حضرت خالد بن ولید کا قبول اسلام

ابن سعد اور بیہقی رحمہ ﷲ حضرت خالد بن ولید رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب ﷲ تعالیٰ نے میرے ساتھ بھلائی کاارادہ فرمایاتومیرے دل میں اسلام کی محبت ڈال دی اور میری ہدایت کی بابرکت گھڑی آپہنچی۔

میں نے سوچاکہ میں حضورنبی کریمﷺکے خلاف ہر محاذپربرسرپیکار رہامگرہردفعہ شکست وہزیمت سے دوچار ہوا۔میرے دل میں رہ رہ کرخیال آتاتھاکہ میری ساری دوڑ دھوپ بے فائدہ اور لایعنی ہے اور حضرت محمدﷺعنقریب غالب آجائیں گے۔جب حضورﷺحدیبیہ میں تشریف لائے تومیں بھی مشرکوں کے گھوڑسوار دستے کی قیادت کرتے ہوئے روانہ ہوا۔

مقامِ عسفان پرہماری ملاقات ہوئی میں خم ٹھونک کرمقابلے کے لئے اترآیا۔ہمارے عین سامنے حضورﷺنے صحابۂ کرام کوظہرکی نمازپڑھائی۔جب وہ مصروفِ نماز تھے توہم نے چاہاکہ ان پرحملہ کردیں مگر ہم ایساکرنے سے باز رہے۔شاید اسی میں بھلائی تھی۔ہمارے اس دلی ارادے سے حضورﷺآگاہ ہوگئے۔اس لئے حضورﷺنے عصر کی نماز’’صلوٰۃ الخوف‘‘ کے طریقے پرپڑھائی۔

آپ کے اس عمل پر ہم از حد متاثر و حیران ہوئے۔میں نے کہا:’’یہ شخص ناقابلِ تسخیر ہے،قدرت اس کی نگہبان ہے۔‘‘پھرہم چلے گئے۔ حضورﷺ ہمارے لشکرکے معروف راستے سے ہٹ کردا ہنی جانب سے آگے بڑھنے لگے۔پھرجب حدیبیہ کے مقام پر صلح ہوئی اور قریش نے اس صلح کے ساتھ حضورﷺ کوواپس کردیاتومیرے دل میں اندیشہ ہائے گوناگوں پیداہوئے۔میں نے سوچا اب کیاکرناچاہئے؟

نجاشی کے پاس چلاجاؤں؟ وہ تو(حضرت)محمدﷺ کی اتباع کرچکاہے اور ان کے صحابہ وہاں امن وامان سے زندگی بسر کررہے ہیں؟

کیاہرقل کے پاس چلاجاؤں؟اپنادین ترک کرکے یہودیت یانصرانیت قبول کرلوں؟اور عجم کاتابع کروں؟جوآدمی یہاں رہ جائیں ان کے ساتھ اپنے گھر میں ہی رک جاؤں؟
میں اسی سوچ میں تھاکہ حضورﷺ عمرۂ قضا کے لئے تشریف لے آئے۔مجھے آپ کی آمد کاعلم ہواتوچھپ گیااور جب آپ مکہ میں داخل ہوئے اس وقت میں وہاں نہ تھا۔میرا بھائی ولید بن ولید نبی کریم ﷺکے ساتھ تھا۔[بیہقی اور ابونعیم رحمہ ﷲ حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضورﷺعشاء کی نمازپڑھتے توآخری رکعت میں یہ دعافرماتے تھے۔’’اے ﷲ !ولیدبن ولید کو نجات عطافرما‘‘۔(الخصائص الکبریٰ،ج۱،ص۵۹۹)]اس نے مجھے تلاش کیامگرمیں کہیں نہ ملا،پھراس نے میرے نام ایک خط لکھا۔جس کامضمون یہ تھا
بسم ﷲ الرحمن الرحیم۔امابعد!مجھے اس سے عجیب تربات کہیں نظرنہ آئی کہ تم جیسا دانااور عقل مند شخص اسلام سے گریزپاہے۔تمھیں ﷲ تعالیٰ نے عقل وفکرکی بہترین صلاحیتوں سے نوازاہے ۔ اسلام کی صداقت سے کون نادان پہلوتہی کرے گا۔تیرے بارے میں رسول اﷲ ﷺنے مجھ سے دریافت کیااور پوچھا:خالد کہاں ہے؟میں نے عرض کیا:اﷲ تعالیٰ اسے آپ کی بارگاہ میں لے آئے گا

