نماز دین کا ستون حصہ دوم

حضرت حذیفہ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک رات‘ میں حضور اکرم ﷺ کے پاس سے گزرا۔ آپ ﷺ مسجد میں (نفل) نماز پڑھ رہے تھے۔ میں بھی آپ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھنے کھڑا ہوگیااور مجھے یہ خیال تھا کہ آپ ﷺ کو یہ معلوم نہیں کہ میں آپ کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہوں۔

آپ ﷺ نے سورۃ البقرہ شروع فرمائی۔ میں نے (اپنے دل میں کہا) کہ سو آیتوں پر رکوع فرمائیں گے لیکن جب آپ ﷺ نے سو آیتیں پڑھ لیں اور رکوع نہ فرمایا تو میں نے سوچا کہ دو سو آیتوں پر رکوع فرمائیں گے مگر دو سو آیتوں پر بھی رکوع نہ فرمایا تو مجھے خیال ہوا کہ سورہ کے ختم پر رکوع فرمائیں گے۔

جب آپ ﷺ نے سورہ ختم فرمادی تو اَللّٰھُمَّ! لَکَ الْحَمْدُ، تین مرتبہ پڑھا۔ پھر سورۂ آل عمران شروع فرمائی تو میں نے خیال کیا کہ اس کے ختم پر تو رکوع فرما ہی لیں گے۔ حضور اکرم ﷺ نے یہ سورہ ختم فرمائی لیکن رکوع نہیں فرمایااور تین مرتبہ اَللّٰھُمَّ! لَکَ الْحَمْدُ، پڑھا۔

پھر سورۂ مائدہ شروع فرمادی۔ میں نے سوچا کہ سورہ مائدہ کے ختم پر رکوع فرمائیں گے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے سورہ مائدہ کے ختم پر رکوع فرمایا تو میں نے آپ ﷺ کو رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعْظِیم پڑھتے سنا اور آپ اپنے ہونٹوں کو ہلارہے تھے(جس کی وجہ سے) میں سمجھا کہ آپ ﷺ اس کے ساتھ کچھ اور بھی پڑھ رہے ہیں۔

پھر آپ ﷺ نے سجدہ فرمایا اور میں نے آپ ﷺ کو سجدہ میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الاعْلٰی پڑھتے سنااور آپ اپنے ہونٹوں کو ہلارہے تھے(جس کی وجہ سے) میں سمجھا کہ آپ ﷺ اس کے ساتھ کچھ اور بھی پڑھ رہے ہیں جس کو میں نہیں سمجھ رہا تھا۔ پھر (دوسری رکعت میں ) سورۂ اَنعام شروع فرمائی تو میں آپ ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے چھوڑکر چلا گیا،کیونکہ میں مزید رسول اﷲ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھنے کی ہمت نہ کرسکا۔

حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک رات‘ میں حضور اکرم ﷺ کے ہمراہ نماز (تہجد) پڑھنے لگا، آپ ﷺنے اتنا لمبا قیام فرمایا کہ میرے دل میں ایک غلط چیز کا خیال آنے لگا۔ پوچھا گیا کہ کس چیز کا خیال آنے لگا۔ تو حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ خیال آیا کہ بیٹھ جاؤں یا نماز کو چھوڑ دوں کیونکہ میں حضور اکرم ﷺ کے ساتھ اتنی لمبی نماز پڑھنے کی ہمت نہیں کرپارہا تھا۔

(بخاری و مسلم)
حضرت عبد اﷲ بن شخیررضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اکرم ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔ آپ ﷺ کے سینہ مبارک سے رونے کی ایسی مسلسل آواز آرہی تھی جیسے چکّی کی آواز ہوتی ہے۔

(ابوداود )
حضور اکرم ﷺ اپنی نفل نماز میں قیام، رکوع اور سجدے بہت لمبے لمبے کیا کرتے تھے اور قرآن کریم کی تلاوت بھی بہت اطمینان سے کیا کرتے تھے حتی کہ آپ ﷺ کے پاؤں مبارک پر ورم آجاتا مگر جماعت کے ساتھ آپ مقتدیوں کی رعایت کرتے ہوئے زیادہ لمبی نماز نہیں پڑھاتے تھے۔
حضور اکرم ﷺکا نماز کے ساتھ جو خاص تعلق تھا اُس کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ مرض الوفات میں مرض کی شدت کے باوجود وفات سے چار دن پہلے یعنی جمعرات کی مغرب تک تمام نمازیں آپ ﷺ خود ہی پڑھایا کرتے تھے۔

عشاء کے وقت بیماری کی شدت کی وجہ سے مسجد جانے کی طاقت نہ رہی ، پھر بھی دو تین مرتبہ غسل کیا تاکہ صحابۂ کرام کو عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھائیں مگر ہر بار غشی طاری ہوگئی۔ بالآخر آپ ﷺ کے فرمان پر حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے نماز پڑھائی۔ ہفتہ یا اتوار کو حضور اکرم ﷺنے جب اپنی طبیعت میں بہتری دیکھی تو دو آدمیوں کے سہارے سے چل کر ظہر کی نماز ادا کرنے کے لئے مسجد تشریف لائے۔ اگلے روز دوشنبہ کو حضور اکرم ﷺ انتقال فرماگئے۔
حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺکی زبان مبارک سے نکلا آخری کلام (نماز، نماز اور غلاموں کے بارے میں اﷲ سے ڈرو ) تھا۔

(ابو داود)

ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے آخری وصیت یہ ارشاد فرمائی: نماز، نماز ، اپنے غلاموں (اور ماتحت لوگوں) کے بارے میں اﷲ سے ڈرو، یعنی ان کے حقوق ادا کرو۔ جس وقت آپ ﷺ نے یہ وصیت فرمائی، آپ ﷺکی زبان مبارک سے پورے لفظ نہیں نکل رہے تھے۔

(مسند احمد)
غرض حضور اکرم ﷺ نے زندگی کے آخری لمحات تک نماز کا اہتمام فرمایا اور امت کو بھی آخری وقت میں نماز کے اہتمام کرنے کی وصیت فرماگئے، یہ صرف نماز کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کا خاص تعلق اور شغف کا ہی نتیجہ تھا۔ اﷲ تعالیٰ ہم کو بھی آخری وقت تک نمازوں کا اہتمام کرنے والا بنائے۔ آمین۔
اﷲ تعالیٰ نے حضور اکرم ﷺ کو رحمۃ للعالمین بناکر مبعوث فرمایا ہے، اس لئے آپ ﷺ اپنی امت کی تکلیفوں کی بہت فکر کرتے تھے، مگر نماز میں سستی وکاہلی کرنے والے کے متعلق حضور اکرم ﷺ کے ارشادات بہت سخت ہیں۔ اُس نبی رحمت کے چند ارشادات پیش خدمت ہیں جن کا ہم نام لیتے ہیں تاکہ ہم اِن ارشادات کی روشنی میں تاجدار مدینہ کی آنکھوں کی ٹھنڈک یعنی نماز کا اہتمام کریں
ہمارے (اہل ایمان) اور ان کے (اہل کفر)کے درمیان فرق کرنے والی چیز نماز ہے، لہذا جس نے نماز چھوڑدی اس نے کفر کیا۔

(مسند احمد، ابوداود، نسائی، ترمذی، ابن ماجہ)

نماز کا چھوڑنا مسلمان کو کفر وشرک تک پہنچانے والا ہے۔

(صحیح مسلم)

جان کر نماز نہ چھوڑو، جو جان بوجھ کر نماز چھوڑدے وہ مذہب سے نکل جاتاہے۔

(طبرانی)

جو شخص فرض نماز چھوڑ کر سوتا رہتا ہے اُس کا سر (قیامت کے دن) پتھر سے کچلا جائے گا۔

(بخاری)

میں چاہتا ہوں کہ کسی کو نماز پڑھانے کا حکم دوں، پھر جمعہ نہ پڑھنے والوں کو اُن

کے گھروں سمیت جلا ڈالوں۔

(مسلم)

جس شخص نے تین جمعہ غفلت کی وجـہ سے چھوڑ دئے، اﷲ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دیتے ہیں۔

(نسائی، ترمذی)
اب رحمۃ للعالمین کے اُن فرمان کو بھی بغور پڑھیں جن میں نماز کا اہتمام کرنے پر دنیا وآخرت کی کامیابی قرار دی ہے۔
حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اﷲ تعالیٰ نے بندوں پر پانچ نمازیں فرض فرمائی ہیں، جو ان نمازوں کو اس طرح لے کر آئے کہ ان میں لاپرواہی سے کسی قسم کی کوتاہی نہ کرے تو حق تعالیٰ شانہ کا عہد ہے کہ اُس کو جنت میں ضرور داخل فرمائیں گے۔ اور جو شخص ایسا نہ کرے تو اﷲ تعالیٰ کا کوئی عہد اس سے نہیں، چاہے اس کو عذاب دیں چاہے جنت میں داخل کردیں ۔

(موطا مالک، ابن ماجہ، ابوداود ، مسند احمد)

