حضرت عثمانؓ کی شہادت

حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ نے امیرالمومنین سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے سامنے دو تجویزیں پیش کی تھیں، جن کی امیرالمومنین نے سختی سے تردید کردی تھی پہلی تجویز یہ تھی کہ امیرالمومنین امیرمعاویہ رض کے ہمراہ ملک شام چلے جائیں اور وہاں ان کےساتھ امن وحفاظت سے رہیں، لیکن امیرالمومنین سیدنا عثمان رض نے جوار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دار ہجرت کوچھوڑ کرکسی دوسری جگہ قیام کرنا پسند نہ فرمایا، آپ نے اسلامی حکومت کے مرکز کو اس جگہ سےہٹا کر، جہاں اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہوسلم، سیدنا صدیق اکبر، اورسیدنا عمر رض نےبرقرار رکھا تھا، ایک اجنبی شہر میں منتقل ہوجانے کوگوارا نہ فرمایا، دوسری تجویز یہ تھی کہ وہ شامیوں کا ایک لشکر امیرالمومنین کی خدمت میں بھیج دیں، جو مدینہ میں ان کے پاس رہے اورانہیں پیش آمدہ خطرات سے محفوظ رکھے، امیرالمومنین سیدنا عثمان رض نے یہ پیشکش بھی ٹھکرادی اور فرمایا کہ میں اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے لشکر کی موجودگی اور ہمسائگی سے ستانا نہیں چاہتا،بالآخر حضرت امیرمعاویہ رض نے امیرالمومنین سے کہا” اگر آپ دونوں تجویزوں میں سے کوئی تجویز بھی منظور نہیں کرتے تو حالات کی نزاکت بتارہی ہے کہ یا تو آپ کےخلاف عوام کی طرف سے لڑائی کی جاۓ گی، یا اچانک بےخبری میں آپ کو شہید کر ڈالا جاۓ گا. اس پر امیرالمومنین سیدناعثمان رض نے جواب دیا” حسبی اللہ و نعم الوکیل ” امیرالمومنین نے اپنے دو پیش روخلفاء کی روش پرکامل طور پر گامزن رہے انھوں نے اپنے اور لوگوں کے درمیان کوئی حاجب یا دربان نا رکھا، نہ لوگوں پر اپنی بڑائی اوربرتری یا غلبہ کا رعب ڈالا، نہ کسی قسم کے جابرانہ اقتدار وتسلط کا اظہار کیا، جن لوگوں کے ساتھ رعایات ونوازشات ازراہ اخلاق کریمانہ کی گئ تھیں، وہ نہایت درجہ حریص وطماع، بےپناہ خواہشات رکھنے والے، اپنے مفاد کی خاطر دور دور تک نظریں دوڑانے والے، اور تسلط وغلبہ کے پورے سازوسامان سے آراستہ ومسلح تھے. اورآخرکار ستر سال کی عمر ضعیف میں خلافت کا بارگراں اٹھانے والےاس امیرالمومنین کو 46 روز محصور رکھ کر بھوکے پیاسے تلاوت قرآن مجید فرماتے ہوۓ شہید کردیا گیا.

 

آپ کی شہادت کے وقت حضرت علی رض موجود نہ تھے، آپ نے سنا تو فرمایا کہ اۓ اللہ! توجانتا ہے کہ ان کے قتل پرمیں راضی نا تھا اور نہ اس پرمائل تھا جن لوگوں نے آپ کو شہید کیا تھا وہ سب پاگل ہوگے، اسلام میں پہلا فتنہ قتل عثمان رض اورآخری فتنہ خروج دجال ہے آپ ازحد باحیا تھے خلوت میں بھی کبھی برہنہ نہ ہوتے تھے،آپ لوگوں کی محفلوں میں جاتے ان کی سنتے اپنی کہتے انکے مریضوں کی خیریت پوچھتے، اپنی چادر کا ایک سرا اپنے بدن پر لپیٹ کر اور اسکے دوسرے کنارے کو سر کے نیچے تکیہ کی طرح رکھ کرمسجد ہی میں سو رہتے، جمعہ کے دن وہ منبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جلوہ گر ہوتے تو لوگوں سے ایک شفیق باپ، مہربان بھائی یا جان نثار دوست کی طرح مختلف موضوعات پر باتیں کرتے رہتےتھے، منڈی کےنرخ معلوم کرتے اور جب موذن اذان دیتا توحسب موقع خطبہ ارشاد فرماتے تھے، ایرانیوں کےساتھ آپ نے ایسا حسن سلوک اختیارکیا کہ وہ آپ کو عربی نوشیرواں کہہ کراپنی عقیدت کا اظہار کیاکرتے تھے، آپ صائم الدھر وقائم اللیل تھے، چار پانچ درہم کی ازار پہن کر خطبہ پڑھتے، ایام خلافت میں بھی غلام کو اپنے ساتھ سوار فرماتے تھے، قبروں کودیکھ کراس قدر روتے کہ ریش مبارک تر ہوجاتی. آپکی تاریخ وفات بارہ ذی الحج سن 35ھجری اور مدت خلافت قریبا” بارہ سال رہی. رضی اللہ عنہ


تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں