کھانا کھانے کے بعد پانی پینا اور فرمان نبوی ﷺ

جناب عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اونٹ کی طرح ایک ہی سانس میں پانی مت پیا کرو ٹھہر ٹھہر کردو یا تین سانس میں پیا کرو جب پینے لگو تو بسم اللہ پڑھ کر پیو۔فارغ ہو کر الحمد للہ کہو۔

(جامع ترمذی)
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پانی پینے سے منع فرمایا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ اگر تمہیں پتہ لگ جائے کہ کھڑے ہو کر پانی پینے کا اتنا نقصان ہے تو وہ پانی تم حلق میں انگلی ڈال کر باہر نکال دو۔
جدید سائنسی تحقیق کے مطابق کھڑے ہو کر اور ایک سانس میں پانی پینے سے جسم میں پانی جلد جذب ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے گردوں پر گہر ا اثر پڑتا ہے اورجسم کے تمام حصوں پر ورم کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

کھانے کے بعد پانی پینا معدے کی عضلات کو ڈھیلا کرتا ہے معدے کی اندرونی جھلی کے ورم کا باعث بنتا ہے اور معدے میں اساس کی نسبت کم ہو جاتی ہے اور تیزابیت بڑھ جاتی ہے۔
تین سانسوں میں پانی پینے کاعمل صحت کے لئے مفید ہے۔وقفوں سے گھونٹ بھرنے سے آخری گھونٹ،پہلے سے لئے جانے والے گھونٹوں سے رہ جانے والی پیاس کو بجھاتا ہے۔مزید کہ یہ طریقہ معدے کے درجہ حرارت کو غیر معمولی تبدیلی سے روکتا ہے۔
کھانے کے بعد پانی پینا نقصان دہ ہوتا ہے. کھانے کے بعد پانی پینا زہر کی طرح ہے. پانی فوری طور پینے سے اس کا اثر انہضام فعل پر پڑتا ہے. ہم جو کھانا کھاتے ہیں وہ ناف کے بایں حصہ میں واقع میں جا کر پچتا ہے. ایک گھنٹے تک کھانا کھانے کے بعد غالب رہتی ہے. معدہ میں گرمی کی وجہ سے ہی کھانا ہضم ہوتا ہے۔

اگر ہم فوری طور پانی پی لیتے ہیں تو کھانا ہضم ہونے میں کافی دقت ہوتی ہے۔ اس لئے کھانے اور پانی پینے میں یہ فرق ہے.کھانا کھانے کے تقریبا پون گھنٹے یا ایک گھنٹے کے بعد پانی پینا مناسب ہوتا ہے.

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں