سیدنا بلال رضی اللہ عنہ

حضرت بلال حبشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ امیہ بن خلف حجمی کے غلام تھے۔ حضرت بلال کے والد کا نام رباح اور والدہ کا نام حمامہ تھا، اور وہ بھی امیہ کے غلام تھے۔ امیہ بن خلف بہت دولت مند آدمی تھا، اس کے کئی بیٹے اور بارہ غلام تھے۔ لیکن وہ حضرت بلال کو سب سے زیادہ چاہتا تھا اور اس نے ان کو اپنے بت خانے کا نگران بنا رکھا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے جب حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایمان کی دولت سے مالا مال کیا تو وہ بت خانے میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کرتے۔ دوسرے تمام لوگ بتوں کو سجدہ کرتے لیکن حضرت بلال اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کرتے تھے۔ جب امیہ کو اس کی خبر ہوئی تو وہ غصے کی حالت میں آیا اور پوچھنے لگا، کیا تم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رب کو سجدہ کرتے ہو؟ حضرت بلال نے جواب دیا، میں اس اللہ کو سجدہ کرتا ہوں جو ایک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ امیہ اس بات پر آگ بگولا ہوگیا اور آپ پر تشدد کرنے لگا۔
جب سورج نصف النہار پر آجاتا اور گرمی کی تپش سے زمین تنور کی مانند گرم ہو جاتی تو حضرت بلال کو مکہ مکرمہ کے کھلے میدان میں لے جایا جاتا اور ننگا کر کے گرم تپتی ریت پر سخت دھوپ میں ہاتھ پاؤں باندھ کر ڈال دیا جاتا۔ اور ایسے گرم پتھر کہ جن پر گوشت بھن جائے، ان کے سینہ مبارک، پشت اور پہلو پر رکھے جاتے۔ پھر جسم پر گرم گرم ریت ڈالی جاتی اور سخت تکلیف دی جاتی۔ لیکن تمام تکالیف کے باوجود حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زبان مبارک پر احد احد کے الفاظ جاری ہوتے، یعنی میں اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کرتا ہوں۔ کبھی آپ کو کانٹوں پر کھینچتے یہاں تک کہ کانٹے ان کے گوشت پوست میں سے گزرتے اور ان کی ہڈیوں کو لگتے مگر آپ احد احد پکارتے۔
ایک دفعہ امیہ بن خلف حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر بے پناہ تشدد کر رہا تھا اور کہتا جاتا ’’تو کہہ میں لات و عزیٰ پر ایمان لایا‘‘۔ حضرت بلال نے فرمایا ’’میں لات اور عزیٰ سے بے زار ہوا‘‘۔ امیہ بن خلف غصے سے لال پیلا ہوگیا اور حضرت بلال کے سینہ پر بیٹھ کر آپ کا گلا گھونٹنے لگا۔ یہاں تک کہ حضرت بلال بے حس و حرکت ہوگئے۔ صبح سے لے کر شام تک آپ بے ہوش پڑے رہے۔ اس کے بعد جب ہوش میں آئے تو امیہ بن خلف نے کہا ’’کہو میں لات اور عزیٰ پر ایمان لایا‘‘۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آسمان کی طرف اشارہ کیا اور پھر احد احد کہا۔
ایک روز حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سخت اذیت دی جا رہی تھی اور انہیں تپتے ہوئے پتھروں پر لٹایا ہوا تھا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس طرف سے گزرے۔ حضرت بلال کو اس حال میں دیکھا تو بے تاب ہوگئے اور ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ حضرت ابوبکر نے حضرت بلال پر ہونے والے ظلم و تشدد کا ذکر حضور ﷺ سے کیا تو آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی چشم ہائے اطہر اشک بار ہوگئیں۔
حضرت بلال پر ایک دن امیہ بن خلف بے انتہا تشدد کر رہا تھا۔ حضرت ابوبکر صدیق نے دیکھا تو امیہ سے فرمایا ’’اے امیہ! اس غلام کو عذاب دینے سے تیرا کون سا کام درست ہوتا ہے؟ اللہ سے ڈر اور اس سے اپنا ہاتھ روک لے‘‘۔ امیہ کہنے لگا ’’میرا غلام ہے جسے میں نے اپنا مال دے کر خریدا ہے، مجھے اسے کو سزا دینے کا حق حاصل ہے‘‘۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ’’وہ شخص جو کہتا ہے کہ اللہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں، تو اس کو تکلیف دیتا ہے، یہ کس قدر ظلم ہے جو تو اس پر روا رکھے ہوئے ہے‘‘۔
امیہ کہنے لگا ’’اے ابو قحافہ کے بیٹے! تم نے ہی اسے نقصان کے راستے پر ڈالا ہے اور بتوں کی عبادت سے روکا ہے۔ اور محمد (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کے دین کی ترغیب دی ہے۔ اب اسے اس مصیبت سے تم ہی چھڑاؤ۔ اگر تمہارے دل میں اس کے لیے رحم ہے تو اسے مجھ سے خرید لو‘‘۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس موقع کو غنیمت جانا اور فرمایا کہ میں حضرت بلال کے بدلے تمہیں ایک سفید نصرانی غلام اور دس اوقیہ سونا دیتا ہوں۔ امیہ نے منظور کر لیا اور پھر وہ ہنسنے لگا۔ حضرت ابوبکر صدیق نے پوچھا تو کیوں ہنستا ہے؟ کہنے لگا رب کعبہ کی قسم تو نے بہت نقصان اٹھایا۔ اگر تو مجھ سے اسے ایک درہم میں بھی خریدتا تو میں اسے بیچ دیتا۔ حضرت ابوبکر صدیق نے فرمایا، اللہ پاک کی قسم! میں نے بہت ہی اعلیٰ سودا کیا ہے، اگر تو مجھ سے اس ایک غلام کے بدلے میں میرا تمام مال طلب کرتا تو میں دے دیتا اور اس کو لے لیتا۔ یہ سن کر امیہ خاموش ہوگیا۔
حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور اپنی چادر مبارک سے ان کے جسم مبارک پر لگے ہوئے گرد و غبار کو جھاڑا۔ اور نیا لباس پہنا کر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت اقدس میں لے گئے، اور فرمایا یا رسول اللہ ﷺ گواہ رہیے کہ میں نے بلال کو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے آزاد کر دیا ہے۔
(ابن ہشام ۔ معارج النبوۃ)

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں