مسجد اقصیٰ

خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے بعد مسجد اقصیٰ سب سے مقدس اور متبرک مقام ہے۔مسجد اقصیٰ کاذکر قرآن مجید میں آیا ہے‘ ہادی برحق رسول اکرم کویہیں سے معراج ہوئی تھی۔یہ مسجد بیت المقدس میں ہے

شہر کاایک وسیع علاقہ حرم شریف کہلاتا ہے۔مسجد اقصیٰ،مسجد عمررضی اللہ عنہ اور دوسری مقدس عمارات اسی علاقے میں ہیں۔حرم شریف کے جنوب کی دیوار کویہودی دیوار گریہ کہتے ہیں۔مسجد اقصیٰ کی عمارت 68 گزلمبی اور60گزچوڑی ہے۔75ھ(693ء) میں عبدالمالک بن مروان نے اسکی تعمیر ازسر نوکرائی ایک روایت یہ ہے کہ بارہ برس بعد عبدالمالک کے بیٹے ابن مالک نے اس کی تعمیر کااہتمام کیا۔
مسجد اقصیٰ کابڑاہال سات حصوں پر مشتمل ہے۔اس کی چھت کوسہارا دینے کیلئے سنگ مرمر اور سنگ سرخ کے ستونوں کی قطار شمالا جنوبا چلی گئی ہے۔درمیانی حصہ بھی ستونوں پر بنایا گیا ہے،اسکی چھت دوسری چھتوں سے اونچی ہے۔شمال کی جانب گنبد ہے جوساٹھ فٹ بلند ہے۔مسجد میں کل 114ستون ہیں۔چھت اندرکی طرف سے چوبی ہے۔اس پر قرآنی آیات کندہ ہیں اور نہایت خوبصورت کام کیا گیا ہے۔یہ کام سلطان صلاح الدین ایوبی نے1187ء میں کرایا تھا۔مسجد کی دوبارہ مرمت1327ء اور 1927ء میں ہوئی۔مسجد کے جنوب مشرقی حصے میں مسجد عمررضی اللہ عنہ ہے۔یہ32گزلمبی اور9گز چوڑی ہے۔مسجد عمر اور مسجد اقصیٰ کے درمیان ایک محرابی راستہ ہے۔
بنوامیہ‘بنوعباس‘بنوفاطمی‘سلطان ایوبی اور دیگر بادشاہ مسجد اقصیٰ کی تجدید کرتے رہے۔بنوعباس کے زمانے میں زلزلے سے مسجد کوخاصانقصان پہنچا تھا۔صلیبی جنگوں کے دوران1099ء میں جب عیسائی بیت المقدس پر قابض ہوئے تو الاقصیٰ کے کچھ حصوں کو رہائش گاہ میں بدل دیا گیا۔1187ء میں سلطان صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس پر قبضہ کیا تو مسجد واگزار ہوئی اور اسکی تجدید عمل میں آئی۔اس مقدس عمارت پر آفات کی یورش رہی۔موسم کی نیرنگیاں‘زلزلے‘جنگیں‘غرض جس طاقت کا بھی بس چلا اُس نے اس حسین وجمیل مسجد کومتاثر کیا۔آج کل یہ مسجد یہودیوں کوچیرہ دستیوں کاہدف ہے اور ان کے قبضے میں ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مسجد اقصیٰ کویہودیوں کے قبضے سے آزاد کرانے کیلئے ساری مسلم امہ کو متحد ہونے کی توفیق عطافرمائے۔


تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں