حضور ﷺ کا شاہ فارس کسٰری کے نام گرامی نامہ

حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے ایک صحابی کے ہاتھ اپنا خط روانہ فرمایا اور ان صحابی کو حضور٘ نے ہدایت فرمایٔ کہ وہ یہ خط بحرین کے گورنر کو  دےدیں۔ چنانچہ بحرین کے گور نر وہ خط لے کر کسٰری تک پہنچا دیا۔ راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ حضرت ابن مسیّب نے فرمایا تھا کہ یہ سن حضور٘ نے ان کے لیٔے بد دعا کی کہ ان کے بھی ایسے ہی ٹکڑے ٹکڑے کر دیٔے جایٔں۔

حضرت عبدالرحمٰن بن قاریؓ فرماتے ہیں حضورﷺ ایک دن بیان فرمانے کیلیٔے منبر پر کھڑے ھوۓ اور اللہ کی حمد وثناء بیان فرمایٔ اور کلمہ شہادت پڑھا۔ پھر آپ٘ نے فرمایا اما بعد! میں تم میں سے کچھ لوگوں کو عجم کے بادشاہوں کے پاس بھیجنا چاہتا ہوں اور جیسے بنی اسرایٔل نے حضرت عیسٰیؑ کے سامنے اختلاف کیا تھا تم میرے سامنے ویسا اختلاف نہ کرنا تو مہاجرین نے کہا یا رسول اللہ٘ ! ہم کبھی بھی آپ کے سامنے کسی چیز کے بارے میں کویٔ اختلاف نہیں کریں گے۔ آپ٘ ہمیں جو چاہیں حکم دیں اور جہاں چاہیں بھیج دیں۔  چنانچہ آپ٘ نے حضرت شجاع بن وہب کو بلوایا کو کسرٰی کی طرف روانہ کیا۔

آپؓ کی آمد پر کسرٰی نے یپنے محل کے سجانے کا حکم دیا اس کے بعد اس نے فارس کے بڑے بڑے سرداروں کو جمع کرکے حضرت شجاعؓ کو بلوایا جب حضرت شجاعؓ محل میں داخل ہو گیٔے تو کسرٰی نے کسی درباری کو حکم دیا کہ ان سے خط لےلے۔ حضرت شجاعؓ نے فرمایا کہ یہ ہر گز نہیں ہو سکتا۔ میں تو حضور٘ کے حکم کے مطابق اپنے ہاتھ سے خود تمہیں دوں گا تو کسرٰی نے کہا اچھا پھر قریب آجاؤ چنانچہ انہوں نے آگے بڑھ کر کسرٰی کو وہ خط دیا پھر اس نے حیرہ کے رہنے والے ایک منشی کو بلایا۔ اس نے خط پڑھ کے سنایا جس کا مضمون کچھ یوں تھا ؛

“اللہ کے رسول محمد بن عبداللہ کی جانب سے کسرٰی کے نام جو فارس  کا بڑا ہے”

اس بات پر اسے بڑا طیش آیا کہ حضور٘ نے اپنا نام اس کے نام سے پہلے لکھا ہے اور اس نے شور مچایا۔ خط کو پڑھنے سے پہلے ہی اس نے خط کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیٔے اور اس نے حکم دے کر حضرت شجاعؓ کو ایوان سے باہر نکال دیا ۔ حضرت شجاعؓ یہ منظر دیکھ کر اپنی سواری پر بیٹھ چل دیٔے اور فرمایا میں نے حضور٘ کا خط کسرٰی کو پہنچادیا ہے۔ اب مجھے کویٔ پرواہ نہیں ہے چاہے وہ ناراض ہو یا خوش۔

راوی کہتے ہیں کہ جب کسرٰی کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو اس نے حضرت شجاعؓ کو اپنے پاس بلانے کیلیٔے ایک آدمی بھیجا۔ حضرت شجاعؓ روانہ ہو چکے تھے اس لیٔے نہ ملے، وہ آدمی حیرہ تک گیا لیکن حضرت شجاعؓ وہاں سے بھی آگے نکل چکے تھے۔ حضرت شجاعؓ نے حضور٘ کی خدمت میں پہنچ کر ساری کار گزاری سنایٔ اور یہ بتایا کہ حضور٘ کے خط کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیٔے۔ اس پر آپ٘ نے فرمایا کہ کسرٰی نے تو اپنے ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔


تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں