حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ

حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ بصرہ کے گورنر تھے. ایک مرتبہ انھوں نے لوگوں میں بیان کرتے ہوۓ پہلے اللہ رب العزت کی حمدوثنا بیان کی،پھرفرمایا

امابعد! دنیا نے اپنے ختم ہوجانے کا اعلان کردیا ہےاورپیٹھ پھیرکرتیزی سےجارہی ہے اور دنیامیں سےبس تھوڑا ساحصہ باقی رہ گیاجیسےکسی برتن میں پانی آخرمیں تھوڑا سا رہ جاتا ہے اورآدمی اسے چوس لیتاہے اور تم یہاں سے منتقل ہوکرایسے جہاں میں چلےجاوگےجو کبھی ختم نہیں ہوگا.لہذا جواچھے اعمال تمہارے پاس موجود ہیں انکو لےکراگلے جہاں میں جاو، ہمیں یہ بتایا گیاہےکہ جہنم کےکنارےسےایک پتھر پھینکاجاۓگا جو ستر سال تک جہنم میں گرتاچلاجاۓ گا.لیکن پھربھی اس کی تہہ تک نہیں پہنچ سکےگا، اللہ کی قسم! یہ جہنم بھی ایک دن انسانوں سے بھرجاۓگی، کیا تمہیں اس بات پرتعجب ہورہاہے؟

ہمیں یہ بھی بتایاگیاہےکہ جنت کے دروازے کے دوپٹوں کے درمیان چالیس سال کافاصلہ ہے لیکن ایک دن ایسا آۓ گا کہ جنتیوں کےہجوم کی وجہ سےاتنا چوڑا دروازہ بھی بھرا ہوا ہوگا،اورمیں نے وہ زمانہ بھی دیکھا ہے کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ صرف سات آدمی تھے اورمیں بھی ان میں شامل تھا اور ہمیں کھانےکو صرف درختوں کے پتے ہی دستیاب ہوا کرتے تھے، جنہیں مسلسل کھانے کی وجہ سے ہمارے جبڑے بھی زخمی ہوگے تھے، اورمجھے ایک گری پڑی چادر ملی تھی، میں نے اس کے دو ٹکڑے کئے تھےایک ٹکڑے کومیں نےلنگی بنالیا اور ایک کو حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ نے، ایک زمانہ میں تو ہمارا فقروفاقہ کا یہ حال تھا اور آج ہم میں سے ہرایک کسی ناکسی شہر کا گورنر بنا ہوا ہےاور میں اس بات سے اللہ رب العزت کی پناہ چاہتا ہوں کہ میں اپنی نگاہ میں توبڑا ہوں اور اللہ رب العزت کے ہاں چھوٹا،

 

بحوالہ اخرجہ مسلم کذافی الترغیب جلد پنجم

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں