب
حافظ ابوالقاسم ابن عساکر رحمتہ اللہ علیہ نے آپ کا نام عزیر بن جروہ اور نسب اس طرح بیان کیا ہے۔
عزیر بن سوریق بن عدیا ایوب بن درزنا بن تقی بن اسبوع بن فنخاص بن العاذر بن ھارون بن عمران علیہ السلام
ایک قول کے مطابق حضرت عزیر علیہ السلام کے والد کا نام سروخا تھا۔
بعض روایات میں ہے کہ آپ کی قبر مبارک دمشق میں ہے پھر ابن عساکر رحمتہ اللہ علیہ نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مرفوعاً نقل کیا ہے کہ میرے علم میں نہیں کہ عزیر علیہ السلام مبعوث ہوئے یا نہیں اور آپ نبی ہیں یا نہیں پھر انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مرفوعاً اسی طرح کی روایت بیان کی ہے۔
پھر ابن عباس رضی اللہ تعالٰی سے نقل کیا ہے کہ عزیر علیہ السلام ان لوگوں میں سے تھے جنہیں بخت نصر نے قید کیا تھا۔
اس وقت آپ بچے تھے۔ جب آپ چالیس سال کے ہوئے تو اللہ تعالٰی نے آپ کو حکمت و دانائی عطا فرمائی آپ کو سب سے زیادہ تورات یاد تھی اور تورات کا علم بھی سب سے ذیادہ تھا آپ کا تذکرہ انبیاء علیہ السلام کے ساتھ ہی ہوتا تھا۔ مگر جب آپ نے اللہ تعالٰی سے تقدیر کے متعلق سوال کیا تو اللہ تعالٰی نے آپ کا نام انبیاء کی فہرست سے مٹا دیا مگر یہ روایت ضعیف منقطع اور منکر ہے۔
(واللہ اعلم)
حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالٰی سے روایت ہے کہ عزیز علیہ السلام ہی وہ شخصیت ہیں جنہیں اللہ تعالٰی نے سو برس موت کی آغوش میں سلائے رکھا اور دوبارہ زندہ کیا۔
اسحاق بن بشیر رحمتہ اللہ علیہ سعید سے، وہ ابو عروبہ سے، وہ قتادہ سے اور وہ حسن سے نقل فرماتے ہیں کہ اسحاق بن بشیر رحمتہ اللہ علیہ نے کئی طریق سے بیان کیا ہے کہ عزیز علیہ السلام بڑے متقی اور زیرک انسان تھے ایک روز اپنی زمین کی دیکھ بھال سے واپسی پر آپ کا گزر ایک ویران جگہ سے ہوا۔ دوپہر کا وقت تھا اور گرمی محسوس ہو رہی تھی آپ اپنے گدھے پر سوار تھے۔
آپ گدھے پر سے اترے ایک ٹوکری میں جانور کے لیے چارہ اور دوسری میں انگور تھے۔ آپ نے اس ویران عمارت کے سائے میں بیٹھ کر اپنا پیالہ نکالا۔ اس میں انگوروں کا رس نچوڑا پھر ٹوکری میں سے سوکھی روٹی نکالی اور اسے انگور کے رس میں بھگونے کے لیے رکھ دی۔ روٹی نرم ہونے کے انتظار میں آپ دیوار کے ساتھ پاؤں کا سہارا لگا کر لیٹ گئے۔
اسی اثناء میں آپ کی نظر چھت پر پڑی کہ وہ اپنے عرش پر کھڑی ہے اور اس کے مکیں ہلاک ہو گئے ہیں ان کی بوسیدہ ہڈیاں موجود ہیں تو آپ کی زبان سے بے ساختہ نکلا۔
ترجمہ: ان کی موت کے بعد اللہ تعالٰی ان کو کیسے زندہ کرے گا۔
اللہ تعالٰی نے آپ کے پاس موت کا فرشتہ بھیجا اس نے آپ کی روح قبض کر لی اور سو برس تک اللہ تعالٰی نے آپ کو موت کی آغوش میں سلائے رکھا۔ جب سو برس مکمل ہوئے اور اس دوران بنی اسرائیل میں بہت سے نئے حالات و واقعات رونما ہوچکے تھے تو پھر اللہ تعالٰی نے آپ کے پاس فرشتہ بھیجا اس نے پہلے آپ کا دل بنایا تاکہ آپ سمجھ سکیں پھر آپ کی آنکھیں بنائیں تاکہ ان کے ساتھ آپ دیکھ سکیں کہ اللہ تعالٰی مردوں کو کس طرح زندہ کرتا ہے۔ پھر تخلیق کا آغاز ہوا ہڈیاں جمع ہوئیں ان پر گوشت چڑھا بال اور پھر جسم میں روح ڈالی گئی۔ پھر آپ اٹھ کر بیٹھ گئے۔
پھر فرشتے نے دریافت کیا
ترجمہ: آپ کتنا عرصہ ٹھہرے ہیں
آپ نے فرمایا : ایک دن یا دن کا کچھ حصہ ٹھہرا ہوں۔
کیونکہ آپ دوپہر کے وقت آرام کرنے کے لیے یہاں رکے تھے۔ اور دوبارہ دن کے آخر میں اٹھے تو سورج ابھی غروب نہیں ہوا تھا بعد میں فرمایا دن کا کچھ حصہ ابھی ایک روز  مکمل نہیں ہوا۔
فرشتے نے کہا:آپ یہاں ایک سو برس ٹھہرے ہیں اپنے کھانے اور پینے کے سامان کی جانب دیکھیں یعنی سوکھی روٹی اور اس کو انگور کے پیالے میں نچوڑا تھا دونوں اسی حالت میں موجود ہیں ان میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی اسی طرح انجیر اور انگور بغیر کسی تبدیلی کے بلکل اسی حالت میں ہیں یہ بات سن کر آپ کے دل میں خیال آیا یہ کیسے ہو سکتا ہے۔
فرشتے نے کہا کہ آپ اپنے گدھے کو دیکھیں۔ آپ نے جب دیکھا تو وہ بالکل بوسیدہ ہڈیاں بن چکا تھا۔ فرشتے نے گدھے کی ہڈیوں کو آواز دی تو وہ ہر جانب سے آکر جمع ہونے لگیں پھر ہڈیوں پر گوشت اور جلد کا لباس چڑھا دیا گیا۔ پھر جلد پر بال اگ آئے پھر فرشتے نے اس میں پھونک ماری تو گدھا اپنے سر اور کانوں کو اوپر اٹھاتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا اور آواز نکالنے لگا
اس کے بارے میں ارشاد باری تعالٰی ہے
ترجمہ:اور اپنے گدھے کی جانب دیکھواو رتاکہ ہم تمہیں لوگوں کے لیے نشانی بنائیں اور ہڈیوں کی جانب دیکھو ہم ان کو کیسے اٹھاتے ہیں اور ان پر گوشت چڑھاتے ہیں
یعنی گدھے کی ہڈیوں کی جانب دیکھو ہم انھیں کیسے جوڑوں کے ساتھ ملاتے ہیں دیکھنا وہ کس طرح بغیر گوشت کے گدھے کی شکل اختیار کرتی ہیں پھر دیکھنا ہن ان پر کیسے گوشت چڑھاتے ہیں۔
ترجمہ: جب حقیقت ان کے لیے واضح ہوئی تو کہنے لگے مجھے علم ہے کہ اللہ یقیناً ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔
یعنی وہ مردے کو بھی زندہ کر سکتا ہے اور ہر شے پر قابض ہے۔

حضرت عزیز علیہ السلام اپنے گھر میں واپس
پھر حضرت عزیز علیہ السلام گدھے پر سوار ہو کر اپنے محلے میں تشریف لائے تو لوگوں نے آپ کو نہ پہچانا اور نہ آپ لوگوں کو پہچان سکے اور آپ کو اپنے گھر کا پتہ بھی نہ تھا۔ آپ اندازے کے مطابق اپنے گھر میں داخل ہوئے تو وہاں ایک انتہائی ضعیف خاتوں بیٹھی تھی جو آنکھوں سے اندھی تھی اس کی عمر ایک سو بیس برس تھی وہ آپ کی باندی تھی اور آپ کو اچھی طرح پہچانتی تھی مگر بڑھاپے کی وجہ سے اب اس کے قوٰی جواب دے چکے تھے۔ آپ نے اس سے فرمایا کیا یہ عزیز علیہ السلام کا گھر نہیں ہے۔
اس نے جواب دیا ہاں یہ عزیز علیہ السلام کا ہی گھر ہے۔ یہ کہہ کر وہ رو پڑی اور پھر کہنے لگی میں نے اتنے برسوں سے کسی کو عزیز علیہ السلام کا ذکر کرتے ہیں سنا لوگ انھیں بھول چکے ہیں۔
آپ نے فرمایا: میں ہی عزیر ہوں اللہ تعالٰی نے مجھے دوبارہ زندہ کیا ہے۔ اس نے کہا حضرت عزیز علیہ السلام تو مستجاب الدعوات تھے مریض اور مصیبت زدہ لوگوں کے لیے دعا مانگتے تو وہ فوراً ٹھیک ہوجاتے تھے۔ آپ اللہ تعالٰی سے دعا فرمائیں کہ وہ میری بینائی لوٹا دے تاکہ میں آپ کو دیکھ سکوں اگر آپ واقع عزیز علیہ السلام  ہوئے تو میں آپ کو پہچان لوں گی۔
چناچہ آپ نے رب ذوالجلال کے حضور دعا فرمائی اور اپنا ہاتھ اس کی آنکھوں پر پھیرا تو وہ ٹھیک ہو گئیں آپ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا اللہ کے حکم سے کھڑی ہوجا اللہ نے اس کی دونوں ٹانگیں درست فرما دیں وہ تندرست ہو کر کھڑی ہو گئی گویا کہ کسی رسی سے آزاد ہو گئی ہو اس نے جب اپ کو دیکھا تو پکار اٹھیں میں گواہی دیتی ہوں کہ آپ ہی  عزیز علیہ السلام ہیں۔
پھر وہ بنی اسرائیل کے ایک محلے کے طرف چلی گئی وہ لوگ اس وقت اپنی محفل اور مجلس سجائے بیٹھے تھے اور عزیز علیہ السلام کا لڑکا جو ایک سو اٹھارہ سال کا بوڑھا تھا وہ اور آپ کے بوڑھے پوتے بھی اس مجلس میں موجود تھے اس نے انھیں پکار کر کہا
یہ دیکھو! عزیز علیہ السلام  تشریف لائے ہیں تو لوگوں نے اسے جھٹلا دیا تب اس نے کہا میں تمہاری فلاں باندی ہوں انہوں نے رب ذوالجلال سے دعاء فرمائی تو اللہ تعالٰی نے میری بینائی مجھے لوٹا دی اور میرے پاؤں بھی ٹھیک ہو گئے ان کا کہنا ہے کہ اللہ تعالٰی نے انھیں سو سال تک موت کی آغوش میں سلانے کے بعد دوبارہ زندہ کیا ہے۔
راوی کہتے ہیں کہ لوگ اٹھ کر آپ کے پاس آئے اور آپ کو غور سے دیکھنے لگے آپ کے بیٹے نے کہا میرے والد کے دونوں شانوں کے درمیان سیاہ تل تھا جب آپ کے شانوں سے کپڑا ہٹایا گیا تو آپ عزیز علیہ السلام ہی نکلے تب بنی اسرائیل نے کہا کہ عزیز علیہ السلام کے سوا کسی کو تورات زبانی یاد نہ تھی اور بخت نصر نے تورات کو نذر آتش کر دیا تھا اب تورات کا اتنا حصہ باقی ہے جو کسی کسی کو یاد ہے لہذٰا آپ ہمیں تورات لکھ دیں۔


تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں