آقا ۓ دو جہاں محمد ﷺ کی پاکیزہ صفات

حضرت حسنؓ بن علیؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے ماموں ہند بن ابی ہالہ سے حضور اکرم ﷺ کا حلیہ مبارک دریافت کیا اور وہ  حضور اکرم ﷺ کے حلیہ مبارک کو بہت ہی کثرت اوروضا حت سے بیان کیا کرتے تھے اور میرا دل چاہتا تھا کہ وہ ان اوصاف جمیلہ میں سے کچھ میرے سامنے بھی ذکر کریں  تاکہ میں ان اوصاف جمیلہ کو ذہن نشین کر کے اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کروں(حضرت حسنؓ بن علیؓ کی عمر حضور اکرم ﷺ کے وصال کے وقت سات سال کی تھی اس لیٔے کم سنی کی وجہ سے آپ کے اوصاف جمیلہ کو غور سے دیکھنے اور محفوظ کرنے کا ان کو موقع نہیں ملا تھا  ) ماموں جان نے حضور اکرم ﷺ کے حلیہ کو شریف کے متعلق یہ فرمایا کہ آپ خود اپنی ذات و صفات کے اعتبار سے بھی شاندار تھے اور دوسروں کی نظروں میں بھی بڑے رتبے  والے تھے۔ آپ کا چہرہ مبارک چودھویں کے چاند کی طرح چمکتا تھا۔ آپ کا قد مبارک بالکل درمیانے قد والے سے قدرے لمبا تھا لیکن  زیادہ لمبے قد والے سے چھوٹا تھا۔ سر مبارک بالکل اعتدال کے ساتھ بڑا تھا بال مبارک کسی قدر بل کھاۓ ہوۓ تھے۔

آپ کے آبرو خمدار باریک اور گنجان تھے۔ دونوں ابر جدا جدا تھے۔ ان دونون کے درمیان ایک رگ تھی جو غصے میں یبھر آتی تھی۔ آپ کی ناک بلندی مایٔل تھی۔ اور اس پر ایک چمک اور نور تھا۔ ابتداء دیکھنے والا آپ کو بڑی ناک والا سمجھتا، لیکن غور سے معلوم ہوتا کہ حسن و چمک کی وجہ سے بلند معلوم ہوتی ہے  ورنہ فی نفسہ زیادہ بلند نہیں ہے۔ حضور اکرم ﷺ کی داڑھی مبارک بھر پور اور گنجان اور پتلی نہایت سیاہ تھی۔ رخسار مبارک ہموار اور ہلکے تھے۔ گوشت لٹکے ہوۓ تھے۔ آپ کا دہن مبارک اعتدال کے ساتھ فراخ تھا(یعنی تنگ منہ نہ تھا) ، آپ کے دندان مبارک باریک اور آبدار تھے اور ان میں سے ساپنے والے کے دانتوں میں ذرا ذرا افصل بھی تھا۔ سینے اور ناف تک بالوں کی ایک باریک لکیر تھی۔ آپ کی گردن مبارک ایسے مبارک ایسی خوبصورت اور باریک تھی جیسے کے مورتی کی گردن صاف تراشی ہویٔ۔ اور رنگ میں چاندی جیسی صاف اور خوبصورت تھی۔ آپ کے اعضاء نہایت معتدل اور پر گوشت تھے اور بدن گھٹا ہوا تھا، پیٹ اور سینہ مبارک ہموار تھا، لیکن سینہ فراخ اور چوڑا تھا۔ آپ کے دونوں مونڈھوں کے درمیان اتنا فاصلہ نہیں تھا۔ جوڑوں کی ہڈیاں قوی اور بڑی تھیں (جو قوت کی دلیل ہیں)۔

 حضور اکرم ﷺ کے قدم ہموار تھے کہ پانی ین کے صاف اور چکنے ہونے کی وجہ سے ان پر ٹھرتا نہیں تھا۔ جب آپﷺ چلتے تو قوت سےقدم اٹھاتے اور آگے کو جھک کر تشریف لے جاتے۔

قدم زمین پر آہستہ سے پڑتا زور سے نہ پڑتا تھا۔ آپﷺ تیز رفتار تھے اور کشادہ قدم رکھتے ، جب آپ چلتے تو معلوم ہوتا گویا نچان میں اتر رہے ہیں۔ جب کسی کی طرف توجہ فرماتے تو پورے بدن سے پھر کر توجہ فرماتے۔ آپ کی نظر نیچی رہتی تھی۔ آپ کی نظر بہ نسبت آسمان کے زمین کی طرف زیادہ رہتی۔ آپ کی عادت شریفہ عموماً گوشہ چشم سے دیکھنے کی تھی۔ زیادہ شرم  و حیاء کی وجہ سے پوری آنکھ بھر کر نہیں دیکھتے تھے۔ چلنے میں صحابہؓ کو اپنے آگے کر دیتے تھے خود پیچھےرہ جاتے تھے جس سے ملتے سلام کرنے مین ابتداء فرماتے

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں