نماز دین کا ستون حصہ اول

قرآن وحدیث کی روشنی میں امت مسلمہ متفق ہے کہ تمام ابنیاء ورسل کے سردار، کائنات میں سب سے افضل واعلیٰ بشر اور قیامت تک آنے والے تمام انس وجن کے نبی حضور ا کرم ﷺ کی نبوت کے بعد کی زندگی کا وافر حصہ نماز میں گزرا ۔

ﷲ تعالیٰ نے خود قرآن کریم ( سورۃ المزمل) میں بیان کیا ہے کہ نبی دو تہائی رات یا کبھی آدھی رات یا کبھی ایک تہائی رات روزانہ نماز تہجد پڑھا کرتے تھے۔ ساری انسانیت کے نبی حضور اکرم ﷺ کا نماز کے ساتھ جو گہرا تعلق تھا اور نمازمیں جو آپ ﷺ کی حالت اور کیفیت ہوا کرتی تھی، اُس کا اندازہ سیرت کی کتابوں سے ادنی سی واقفیت رکھنے والا شخص بھی کرسکتا ہے کہ حضور اکرمﷺراتو ں کو کتنی لمبی لمبی نمازیں ادا کرتے تھے۔

یہ نماز کے ساتھ خاص شغف اور تعلق کا ہی نتیجہ تھا کہ حضور اکرم ﷺ پانچ فرض نمازوں کے علاوہ دیگر سنن ونوافل، نماز تہجد، نماز اشراق، نماز چاشت، تحیۃ الوضوء اور تحیۃ المسجد کا بھی اہتمام فرماتے۔ اور پھر خاص خاص مواقع پر نماز ہی کے ذریعہ اﷲ تعالیٰ سے رجوع فرماتے۔ سورج گرہن یا چاند گرہن ہوتا تو مسجد تشریف لے جاکر نماز میں مشغول ہوجاتے۔

سفر سے واپسی ہوتی تو پہلے مسجد تشریف لے جاکر نماز ادا کرتے۔ اس لئے ہمیں بھی چاہئے کہ اپنے نبی کی اتباع میں نمازوں کا خاص اہتمام کریں۔ ﷲ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس اہم اور بنیادی فریضہ کو کثرت سے بیان کیا ہے۔ صرف قرآن پاک میں تقریباً سات سو مرتبہ، کہیں اشارۃ ً اور کہیں صراحۃً مختلف عنوانات سے نماز کا ذکر ملتا ہے۔
اﷲ تعالیٰ کا پیار بھرا خطاب حضور اکرم ﷺ سے ہے کہ آپ رات کے بڑے حصہ میں نماز تہجد پڑھا کریں: (اے چادر میں لپٹنے والے! رات کا تھوڑا حصہ چھوڑکر باقی رات میں (عبادت کے لئے) کھڑے ہوجایا کرو۔ رات کا آدھا حصہ یا آدھے سے کچھ کم یا اُس سے کچھ زیادہ اور قرآن کی تلاوت اطمینان سے صاف صاف کیا کرو)۔

( سورۃ المزمل:۱۔۴)

اسی طرح سورۃ المزمل کی آخری آیت میں اﷲ رب العزت فرماتا ہے: (اے پیغمبر!) تمہارا پروردگار جانتا ہے کہ تم دو تہائی رات کے قریب اور کبھی آدھی رات اور کبھی ایک تہائی رات (تہجد کی نماز کے لئے) کھڑے ہوتے ہو اور تمہارے ساتھیوں (صحابۂ کرام) میں سے بھی ایک جماعت (ایسا ہی کرتی ہے)۔
ابتداء اسلام میں پانچ نمازوں کی فرضیت سے قبل تک نماز تہجد حضور اکرم ﷺ اور تمام مسلمانو ں پر فرض تھی، چنانچہ آپﷺ اور صحابۂ کرام رات کے ایک بڑے حصہ میں نماز تہجد پڑھا کرتے تھے۔ پانچ نمازوں کی فرضیت کے بعد نماز تہجد کی فرضیت تو ختم ہوگئی مگر اس کا استحباب باقی رہا، یعنی اﷲ اور ا س کے رسول نے بار بار امت مسلمہ کو نماز تہجد پڑھنے کی ترغیب دی

چنانچہ قرآن کریم میں فرض نماز کے بعد نماز تہجد ہی کا ذکر متعدد مرتبہ آیا ہے۔ علماء کی ایک جماعت کی رائے ہے کہ پانچ نمازوں کی فرضیت کے بعد نماز تہجد عام مسلمانوں کے لئے تو فرض نہ رہی لیکن حضور اکرم ﷺ پر آخری وقت تک فرض رہی۔
حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اکرم ﷺرات کو قیام فرماتے یعنی نماز تہجد ادا کرتے یہاں تک کہ آپ کے پاؤں مبارک میں ورم آجاتا۔

(صحیح بخاری)

ذاتی تجربات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک دو گھنٹے نماز پڑھنے سے پیروں میں ورم نہیں آتا ہے بلکہ رات کے ایک بڑے حصہ میں اﷲ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہونے، طویل رکوع اور سجدہ کرنے کی وجہ سے ورم آتا ہے، چنانچہ سورۃ البقرہ اور سورۃ آل عمران جیسی لمبی لمبی سورتیں آپﷺ ایک رکعت میں پڑھا کرتے تھے اور وہ بھی بہت اطمینان وسکون کے ساتھ۔
سورۃ المزمل کی ابتدائی آیات، آخری آیت، مذکورہ حدیث اور دیگر احادیث سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آپﷺ رات کا دو تہائی یا آدھا یا ایک تہائی حصہ روزانہ نماز تہجد پڑھا کرتے تھے۔اس فرمان الہی سے معلوم ہوا کہ اﷲ تعالیٰ کی تعلیمات تمام رسل وانبیاء کرام کے سردار وتاجدار مدینہ حضور اکرم ﷺ کے متعلق یہی تھیں کہ آپ نماز سے اپنا خاص تعلق وشغف رکھیں۔ چنانچہ حضور اکرم ﷺ کے ارشادات بھی اس کی گواہی دے رہے ہیں۔
حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میری آنکھوں کی ٹھنڈک نمازمیں رکھی گئی ہے۔

(مسند احمد، نسائی)

اسی طرح جب نماز کا وقت ہوتا تو آپ ﷺ مسجد نبوی کے مؤذن حضرت بلال رضی اﷲ عنہ

سے ارشاد فرماتے: اے بلال ! اٹھو، نماز کا بندوبست کرکے ہمارے دل کو چین اور آرام پہنچاؤ ۔

(مسند احمد، ابوداود)

حضور اکرم ﷺ کے مذکورہ ارشادات سے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ کو نماز کی ادائیگی سے راحت اور سکون ملتا تھا۔ لہٰذا ہمیں بھی چاہئے کہ ہم اپنے نبی کی اقتدا میں نماز سے ایسا شغف اور تعلق پیدا کریں کہ نماز کی ادائیگی کے بغیر ہمیں سکون اور راحت نہ مل سکے۔
حضور اکرم ﷺ کا نماز کے ساتھ گہرے تعلق کا واضح اندازہ اس سے بھی ہوتا ہے کہ ہجرت سے قبل آپ ﷺکو مکہ والوں نے طرح طرح سے ستایا، انھوں نے آپ پر ظلموں کے پہاڑ توڑے۔ چنانچہ کبھی آپ کی گردن میں چادر کا پھندا ڈالا گیا، کبھی آپ کے اوپر اونٹنی کی اوجھڑی اور گھر کا کوڑا ڈالا گیا، طائف میں آپ پر پتھر برسائے گئے ، اسی طرح جنگ اُحد میں دشمنوں نے آپ کو زخمی کیا مگر آپ ﷺنے ان کے حق میں ایک مرتبہ بھی بددعا نہیں کی، لیکن غزوۂ خندق کے موقع پر جب دشمنوں نے مدینہ منورہ پر چڑھائی کر رکھی تھی ،ایک دن آپ ﷺ کو عصر کی نماز‘ سورج کے غروب ہونے تک پڑھنے کی مہلت نہیں ملی تو آپﷺ نے اُن دشمنان اسلام کے لئے اتنی سخت بددعا دی کہ ایسی سخت بددعا کسی دوسرے موقع پر آپ ﷺنے نہیں دی۔ چنانچہ آپ ﷺنے فرمایا: ان لوگوں نے ہمیں عصر کی نماز نہیں پڑھنے دی، اﷲ ان کے گھروں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھر دے۔

( بخاری، مسلم)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اکرم ﷺ رات کو قیام فرماتے یہاں تک کہ آپ کے پاؤں مبارک میں ورم آجاتا۔ میں نے آپﷺ سے عرض کیا : اے اﷲ کے رسول! آپ کے تمام اگلے پچھلے گناہ (اگر ہوتے بھی تو) معاف کردئے گئے ہیں، پھر آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا میں اپنے پروردگار کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔

(بخاری)
حضرت عطاء ؒ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے عرض کیا کہ حضور اکرم ﷺ کی کوئی عجیب بات جو آپ نے دیکھی ہو وہ سنادیں۔ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا کہ حضور اکرم ﷺ کی کون سی بات عجیب نہ تھی۔ ایک رات میرے پاس تشریف لائے اور میرے ساتھ میرے لحاف میں لیٹ گئے

پھر فرمانے لگے: چھوڑو، میں تو اپنے رب کی عبادت کروں۔ یہ فرماکر بستر سے اٹھے، وضو فرمایا پھر نماز کے لئے کھڑے ہوگئے اور رونا شروع کردیا یہاں تک کہ آنسو سینہ مبارک تک بہنے لگے۔ پھر رکوع فرمایا، اُس میں بھی اسی طرح روتے رہے۔ پھر سجدہ فرمایا، اس میں بھی روتے رہے، پھر سجدہ سے اٹھے اور اسی طرح روتے رہے یہاں تک کہ حضرت بلال رضی اﷲ عنہ نے صبح کی نماز کے لئے آواز دی۔

میں نے عرض کیا یا رسول اﷲ! آپ اتنا کیوں رو رہے ہیں جب کہ آپ کے اگلے پچھلے گناہ (اگر ہوتے بھی تو) اﷲ تعالیٰ نے معاف فرمادئے ہیں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تو کیا پھر میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟

تبصرے

comments