خلوص نیت

دین اسلام دین فطرت ہے ۔جس کی تعلیمات میں ہمارے لیے بیش بہارحمتیں و برکتیں ہیں ۔جو ان پر عمل کرتا ہے وہ اس کے فیوض و برکات سے بہرہ مند ہوتا ہے ۔ نہایت ہی آسان طرز زندگی کا درس اسلام کی اولین تعلیمات میں سے ہے ۔بس تھوڑی سی محنت اور ڈھیر وں انعامات ۔یہ ہم مسلمانوں پر رب کا فضل ہے ۔مسلمان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرے تاکہ زیادہ سے زیادہ ثواب کا مستحق بنے ۔
ہم روزہ مرہ زندگی میں بہت سے کام کررہے ہوتے ہیں لیکن اگر ہم ان کاموں کو منظم انداز میں ترتیب دیں اور ان میں اچھی نیت بھی شامل کرلیں تو وہی کام جو ہم برسا برس سے کررہے ہوتے ہیں وہی کام ہمارے لیے اس نیت کی بدولت ڈھیروں ثواب کا باعث بن جاتا ہے ۔
ہمارے آقا مصطفی ﷺ نیت کے متعلق فرماتے ہیں :’’مسلمان کی نیّت اُس کے عمل سے بہتر ہے۔

کس قدر پیاری بات ہے کہ مسلمان کی نیت کی اس کے عمل سے بہتر۔اسی طرح ایک اور حدیث مبارکہ سنئیے اور جھوم اُٹھیے !سرکارِمدینہ راحب قلب و سینہ ﷺ فرماتے ہیں ’’اچّھی نیّت بندے کو جنّت میں داخِل کرے گی۔

(اَلْفِردَوس )
جنّت جس کی خاطر مجاہدے ،عبادت و ریاضت کی جاتی ہے ۔اس جنّت کے حصول کا ذریعہ اچھی نیت ہے ۔یعنی نیت ہماری اچھی نیت ہمارے لیے ثواب بڑھانے ،نیکیاں کمانے کا گویا مجرب نسخہ ہے ۔
ہم پر رب کا کتنا فضل وکرم ہے ۔کہ ہمیں ہماری نیت پر ہمیں اس قدر ثواب سے نوازا جارہا ہے ۔
ایک اور حدیث مبارکہ سنیے اورجس کو سن کر آپ کا ایما ن تازہ ہوجائے گا۔’’جس نے نیکی کا ارادہ کیا پھر اُسے نہ کیاتو اُس کے لیے ایک نیکی لکّھی جائے گی ۔

( مُسلِم )
حکایت :کسی بُزُرگ رَحْمَۃُ اﷲِ تعالٰی علیہ نے اپنی حیات کے آخِری لمحات میں حاضِرین سے فرمایا : میرے ساتھ مل کر حّج کی نیّت کرو،جِہاد کی نیّت کرو اوراس طرح ایک ایک کرکے مختلف نیکیوں کے نام گنوانے لگے۔

عرض کی گئی :حُضُور!اس حالت میں نیّتیں ؟ فرمایا : اگر ہم زندہ رہے تو اِن نیّتوں پر عمل کریں گے اور فوت ہوگئے تو نیّتوں کا ثواب تو مِل ہی جائے گا۔
نیت ہی کے متعلق فتاوٰی رضویہ بہت ہی عمدہ بات نقل فرماتے ہے ۔
اگر آپ غور کریں تو آپ سمجھ جائیں گے کہ اعمال کا دار مدار نیتوں پر ہے ، نیت کی درستگی عمل کی درستگی ہے اور اگر کہیں نیت میں بگاڑہے تو اس پر استوار ہونے والا عمل بھی ضائع ہو جائے گا۔ نیت کسی عمل کی اساس اور بنیاد کو کہتے ہیں

جیسا کہ عربی کا جملہ ہے ’’اَکَلْتُ التَّمرَۃَ وَلَفَظتُ النَّوَاۃَ (میں نے کھجور کھائی اور اس کی گٹھلی پھینک دی )نیت عربی کے کلمہ نواۃ سے ماخوذ ہے جس کے معنی گٹھلی کے ہیں، جیسی گٹھلی ویسا درخت بعینہ جیسی نیت ویسا پھل۔
نیت کے بغیر اخلاص کا تصور ناممکن ہے اور یہی وجہ ہے کہ اعمال میں نیت ضروری ہے جس کے بغیر عمل قابل قبول نہیں خواہ وہ عمل نماز کی طرح بذات خود مطلوب ہو یا نماز کی ادائیگی کے لیے وضوکی طرح بطور ذریعہ مطلوب ہو، ہر ایک کے لیے نیت ضروری ہے ۔

ایک انتہائی قابل غوربات یہ ہے کہ نیت کتنی بھی مخلص کیوں نہ ہو وہ بے حیائی کو اچھائی ، بدی کو نیکی اور بدعت کو سنت نہیں بنا سکتی ۔ اخلاصِ نیت کے ساتھ عمل ِصالح ناگزیر ہے گویاکہ نیکی کی معراج تک پہنچنے کے لیے عمل صالح اوراخلاص نیت لازم و ملزوم ہیں۔

نیت ایک ایسی کسوٹی ہے جوجہاں دو مختلف النوع عبادات میں فرق کرتی ہے ۔ وہاں عادت اورعبادت میں بھی فرق کرتی ہے ۔دو مختلف النوع عبادت میں تفریق کی مثال یہ ہے کہ فجر کی دو سنتوں اور دو فرضوں کے درمیان فرق صرف نیت کی بنیاد پر ہوتا ہے ۔عبادت اور عادت کے درمیان فرق بھی نیت سے ہی ہوتا ہے جیسا کہ غسل جنابت جو کہ واجب ہے اور غسل عادت جو گرمی سے ٹھنڈک کے حصول کے لیے ہو یا عموماً روزانہ کا معمول بن جائے کے درمیان بھی نیت ہی معیار تفریق ہے ۔
عمل صالح تب قبول ہو گا جب اس کی بنیاد اخلاص اور ثواب پر ہو۔ اخلاص سے مراد یہ ہے کہ وہ عمل ریاکاری اور دکھلاوے سے پاک اورفقط رضائے الہٰی کے حصول کے لیے ہواور صواب سے مراد وہ عمل بدعات و خرافات سے پاک اورسنت کے مطابق ہو، کیوں کہ نیکی صرف اخلاص نیت اور سنت رسول کے مطابق عمل کا نام ہے ۔اﷲ عزوجل !ہمیں اچھی نیتیں اوران پرعمل صالح کی توفیق عطافرمائے ۔آمین

تبصرے

comments