مبلغین اسلام کا عالمی تبلیغی اجتماع (پہلا حصہ)

ہر طرح کے نسلی، لسانی و فرقہ وارانہ تعصب سے قطع نظر اقوام عالم میں دین اسلام کی تبلیغ و

اشاعت کے لئے، عالم اسلام کے مسلمانوں کا سالانہ اجتماع ہر سال رائے ونڈ میں منعقد ہوتا ہے ۔ بلاشبہ حج کے بعد یہ عالم اسلام کا دوسرا بڑا اجتماع ہے، جس میں لاکھوں فرزندان اسلام شرکت کرتے ہیں ۔ زبان پر ذکر الٰہی ، ذہن میں اسلام کی تبلیغ و اشاعت کی فکر ، پیشانیوں پر سجدوں کے نشان، کاندھوں پر بستر، ہاتھ میں تسبیح لیے بے شمار قافلے اپنے مخصوص انداز میں چلتے ہوئے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے شہروں ، قصبوں، دیہاتوں اور بیابانوں سے اس روح پرور اجتماع میں شرکت کرتے ہیں۔

منتظمین تبلیغی جماعت نے پاکستان بھر کے تبلیغی حلقوں کو 18 حصوں میں تقسیم کیا ہے اور ہر سال عوام کے بڑھتے ہوئے رش کے پیش نظر فیصلہ کیا ہے کہ اس سال 9 حلقوں یعنی آدھے پاکستان کا اجتماع ہوگا اور وہ بھی دو حصوں میں ہوگا۔تاکہ عوام پاکستان کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

اجتماع رائے ونڈ کا پہلا مرحلہ 5 نومبر سے شروع ہورہا ہے جوکہ 8 نومبر اتوار کی صبح تک جاری رہے گا اور 8نومبر اتوار کی صبح اجتماعی دعا ہوگی، جبکہ دوسرا مرحلہ 12 نومبر سے شروع ہوگا اور15 نومبر اتوار کے دن اختتامی اجتماعی دعا ہوگی۔ اجتماع میں ملکی، سرحدی، صوبائی امتیازات، قومی لسانی تعصبات اور گروہ بندیاں سب یہاں خاک میں مل جاتے ہیں

یہاں سب بحیثیت مسلمان، امیر و غریب، حاکم و محکوم، پنجابی و پٹھان، بلوچی و سندھی، گورا ہو یا کالا، عربی ہو یاعجمی، رنگ و نسل کے اختلافات سے بے نیاز ہو کر اﷲ تعالیٰ کے حضور گڑگڑاتے اور سجدہ ریز ہو کر پوری دنیا کے انسانوں کی ہدایت کے لئے دعا، اور تبلیغ کے موثر طریقہ کار پر حکمت عملی مرتب کرتے ہیں۔
بانی تبلیغی جماعت مولانا محمد الیاس نے جب اپنے گردوپیش کا جائز ہ لیا تو ہر طرف دین سے دوری عقائد کی خرابی اور اعمال و عقائد کا بگاڑ دیکھا کہ لوگ جہالت و گمراہی کے ’’بحرظلمات‘‘ میں ڈوبے ہوئے ہیں تووہ اس سلسلہ میں متفکر و پریشان دیکھائی دینے لگے، آپ نے محسوس کیا کہ عام دینداری جو پہلے موجود تھی اب ختم ہوتی اور سمٹتی چلی جا رہی ہے، پہلے یہ دین داری خواص تک اور مسلمانوں کی ایک خاص تعداد میں رہ گئی تھی پھر اس کا دائرہ اس سے بھی تنگ ہوا اور ’’اخص الخواص‘‘ میں یہ دینداری باقی رہ گئی ہے

جہاں پہلے علم و عمل کی قندیلیں روشن رہتی تھیں اب وہ بے نورتھیں، دوسری بات انہوں نے یہ محسوس کی کہ علم چونکہ ایک خاص طبقہ تک محدود رہ گیا ہے اس لیے آپ یہ چاہتے تھے کہ عوام الناس میں پھر سے دینداری پیدا ہو، خواص کی طرح عوام میں بھی دین کی تڑپ اور طلب پیدا ہو، ان میں دین سیکھنے سکھانے کا شوق و جذبہ انگڑائیاں لے، اس کے لیے وہ ضروری سمجھتے تھے کہ ہر ایک کھانے، پینے اور دیگر ضروریات زندگی کی طرح دین سیکھنے او اس پر عمل کرنے کو بھی اپنی زندگی میں شامل کیا جائے

اور یہ سب کچھ صرف مدارس و مکاتب اور خانقاہی نظام سے نہیں ہوگا کیونکہ ان سے وہی فیضیاب ہو سکتے ہیں جن میں پہلے سے دین کی طلب ہواور وہ اس کا طالب بن کر خود مدارس و مکاتب اور خانقاہوں میں آئیں مگر ظاہر ہے کہ یہ بہت ہی محدود لوگ ہوتے ہیں

اس لیے مولانا الیاس ضروری سمجھتے تھے کہ اس ’’دعوت و تبلیغ‘‘ کے ذریعہ ایک ایک دروزاہ پر جا کر اخلاص کے ساتھ منت و سماجت اور خوشامد کر کے ان میں دین کی طلب پیدا کی جائے کہ وہ اپنے گھروں اور ماحول سے نکل کر تھوڑا سا وقت علمی و دینی ماحول میں گزاریں تاکہ ان کے دل میں بھی سچی لگن اور دین سیکھنے کی تڑپ پیدا ہو

اور یہ کام اسی دعوت والے طریقہ سے ہوگا جو طریقہ اور راستہ انبیاء کرام علیہم السلام کاتھا اور جس پر چلتے ہوئے صحابہ کرامؓ کو پوری دنیا پر اسلام کو غالب کرنے میں کامیابی ہوئی اور پھر جب اس دعوت و تبلیغ سے عام فضا دینی بنے گی تو لوگوں میں دین کی رغبت اور اس کی طلب پیدا ہوگی تو مدارس و خانقاہی نظام اس سے کہیں زیادہ ہوگا۔

اور پھر مولانا محمد الیاس خود سراپا دعوت بن کر ’’دعوت و تبلیغ ‘‘ والے کام کو لے کر بڑی دلسوزی کے ساتھ دیوانہ وار ’’میوات‘‘ کے ہر علاقہ میں پھرے ہر ایک کے دامن کو تھاما، ایک ایک گھر کے دروازہ پر دستک دی ، دین کے لئے محنت کی اور فاقے برداشت کیے، گرمی و سردی سے بے پرواہ ہو کر تبلیغی گشت کئے اور بے چین و بے قرار ہو کر راتوں کواﷲ رب العزت کے حضور روتے گڑگڑاتے اور دعا کرتے اور پھر اپنی ہمت و طاقت ، مال ودولت سب کچھ ان میواتیوں پر اور ان کے ذریعے اس تبلیغی کام پر لگا دیا۔

ا ور پھر ایک ایک گھر سے ایک ہی وقت میں کئی کئی افراد دین کے کام کے لیے باہر نکلنے لگے اور پھر وہ وقت بھی آیا کہ ابتداء میں یہی میواتی لوگ جن کو اپنے گھر اور گاؤں سے نکلنا مشکل تھا اب وہ مولانا الیاس کی محنت سے اس دعوت و تبلیغ کی فکر لے کر ملک ملک، شہر شہر دین کی خاطر پھرنے لگے۔

مولانا الیاس کی یہ عالمگیراحیائے اسلام کی تحریک کوئی معمولی کام اور تحریک نہیں بلکہ یہ پورے دین کو عملی طور پر زندگی میں نفاذ کی تحریک تھی۔ جماعت کے بانی مولانا الیاس فرماتے ہیں کہ ہماری جماعت اور تحریک کا ایک خاص مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو حضوراکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کا لایا ہوا دین پورا کا پورا سکھا دیں، رہی تبلیغی قافلوں کی چلت پھرت، تو یہ اس مقصد کے لیے ابتدائی ذریعہ ہے اور کلمہ و نماز کی تلقین گویا ہمارے پورے نصاب کی الف، ب، ت ہے۔

ہماری تبلیغی تحریک کا ایک خاص مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کے سارے کے سارے جذبات پر دین کے جذبہ کو غالب کر کے اور اس راستہ سے مقصد کی دعوت کو پیدا کرتے ہوئے اور پوری قوم کو اس حدیث کے مصداق بنایا جائے ۔

تبصرے

comments