آپﷺنے فرمایا:’’ایساذی شعور آدمی اسلام کی حقانیت سے بے خبر نہیں رہ سکتا،اگروہ تنہااپنی جنگجویانہ صلاحیت کومسلمان کے حق میں اور مشرکوں کے خلاف بروئے کارلاتاتویہ اس کے لیے بہتر تھااورہم اسے سب پر فضیلت بخش دیتے‘‘۔

برادرم!جونقصان ہوچکا،اس کی تلافی کرلو،بڑے سنہری مواقع تم نے اپنے ہاتھ سے گنوادیئے،اب سنبھل جاؤ‘‘۔

(مرجع سابق)
جب میرے بھائی کاخط آیاتومیں فوراًتیارہوگیا۔اسلام کے ساتھ میری محبت میں اوراضافہ ہوگیا۔خصوصاًرسول ﷲ ﷺکے فرمان سے میں ازحدمسرورہوا۔میں نے خواب دیکھا کہ میں کسی تنگ اور بنجرسرزمین میں ہوں،پھروہاں سے کشادہ سرسبز علاقہ میں نکل آیاہوں میں نے سوچایہ بڑااہم خواب ہے۔

جب ہم مدینۂ منورہ پہنچے تومیں نے کہا:میں(حضرت) ابوبکر( رضی اﷲ عنہ) کے سامنے اپناخواب بیان کروں گا۔میراخواب سن کرانہوں نے فرمایا:’’اس خواب کی تعبیر یہی ہے کہ تم وہاں سے نکل کریہاں آئے ہواور تمھیں قبولِ اسلام کی توفیق مل گئی ہے ۔ اور خواب میں جوتم نے تنگ وتاریک علاقہ دیکھاتھادراصل کفروشرک تھاجس میں تم پہلے تھے‘‘۔

(مرجع سابق)
حضرت خالد رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ جب میں نے بارگاہِ رسالت میں حاضری کاعزم مصمم کرلیاتوسوچا:کس کواپنارفیقِ سفربناؤں؟میں صفوان بن امیہ سے ملااورکہااے ابووہب!تم نے اپنی صورت حال کے بارے میں کیاسوچاہے۔ہم بڑے تجربہ کارجنگجو لوگ ہیں۔پھربھی محمد(ﷺ)عرب وعجم پرغالب آرہے ہیں۔اگرہم ان کے پاس جاکران کی اتباع کرلیں توکیسارہے گا؟کیونکہ ان کی عزت ہماری عزت ہے۔صفوان نے صاف انکارکردیا

کہنے لگا:’’اگر ان کاکوئی بھی مخالف نہ بچا،پھربھی میں ان کی اتباع نہیں کروں گا‘‘۔یہ باتیں کرنے کے بعدہم دونوں نے اپنی اپنی راہ لی۔میں نے سوچااس کے شدیدانکار کی وجہ یہ ہے کہ میدانِ بدر میں اس کاباپ اور بھائی مارے گئے تھے۔پھرمیں عکرمہ بن ابوجہل سے ملا۔اس کے ساتھ بھی وہی باتیں کیں جوصفوان بن امیہ کے ساتھ کی تھیں۔اس کا جواب بھی صفوان سے ملتاجلتاتھا۔

میں نے کہا:میری اس بات کاتذکرہ کسی کے سامنے نہ کرنا،اس نے کہاٹھیک ہے،میں کسی کو نہیں بتاؤں گا۔پھرمیں اپنے گھرآگیا۔گھروالوں سے کہا:میری سواری تیار کرو ۔ میں عثمان بن طلحہ سے ملاقات کرکے آتاہوں۔میں نے سوچایہ میرادوست ہے اس کے سامنے اپناارادہ ظاہرکرناچاہئے ۔ پھرمجھے یادآیاکہ اس کے آباء واجداد بھی قتل ہوئے تھے۔لہٰذااس کویہ بات نہیں بتانی چاہئے۔معاًخیال آیا،بھلااس کوبتادینے میں حرج ہی کیاہے یہ میراکیابگاڑے گا۔میں توابھی منزل کی جانب روانہ ہوجاؤں گا۔چنانچہ میں نے اس کے سامنے حقیقت حال کھول کربیان کردی اور کہا:’’ہماری حالت اس لومڑکی طرح ہے جوبل میں موجودہو اس میں پانی کاڈول ڈالیں تووہ نکل آتا ہے‘‘۔

پھروہ ساری باتیں کرڈالیں جوصفوان کے ساتھ کی تھیں۔اس نے فوراًمیری بات مان لی اور کہا:’’میں ابھی جانے کے لئے تیار ہوں،میری سواری موجود ہے‘‘۔میں نے ’’یاجج‘‘ کوجائے ملاقات کے لئے مقرر کیاکہ اگروہ مجھ سے پہلے وہاں پہنچ گئے تومیرے لئے رکیں گے۔اور اگرمیں ان سے پہلے پہنچ گیاتوپھرمیں وہاں انتظارکروں گا۔سحری کے وقت ابھی پوری طرح اُجالا نہ ہواتھاکہ ہم روانہ ہوگئے۔جب فجرطلوع ہوئی توہم ’یاجج‘ کے مقام ایک دوسرے سے جاملے،ہم چلتے رہے،جب ’ھدہ‘کے مقام پرپہنچے توعمروبن عاص سے ملاقات ہوگئی۔انہوں نے ہمیں مرحبا کہا۔

ہم نے ان کے کلماتِ ترحیب کاجواب دیا،وہ بولے،تم کہاں جارہے ہو؟ہم نے کہاتم کس لئے نکلے ہو؟کہنے لگے پہلے تم بتاؤہم نے کہا:’’ہم اس لئے جارہے ہیں کہ دین اسلام قبول کرکے حضرت محمدمصطفی(ﷺ)کی غلامی اختیار کرلیں‘‘۔انہوں نے کہا’’میرے آنے کابھی یہی سبب ہے‘‘۔حضرت خالدبن ولیدرضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں۔پھرہم تینوں ہم سفر بن گئے ۔ مدینۂ منورہ پہنچ کر’حرہ‘ میں سواریاں بٹھائیں۔ہمارے متعلق رسول اﷲ ﷺکوآگاہ کردیاگیا۔آپ بہت خوش ہوئے۔میں نے اپنے بہترین کپڑے پہنے اور حضورﷺکے پاس حاضرہونے کے لئے چل پڑا۔راستے میں اپنے بھائی سے ملاقات ہوگئی۔انہوں نے کہاجلدی کرو،حضورﷺکوتمہاری آمدکاپتہ چل گیاہے آپ بہت خوش ہیں اور تمہاراانتظارفرمارہے ہیں۔ہم تیزتیز چلنے لگے۔جونہی میں حضورﷺ کے سامنے آیاآپ مجھے دیکھ کرمسکرانے لگے اور دیرتک مسکراتے رہے۔میں آپ کے پاس جاکھڑاہوااور ’’السلام علیکم یانبی اﷲ‘‘کہا،آپ نے خندہ پیشانی سے میرے سلام کاجواب عطافرمایا۔میں نے کہا’’میں گواہی دیتاہوں کہ اﷲ کے سواکوئی معبود نہیں اور آپ اﷲ کے رسول ہیں‘‘۔حضورﷺنے فرمایا:تمام تعریفیں اس خداکے لئے ہیں جس نے تمہیں ہدایت عطافرمائی۔میرایہی خیال تھاکہ اﷲ تعالیٰ نے تمھیں جوفہم وفراست کی قوت عطافرمائی ہے وہ تمہیں خیروفلاح کے راستے پرگامزن کردے گی۔

میں نے عرض کی’’حضور!آپ جانتے ہیں کہ میں آپ کے مقابلے میں کئی جنگوں میں شریک ہواہوں۔آپ اﷲ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ وہ میری اس خطاکومعاف فرمادے‘‘۔حضورﷺنے فرمایا:اسلام پہلے سارے گناہوں کوختم کردیتاہے۔

(الخصائص الکبریٰ،ج۱،ص۶۰۱تا۶۰۵)

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں