قرآن اور عصر حاضر

نزول قرآن کیلئے قدرت نے جس زبان کا انتخاب کیا وہ عربی ہے۔ دور نبوی ﷺ میں اسلام جزیرۃ العرب کی حدود تک محدود تھااور وہاں کے باسیوں کی مادری زبان عربی تھی۔ اس لئے قرآن فہمی میں لغت کے لحاظ سے انہیں کوئی دقت نہ تھی۔ اس دور میں بھی قرآن کے اجمالی احکامات کی تفسیر بیان کرنے کی ضرورت تھی لیکن وہ تفسیربھی عربی میں ہی تھی۔

قرآن کے پہلے مفسر نبی کریمﷺ خود ہیں۔ اور قیامت تک وہی تفسیر ِقرآن مستند اورصحیح ہوگی جو آپ کے ارشادات اور اعمال و اشغال سے مطابقت رکھے گی۔ صحابہ کرام نے بھی تفسیر قرآن پر کام کیا۔ دور صحابہ کے مفسرین میں سے حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ عنہ کا نام سر فہرت ہے۔ دور خلافت راشدہ میں فتوحات کے نتیجے میں اسلام ایک طرف ایران اور عراق اور دوسری طرف شام، اردن اور مصر تک پہنچا۔ اس طرح عجمی زبانیں بولنے والے لوگوں کی کثیر تعداد بھی مشرف بہ اسلام ہوئی۔

تاریخی نکتہ نظر سے اسلامی ترویج و اشاعت کے لحاظ سے اسلام کی دوسری بڑی زبان فارسی ہے۔ عربی کے بعد فارسی میں قرآنی تفاسیر کا ایک طویل سلسلہ ہے۔ دسویں صدی ہجری کی امام طبری کی تفسیر طبری، گیارویں صدی ہجری کی ابو اسماعیل عبداﷲ الانصاری کی تفسیر کشف الاسرار ، بارویں صدی کے امام نجم الدین ابو حفص النسفی اور محمد علی انصاری کی تفسیر مشکوۃ فارسی زبان کی مشہور زمانہ تفاسیر ہیں۔ جب اسلام افغانستان کے رستے بر صغیر میں پہنچا تو ایک نئی زبان معرض وجود میں آئی جس کا نام’’ اردو ‘‘ہے۔

قرآن پاک کی تفسیر کے حوالے سے پچھلی چند صدیوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ تشریع اسلام اورتفسیر قرآن کاسب سے زیادہ کام برصغیر میں ہوا جس کا زیادہ تر حصہ اردو زبان میں ہے۔ علاوہ ازیں بنگالی، گجراتی، سندھی، ترکی، ازبک، سومالی، بلوچی، پشتو اور دیگر زبانوں میں بھی تفاسیر قرآن لکھی گئیں ۔ اگر ان تمام تفاسیر کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ کسی نہ کسی علمی و فکری شخصیت کی ذاتی جد و جہد اور بصیرت کے نتیجے میں کوئی نہ کوئی تفسیر قرآن معرض وجود میں آئی۔

یقینا عقائد حقہ کے حامل وہ تمام لوگ داد و تحسین کے مستحق ہیں جنہوں نے خدمت قرآن کے حوالے سے یہ خدمات سر انجام دیں۔ قرآنی علوم و فنون کی وسعت اورگہرائی پر نظر دوڑائی جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ تفسیر قرآن کا حق کوئی فرد واحد ادا ہی نہیں کر سکتا۔ قرآن سینکڑوں علوم و فنون کا بحر بیکراں ہے۔ قرآن میں عقائد و عبادات کا اجمال ہے اور تفصیل بھی۔ اخلاقیات ومعاملات کا اعلی معیاراور مذہبی رواداری کے راہنما اصول بھی اس میں شامل ہیں۔اس میں میڈیکل سائنس کے انکشافات ہیں اور اسٹرانومی وجیالوجی کے رموز و اسرار بھی۔ بہت سی آیات میں کیمسٹری اور بیالوجی کے پیچیدہ مسائل کی عقدہ کشائی ہے۔ بلا مبالغہ معاشیات اور سیاسیات کے زریں اصولوں پر مبنی قرآن سے بہتر کوئی کتاب نہیں۔ تصوف و طریقت اور تزکیہ نفس کے موضوع پر قرآنی فرمودات حرف آخر کی حیثیت رکھتے ہیں۔

اب انصاف کیجئے کیا اس زمین پر کوئی ایسا فرد واحد موجود ہے جو بیک وقت ان تمام علوم پر دسترس اور مہارت رکھتا ہو۔ یقینا نہیں کیوں کہ مختصر سی دنیوی زندگی میں فرد واحد کیلئے ناممکن ہے کہ ان تمام علوم پرعبور حاصل کر سکے۔ وقت اور حالات کے تقاضوں کے مطابق اگر ہم قرآن کا متاثر کن پیغام دنیائے انسانیت تک پہنچانا چاہتے ہیں تو ’’تفسیر قرآن ‘‘ کیلئے فرد واحد کی بجائے ایک انسٹیٹیوٹ کی ضرورت ہے جس میں عربی زبان، دینی عقائد و اعمال، فقہ و سیرت ،طب، جغرافیہ، بیالوجی، اسٹرانومی، جیالوجی، کیمسٹری، سیاسیات، بزنس مینجمنٹ اور معاشیات کے ماہرین شامل ہوں۔

قرآن پاک کی آیات جس علم و فن سے متعلق ہوں اس فن کے ماہر کی تحقیق و تدوین کو اہمیت دی جائے۔ عصر حاضر میں الہامی کتب میں سے صرف قرآن ہی ہے جو اس تقاضے کو پورا کر سکتا ہے۔ بیشمار سائنسی انکشافات سے پتہ چلتا ہے کہ سائنس کئی ایک اتار چڑھاؤ کے بعد اب علم کی اس پہلی سیڑھی تک پہنچی ہے جسے قرآن اور صاحب قرآن نے پندرہ صدیاں پہلے بام عروج تک پہنچا دیا تھا۔ خدمت قرآن کے حوالے سے انفرادی طور پر ’’تفسیر قرآن‘‘ کی کئی مثالیں موجود ہیں لیکن ہمارے علم کے مطابق کسی ایسی جامع اور کامل و اکمل تفسیر کی کوئی کاوش دکھائی نہیں دے رہی جو اس دور کی اشد ضرورت ہے۔

یہی تفسیر یونیورسٹیز میں شامل نصاب ہو جائے تو دیگر شعبوں کے ساتھ ساتھ طلبہ کو با عمل مسلمان بنانے میں بھی ممد و معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ کام مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔ جدید سائنس نے عصر حاضر میں مادی ترقی تو بہت کی لیکن انسان خود فراموش اور خدا فراموش ہو گیا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کچھ مذہبی کتب اور دینی روایات دور جدید کے سائنسی علوم کو اپنے اندر سمیٹنے یا ان کی تصدیق کرنے کی سکت نہیں رکھتیں۔

یہی نظریات یورپ میں مذہبی عبادت خانوں اور ریاستی اداروں میں خلااور جدائی کا سبب بنے جس کے نتیجے میں سیکولر ازم نے جنم لیا۔ ان حالات میں ایک مضبوط اور مربوط پروگرام کے تحت قرآن کی روشنی کو عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق پھیلانا امت مسلمہ کیلئے فرض کفایہ کا درجہ رکھتا ہے۔


تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں