عورتوں کا وقار پردہ میں ہے

عورتوں کی پناہ گاہ تاریخ مذہب میں اگر کہیں پائیں گے تو وہ صرف دامنِ اسلام میں ہے۔ اسلام ہی اس بھولی بھالی مخلوق کا از ابتدا تا انتہا حامی ہے۔

جو ہمیشہ سے مشق نشانہ، ستمِ مرد بنی رہی ہے۔ آپ ابتدا سے اخیر تک مذاہبِ عالم کی تاریخ پڑھ ڈالیں ہر جگہ آپ کو عورت مردوں کی خواہشِ نفسانی اور تعیش کا آلہ کار ملے گی۔ گویا وہ ایک کھلونا ہے۔ یا مردوں کی تفریح گاہ۔
اسلام میں عورتوں کا وقار: اسلام نے عورتوں کو نہ محض قیادت بخشی بلکہ اُن کو ہر جائز حقْ دِلایا اور ان کی پوزیشن ان کی شخصیت و منزلت کو اتنا بلند کر دیا جس سے زائد ممکن نہ تھا۔ یہ اﷲ ہی کا فضل ہے اور اسلام ہی کے طفیل عورتوں کو اپنے جائز حقوق کی شناخت ہو سکی۔ (کیونکہ اﷲ نے عورتوں کو حقوق دیئے) ورنہ عورتوں کو یہ بھی معلوم نہ تھا کہ اس وسع دنیا میں قدرت کی طرف سے عورت بھی کچھ حقوق لے کر آئی ہے۔

عورتوں کا وقار پردہ میں ہے: مولائے رحیم کا حکم ہے

سورۃ احزاب سورۃ نمبر 23 آیت نمبر 29پارہ 21 رکوع 19

یٰنِسَاءَ النَّبیِّ مَن یّاْتِ مِنْکُنِ بفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃٍیُّضٰعَفْ لَھَا الْعَذَابُ ضِعْفَیْنِ ط وَ کَانَ ذٰلِکَ عَلَی الّٰلہِ یَسِیْرًا

ترجمہ: ( اے نبی کی بیویوں) جو تم میں صریح حیا کے خلاف کوئی جرات کرے اس پر اوروں سے دونا عذاب ہوگا اور یہ اﷲ کو اسان ہے

(ترجمہ: کنزالایمان)

جب اُمہاتُ المومنین کو حیا اور پردہ کا حکم دیا گیا ہے تو آپ سبھی بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پردہ کی اہمیت کیا ہے۔قرآن نے پردے کا بار بار حکم دیا مگر زیادہ تر عورتیں بے پردہ رہنا پسند کرتی ہیں۔ جبکہ وہ شاید اس حقیقت سے ناواقف نہیں کہ اچھا حُسن وہی ہے جو پردے میں رہے۔ تب ہی اس کی اہمیت کا اندازہ اور قدر و منزلت کا انکشاف ہوتا ہے۔

لیکن آج کے اس ماڈرن زمانے میں میرے خیال سے وہ عورتیں موجودہ فیشنیبل نقاب اوڑھنی پہنتی ہیں اور وہ جو نہیں پہنتی ہیں شاید دونوں ہی برابر ہیں۔ قدیمی اور مذہبی عورتوں کی بات نہیں ہو رہی ہے کیونکہ نقاب جس ہدف کے تحت پہننے کا حکم ہے آج کے دور میں بالکل برعکس ہو رہا ہے۔ آج کے دور میں اکثر عورتیں ایسا نقاب پہنتی ہیں جو ناقابلِ بیان ہے۔

انتہائی دیدہ زیب کٹائی چھٹائی سے مرسع عورتوں کے جسم سے بالکل چپکا ہوا۔ اس طرح کے نقاب سے عورتوں کے جسم کے نشیب و فراز کا عیاں ہونا جو مردوں کی انکھوں کے لئے حصول لذّت کا سبب اور زیادہ سے زیادہ بد نظری کی بیمار ی میں مبتلا ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

یاد رہے حضور ﷺ کی بیٹی حضرت فاطمہ ؓ کا قول ہے کہ عورت کی بے پردگی عورت و مرد کی بے حیائی کا ثبوت ہے۔ اب جو خود کو جتنا بڑا با حیا سمجھتا ہو وہ اس حد تک اپنے گھر کی عورتوں کے پردے کا خیال رکھے اور اس ذمہ داری کو ہر گز فراموش نہ کرے کہ امر باالمعروف و نہی عن المنکر واجبات میں ہیں۔ اچھے کام کا حکم دینا اور برے کاموں سے روکنا اسکی شروعات اپنے ہی گھر سے کرنا ضروری ہے۔
آج کے معاشرے میں یہ بات کافی عام ہے کہ پردہ ترقی میں حائل ہوتا ہے۔ لیکن میرا تو یہ کہنا کہ اس طرح کی سوچ مذہب بیزار مذہب سے دوری اسلامی احکامات سے ناواقفیت اور خدا کے خوف سے عاری ہونا ہے۔ آج جو طبقہ فیشن کے نام پر بے حیائی کا لبادہ اوڑھ کر سرکشی و بغاوت پر اُتر آیا ہے، وہ گناہ کو گناہ سمجھتا ہی نہیں۔ اور یہ سب سے بڑھکر گناہ ہے۔

اسلئے کہ اگر کوئی گناہ کو گناہ سمجھے تو اسکو راہ راست پر واپس آ جانے کی توقع کی جا سکتی ہے، لیکن جس کے نزدیک گناہ بھی گناہ نہ رہ جائے ، اُسے صراطِ مستقیم کی طرف واپسی کی توقع کرنا بہت بعید ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ عورتوں پر پردہ فرض ہے اور بلا عذر گھر سے نکلنا حرام۔ یعنی جیسے اسلام سے پہلے عورتیں آراستہ ہو کر اِتراتی ہوئی باہر نکلتی تھیں، کاش اس آیت سے مسلم عورتیں عبرت پکڑیں۔

یہ عورتیں اُمہات المومنین سے بڑھکر نہیں۔ عزت ماآب علماء کرام و دانشور گھر کے بزرگوں کو اصلاح معاشرت کے لئے کوشش کرتے ہی رہنا چاہئے۔ ہمارا معاشرہ حرام جیسے گناہ بے پردگی، ریش تراشی (داڑھی مُنڈوانا) جیسے گناہ کوگناہ تو دور معیوب بھی نہیں سمجھتا اور نہ ہی امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی کوشش کرتا ہے

یاد رہے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا حکم دینا واجبات و فرائض سے ہے۔ قرانی احکامات کے ساتھ احادیث پاک میں بھی روائتیں آتی ہیں۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی کتنی تاکید آئی ہے۔

اس تعلق سے حدیث پاک ملاحظہ فرمائیں۔حضرت حذیفہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ’’ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے تمہیں لازماً امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرنا ہوگا ورنہ قریب ہے کہ اﷲ تعالیٰ تم پر اپنا عذاب ناز ل کرے پھر تم اُسے پُکارتے رہوگے لیکن تمہاری دعاء قبول نہ ہوگی

(ترمزی شریف، کشف القلوب، جلد اول صفہ ۳۵)

اخلاقی قدروں کا زوال معاشرہ کیلئے ناسور ہے۔ امیر المومنین حضرت عمر ؓ کے دورِ خلافت میں ایک شخص شراب کے نشہ میں دھت حالت میں گرفتار کرکے دربار میں لایا گیا۔ حضرت عمر ؓ نے اس سے مخاطب ہو کر فرمایا، تیرا ناس ہو ہمارے یہاں بچے بھی روزہ رکھتے ہیں اور تو عاقل، بالغ ہوتے ہوئے بھی شراب پی رہا ہے۔

اسکے بعد اس پر حد شراب (اسّی کوڑے) لگوا کر ملک شام کی طرف شہر بدر کر دیا۔ عہدِ رسالت اور صحابہ ؓ کے زمانے میں بچے بھی پابند شرع اور امر و نواہی کے پابند تھے اور آچھے کام میں بڑھ چڑھ کرحصّہ لیتے تھے کیونکہ وہ گناہ کو عذابِ الہی کا پیش خیمہ جانتے تھے۔
کیا مروجہ نقاب سے شرعی پردہ کے تقاضے پورے ہوتے ہیں ؟
عورت کے معنیٰ پردہ کے ہیں، اگر عورت ہے تو پردہ اس کے لئے واجب و لازم اور ناگزیر ہے۔ عقلاً (شرعاً) عورتیں بھی اسکا احساس رکھتی ہیں کہ ہم پردہ کیلئے بنائے گئے ہیں۔ پردہ ہمارے لئے بنایا گیا ہے۔یہی فطری نیچرل احساس عورتوں کو پردہ میں رہنے کا احساس دِلاتا ہے۔

لیکن آج مغربی تہذیب و سنیما اور ان گنت ٹی وی سیریلوں کی چکاچوندھ کے اثرات نے عورتوں کو بے حجاب اور بے باک بنا دیا ہے۔ موجودہ زمانے کی مسلم خواتین بھی زمانہ جہالیت کی خواتین سے بھی زیادہ گئی گذری ہیں

وہ آج بھی 14 سو سال قبل کی جاہل عورتوں کی طرح دوپٹہ و نقاب پہن رہی ہیں اور اتنی باریک اور پتلی جو کہ سارے جسم کے حصّہ پر بھی نہیں آتی۔ اوڑھنی موٹی اور چوڑی ہونی چاہئے۔

حضرت حفصہ ؓ حضرت عائشہ ؓ کے پاس اس حالت میں آئیں کہ آپ بالکل باریک اوڑھنی اوڑھے ہوئے تھیں۔ حضرت عائشہ ؓ نے وہ باریک اوڑھنی پھاڑ ڈالی اور انہیں ایک موٹی اوڑھنی عطاء کی۔ اوڑھنی مسلم خواتین کے لباس کا جُز ہے جسکو اسلامی طریقہ سے اوڑھنا لازمی اور ضروری ہے۔

عورتیں اپنی ضرورت سے اگر باہرقدم رکھیں تو اس طرح کہ انکی زیب و زینت پردہ میں رہے۔ معاشرہ اسلامی میں عورتوں کو تاکید کی گئی ہے کہ گھروں کے اندر رہتے ہوئے بھی سنگار نہ دکھائیں مگر جتنا ظاہر ہے۔

اسلامی تعلیم عصمت و عفت یہ ہے کہ آبرو جان سے زیادہ قیمتی ہے جن اعضائے بدن کا دیکھنا جائز نہیں اُن پر نظر نہ ڈالی جائے۔ زنا کے بڑھتے واقعات، زنا کی روک تھام کیلئے احتیاطی تدابیر اسلام نے پہلے ہی بتا دیا ہے۔ پردہ اسلام کی نایاب دولت ہے اسی دولت کو پکڑ کر عورت اپنی قدر و منزلت، شان و شوکت، عظمت و وقار کی بلندی پر فائز رہ سکتی ہے۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں