ابومحمد ابن زکریا الرازی کا مختصر تعارف

ابومحمد ابن زکریا الرازی 860ء میں ایران کےشہر “رے ” میں پیدا ہوا اور اسی نسبت سے رازی کہلایا، وہ ایک غریب گھر کا بیٹا تھا جہاں ضروریات زندگی محدود تھیں چنانچہ معمولی تعلیم کے بعد زندگی بےفکری سےگزرنے لگی، وہ اپنا بیشتر وقت عود بجانے یا دوستوں کے ساتھ گھومنے پھرنے میں گزارتا تھا اس نے ارادوں اور امیدوں کا دامن اتنا دراز ہی نہیں کیا تھاکہ دل میں کوئی حسرت ناتمام ہوتی، ایک دن بیٹھے بیٹھے اس کو خیال آیا کہ یہ بھی کیا زندگی ہوئی جو کھانے پینے اور تفریح میں کٹ جاۓ؟ یکایک اس کو احساس ہوا کہ وہ اپنا وقت ضائع کررہا ہے چنانچہ اس نے اپنا محبوب مشغلہ یعنی عود بجانا چھوڑ دیا، زندگی ضروریات اس کے اہتمام اوراحساس ذمہ داری کا آپس میں گہرا تعلق ہے اپنےگھربار کا ہوا توکمانے کی فکر دامن گیر ہوئی

ہاتھ میں کوئی ہنر تو تھا نہیں، لوگوں کی دیکھا دیکھی سونا بنانے کی کوششوں میں لگ گیا اور اپنےگھرمیں ایک بھٹی بنالی، لوگوں کے مشورے سے طرح طرح کی جڑی بوٹیاں اکٹھی کرکے لاتا اور تجربے کرتا رہتا تھا اپنے بہت سے ہم شوق کیمیاگروں سے اس کی جان پہچان ہوگی اور کئ دوا فروش اور عطار بھی بھی اس کے دوست بن گے رازی پہلا شخص تھا جس نے ابتدائی طبی امداد کا طریقہ رائج کیا اسکو جو بات بھی سوجھتی وہ بہت ہی نرالی ہوتی تھی ایک مرتبہ حکومت نے شہر میں ایک اچھا ہسپتال قائم کرنے کا فیصلہ کیا مشاورت رازی کے سپرد کردی گی. جس کا پہلا مرحلہ مناسب جگہ کا انتخاب تھا اس نے مجوزہ مقامات پر گوشت کے بڑے بڑے ٹکڑے لٹکانے کا حکم دیا، اطباء کی ایک ٹیم ہر روز صبح جا کر ان ٹکڑوں کا معائنہ کرنے کے بعد باقاعدہ ایک تحریری رپورٹ تیار کرتی تھی جس میں گوشت کے رنگ، بو، ذائقے اور دیگر تبدیلی کی تفصیل درج ہوتی تھی

تیسرے دن حتمی رپورٹ پیش کی گئ اور جس جگہ کا گوشت سب سے بہتر حالت میں پایا گیا اس جگہ کو ہسپتال کی تعمیر کےلیے منتخب کرلیاگیا، رازی نے جالینوس کے نظریہ بصارت سے بھی اختلاف کیا ہے وہ کہتا ہےکہ جالینوس کی تمام غلطیوں کی بنیاد اس کا تجربے کے مقابلے میں ریاضی پر زیادہ انحصار ہے رازی کا نظریہ بصارت ارسطو کے نظریہ بصارت کے قریب تر ہے فرق صرف اتنا ہےکہ رازی کے نزدیک منظرکا عکس لانے والی ہوا اندر سے کھوکھلے بصری عصب میں سےگزر کر دماغ کے ان خانوں میں پہنچتی ہے جہاں حیوانی روح موجود ہرازی کے نزدیک روح ایک الگ چیز ہے اور دماغ روح کا آلہ کار ہے

رازی نے اپنے ماضی کے کیمیا گری کے تجربات سے بہت فائدہ اٹھایا ہے اس نے دواؤں اور کیمیاوی مادوں کی کم سےکم مقدار کے بالکل درست اوزان حاصل کرنے کےلے میزان طبعی ایجاد کیا یہ ترازو اج تک سائنس کی ہرتجربہ گاہ میں استعمال ہوتی ہے، عمل جراحی کےلیے اس نے ایک انتہائی کارآمد نشتر ایجاد کیا. رازی ایک ماہر طبعیات، ہیت دان اور فلسفی بھی تھا وہ ایٹم کے وجود کوتسلیم کرتا تھا اور اس کے بارے میں ویمیقراطیش کا ہم خیال تھا اس کے نزدیک ہندسی اجسام لامتناہی طور پر تقسیم کۓ جاسکتے ہیں لیکن مادہ ایسے ایٹموں پرمشتمل ہے جو وسعت کےحامل ہونے کےباوجود ناقابل تقسیم ہیں اس کےخیال میں مادے کے ایٹموں میں خلائی ذرات کی آمیزش سے پانچ عناصر وجود میں آۓ، مٹی، پانی، ہوا ، آگ اورآسمانی عناصر، ان عناصر کی خصوصیات کا دارومدار اس مادے اور انکی خلائی ذرات کی مقدار اور تناسب پر ہے جن کی آمیزش کی گی ہو

کثیف عناصر یعنی مٹی اور پانی زمین کیطرف حرکت کرتے ہیں کیونکہ ان میں مادے کا ایٹمی تناسب زیادہ ہے، ہوا اور آگ اوپر کی طرف اٹھتے ہیں کیونکہ ان میں خلائی ذرات کی اکثریت پائی جاتی ہے آسمانی عناصر میں مادے اورخلائی ذرات کی مقدار کے درمیان توازن ہوتا ہے اس لیے آسمانی عناصر نہ اوپر سے نیچے آتے ہیں اور نا ہی نیچے سے اوپرکی طرف حرکت کرتے ہیں بلکہ ایک دائرے کی شکل میں گھومتے رہتے ہیں، رازی عقلیت پرست تھا اس کے خیال میں علم کی تکمیل ناممکن ہے کیونکہ علم کی کوئی انتہا ہی نہیں ہے اسکا ایمان ہےکہ عقل کی مدد سے عملی اورنظریاتی مسائل حل کئےجاسکتے ہیں کیونکہ ہرشخص کو اسکے حصے کی عقل عطاہوئی ہے لیکن وہ انسانوں کی مختلف قسموں میں تقسیم کےخلاف ہے

رازی کا عقیدہ ہے کہ بعض مرتبہ ذہین لوگوں کی نزاکت خیال ان کی فکرکو اور الجھادیتی ہے اس لیے یہ عین ممکن ہے کہ نظریاتی مسائل میں سادہ اور تصنع سے پاک لوگ بہتر نتائج اخذ کرسکیں وہ نظریاتی مسائل کو مذہبی تعصب سے پاک رکھنے کا قائل ہے اس کےخیال میں مذہبی تعصبات نفرت اورجنگ وجدل کا باعث بنتے ہیں.

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں