مبلغین اسلام کا عالمی تبلیغی اجتماع (دوسرا حصہ)

ہمارے تبلیغی کام میں اخلاص، صدقِ دل کے ساتھ اجتماعیت اور مل جل کر باہمی مشورے کے ساتھ کام کرنے کی بڑی ضرورت ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ جس کام میں بھی جان و مال اور وقت یہ تین قیمتی چیزیں خرچ ہو جائیں تو وہ کام بھی قیمتی ہو جاتاہے۔

تبلیغی جماعت بھی آج دعوت و تبلیغ کے اس مقدس کام میں جان و مال اور وقت لگا کر یہ کام پوری دنیا میں کرنے اور پھیلانے میں مصروف ہے۔

مولانا الیاس نے اس دعوت و تبلیغ والے کام کے طریقہ کار اور چھ اصولوں کے علاوہ کچھ مطالبے اور دینی تقاضے بھی رکھے ہیں جس کے تحت اس دعوت و تبلیغ والے کام کی محنت و ترتیب اور مشورہ کے لیے روزانہ کچھ وقت دینا، ذکر و اذکار اور اعمال و افعال میں دین اسلام کی پابندی کرنا، ہفتہ ایک بار گشت سے علاقہ کے لوگوں سے ملنا، کچھ وقت نکال کر اپنے ماحول میں ضروریات دین کی تبلیغ کیلئے باقاعدہ جماعت بنا کرایک امیر اور ایک نظام کی ماتحتی میں اپنی جگہ اور قرب و جوار میں تبلیغی گشت کرنا، ہر مہینے میں تین دن اس دعوت و تبلیغ والے کام میں لگاتے ہوئے اپنے شہر یا قرب و جوار میں اس دعوت و تبلیغ والے کام پر نکلنے کیلئے آمادہ اور تیار کرنا، سال میں چالیس دن اﷲ کے راستے میں دعوت و تبلیغ کیلئے لگانا، اور پھر چار مہینے کے لئے اﷲ کے راستے میں نکل کردین اور اس دعوت و تبلیغ والے کام کو سیکھے اور پھر ساری زندگی اسی کام میں صرف کرنا۔

مولانا محمد الیاس نے اس دعوتی سفر اور نقل و حرکت کے ایام کا ایک مکمل نظام الاوقات مرتب کیا جس کے تحت یہ تبلیغی جماعتیں اپنا وقت گزارتی ہیں ایک وقت میں گشت، ایک وقت میں اجتماع، ایک وقت میں تعلیم، ایک وقت میں حوائج ضروری کا پورا کرنا اور پھر ان سارے کاموں کی ترتیب و تنظیم ، گویا کہ یہ تبلیغی جماعت ایک چلتی پھرتی اخلاقی و دینی تربیت گاہ بن جاتی ہے ۔

مولانا الیاس فرماتے ہیں کہ ہمارے طریقہ کار میں دین کے واسطے جماعتوں کی شکل میں گھروں سے دور نکلنے کو بہت زیادہ اہمیّت حاصل ہے، اس کا خاص فائدہ یہ ہے کہ آدمی اس کے ذریعے اپنے دائمی اور جامد ماحول سے نکل کر ایک نئے صالح اور متحرک دینی ماحول میں آجاتا ہے اور پھر اس دعوت و تبلیغ والے سفر اور ہجرت کی وجہ سے جو طرح طرح کی تکلیفیں اور مشقتیں پیش آتی ہیں اور در بدر پھرنے میں جو ذلتیں اﷲ کے لیے برداشت کرنا ہوتی ہیں ان کی وجہ سے اﷲ کی رحمت خاص طور پر متوجہ ہوتی ہے۔

بلاشبہ اﷲ تعالیٰ سے خاص الخاص تعلق جب بنتا ہے جبکہ عزیز و رشتہ داورں کی نسبت اﷲ اور اس کے رسول صلی اﷲ علیہ و سلم تعلق مضبوط ہوتا ہے۔آج پوری دنیا میں تبلیغی جماعت اس دعوت و تبلیغ والے کام کو پوری محنت، اخلاص وﷲیت اور نظم کے ساتھ کر رہی ہے اور اس کام کے اثرات و ثمرات سے آج کوئی بھی ذی ہوش انسان انکاری نہیں اور اﷲ کی مدد و نصرت سے ناقابل یقین حد تک کامیابی ہو رہی ہے۔

دن رات اﷲ کی نافرمانی و معصیت اور فسق و فجور میں زندگی گزارنے والے افراد اس تبلیغی جماعت کی بدولت تہجد گزار، متقی، پرہیز گار اور دین کے داعی بنتے نظر آرہے ہیں۔ تبلیغی جماعت مخلوق کو مخلوق کی غلامی سے نکال کرخالق کی بندگی و غلامی میں لانے، صحابہ کرامؓ جیسی پاکیزہ صفات و عادات کو اپنانے اور پیدا کرنے، صبح جاگنے سے لے کر رات سونے تک، کھانے پینے سے لے کر حاجات تک، گویا کہ پیدا ہونے سے لے کر مرنے تک پوری زندگی میں دین لانے کی کوشش اور مخلوق سے کچھ نہ ہونے اور خالق ہی سے سب کچھ ہونے کا یقین دلوں میں پیدا کرنے میں مصروف عمل ہے۔
اﷲ تعالیٰ نے دین حق کی تبلیغ کے لئے انبیاء کرام کو بھیجا ، اور نبی کریم محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ و سلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا ۔ اب اﷲ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی گئی کتاب قرآن مجید اور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی ساری زندگی بطور نمونہ ہمارے سامنے ہے ۔نبی کریم صلی اﷲ علیہ و سلم کے بعد دین اسلام کی تبلیغ آپ کے اور ہمارے بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے ذمہ ہے۔ تبلیغی جماعت اس ضمن میں احسن خدمات سرانجام دے رہی ہے۔ ہماری اور تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ دین اسلام کی تبلیغ اور سربلندی کے لئے بڑھ چڑھ کر خدمات سرانجام دیں، تاکہ اﷲ رب العزت کی رضا اور دونوں جہانوں کی کامیابی و کامرانی ہمارا مقدر ٹھہرے۔آ مین

تبصرے

comments