حضور اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا: قیامت کے دن آدمی کے اعمال میں سے سب سے پہلے فرض نماز کا حساب لیا جائے گا، اگر نماز درست ہوئی تو وہ کامیاب وکامران ہوگا، اگر نماز درست نہ ہوئی تو وہ ناکام اور خسارہ میں ہوگا اور اگر نماز میں کچھ کمی پائی گئی تو ارشادِ خداوندی ہوگا کہ دیکھو اس بندے کے پاس کچھ نفلیں بھی ہیں جن سے فرضوں کو پورا کردیا جائے، اگر نکل آئیں تو ان سے فرضوں کی تکمیل کردی جائے گی۔

(ترمذی، ابن ماجـہ، نسائی، ابو داود، مسند احمد)

آپ ﷺ نے چودہویں کے چاند کو دیکھا تو فرمایا: تم اپنے رب کو ایسے ہی دیکھوگے جیسے اس چاند کو دیکھ رہے ہو، تمہیں ذرا بھی شک وشبہ نہ ہوگا، لہذا تم سورج کے طلوع اور غروب ہونے سے قبل کی نمازوں (یعنی فجر اور عصر) کا ضرور اہتمام کرو۔ پھر آپ ﷺنے یہ آیت تلاوت فرمائی : سورج کے طلوع اور غروب ہونے سے پہلے اپنے رب کی پاکی بیان کر۔

(بخاری ومسلم)

حضور اکرم ﷺ کے اِس فرمان سے معلوم ہوا کہ نمازوں کی پابندی، خاص کر فجر وعصر کی نمازوں کے اہتمام سے جنت میں اﷲ تعالیٰ کا دیدار ہوگاجو جنت کی نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت ہے۔
حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص نماز کا اہتمام کرتا ہے تو نماز اس کے لئے قیامت کے دن نور ہوگی، اس (کے پورے ایماندار ہونے) کی دلیل ہوگی اور قیامت کے دن عذاب سے بچنے کا ذریعہ ہوگی۔ اور جو شخص نماز کا اہتمام نہیں کرتا اس کے لئے قیامت کے دن نہ نور ہوگا، نہ(اس کے پورے ایماندار ہونے کی) کوئی دلیل ہوگی، نہ عذاب سے بچنے کا کوئی ذریعہ ہوگا۔ اور وہ قیامت کے دن فرعون، قارون، ہامان اور ابی بن خلف کے ساتھ ہوگا۔

(صحیح ابن حبان، مسند احمد، طبرانی، بیہقی)
حضوراکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص فجر کی نمازپڑھتا ہے وہ اﷲ تعالیٰ کی حفاظت میں آجاتا ہے ( لہذا اُسے نہ ستاؤ) اور اس بات کا خیال رکھو کہ اﷲ تعالیٰ اپنی حفاظت میں لئے ہوئے شخص کو ستانے کی وجـہ سے تم سے کسی چیز کا مطالبہ نہ فرمائیں کیونکہ جس سے اﷲ تعا لیٰ اپنی حفاظت میں لئے ہوئے شخص کے بارے میں مطالبہ فرمائیں گے اس کی پکڑ فرمائیں گے پھر اسے اوندھے منہ جـہنم کی آگ میں ڈالدیں گے۔

(مسلم)
حضور اکرم ﷺ کا نماز سے شغف اور تعلق اتنا زیادہ تھا کہ ساری کائنات میں سب سے افضل واعلیٰ حضور اکرم ﷺ کی قیمتی زندگی کا اچھا خاصہ وقت اﷲ جل شانہ کے سامنے قیام، رکوع اور سجدہ کی حالت میں گزرا۔ اﷲ تعالیٰ ہم سب کو حضور اکرم ﷺ سے سچی محبت کرنے والا، آپ ﷺ کی پاک سنتوں پر عمل کرنے والا اور نبی رحمت کی آنکھوں کی ٹھنڈک یعنی نماز کا اہتمام کرنے والا بنائے، آمین۔

اگر ہم نماز تہجد اور دیگر نوافل کا اہتمام نہیں کرسکتے ہیں تو گنجائش ہے لیکن کم از کم ہر مسلمان کو پانچوں فرض نمازیں ضرور بالضرور پڑھنی چاہئیں، نیز ہر شخص کو اپنی ذات سے نمازکی ادائیگی کے ساتھ اس بات کی فکرکرنی چاہئے کہ ہماری اولاد، ہمارے گھر والے اور دوست واحباب ومتعلقین بھی پانچوں فرض نمازوں کی ادائیگی کرنے والے بن جائیں اور مرد حضرات فرض نماز جماعت کے ساتھ اور خواتین گھروں میں خشوع وخضوع کے ساتھ ادا کرنے والی بنیں کیونکہ تمام علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ فرض نماز جان بوجھ کر چھوڑنا بہت بڑا گناہ ہے۔ شریعت اسلامیہ میں زنا کرنے، چوری کرنے اور شراب پینے سے بھی بڑا گناہ‘ نماز کا چھوڑنا ہے

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں