حضرت عثمان غنیؓ

عثمان نام،ابو عبداللہ اور ابو عمر و کنیت والد کانام عفان اور والد کا نام اروی تھا۔ قریش کی شاخ بنوامیہ سے تعلق رکھتے تھے۔مجد و شرف اور عزت و وجاہت کے اعتبار سے بنو ہاشم کے بعد انہیں کا مرتبہ تھا۔ حرب فجار (یہ جنگ قریش اور قیس کے درمیان ہویؑ تھی۔قریش کے تمام خاندانوں کے فوجی دستے الگ الگ تھے۔آل ہاشم کا فوجی دستہ زبیر بن عبدالمطب کے کمانڈ میں تھا۔

اور آنحضرتﷺ اسی دستے میں شامل تھے۔ بڑے زور کا معرکہ ہوا اور آخر کار صلح پر خاتمہ ہوگیا)میں جو شخص سپہ سلار اعظم کی حثیت رکھتاتھا وہ اسی خاندان کا ایک نامور سردار حرب بن امیہ تھا۔ حضرت عثمانؓ کا سلسلہ نسب سے والد اور الدہ دونوں کی طرف سے پانچوں پشت میں عبدمناف پر آنحضرتﷺ کے سلسلہ نسب سے مل جاتا ہے۔پھر اس پر مزید کہ حضرت عثمانؓ کی نامی ام حکیم بیضا بنتِ عبدالمطلب یعنی کہ آنحضرتﷺکی پھوپھی تھیں۔

ولادت حضرت عثمانؓ

ہجرت مدینہ سے ۴۷برس قبل بمطابق ؁۵۷۷ء میں مکہ میں پیدا ہوےؑ۔ بچپن اور جوانی کے حالات پردہ خفا میں ہیں۔ البتہ اتنا معلوم ہے کہ آپ مکہ کے ان چند اور نمایاں لوگوں میں تھے جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں