نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنے اہل خانہ کے ساتھ محبت

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل خانہ کے ساتھ بہت ہی محبت کےساتھ پیش آتے تھے،چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا” انا خیر کم لاھلی” میں تم سے اپنے اہل خانہ کےلیے سب سے بہتر ہوں.

ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر تشریف لاۓ، اس وقت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ پیالے میں پانی پی رہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دور سےفرمایا، حمیرا ! میرے لیے بھی کچھ پانی بچادینا. انکا نام تو عائشہ تھا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بےپناہ محبت کی وجہ سے آپکو حمیرا کے نامسے پکارا کرتے تھے اس حدیث مبارکہ سے پتہ چلتا ہے کہ ہرخاوند کوچاہیےکہ وہ اپنی بیوی کا محبت سے کوئی ایسا خوبصورت نام رکھے جو اسے بھی پسند ہو، ایسا نام محبت کی علامت ہوتا ہے اور جب اس نام سے شوہر اپنی بیوی کو پکارتا ہے تو بیوی شوہر کا قرب محسوس کرتی ہے، اپنی بیوی کا خوبصورت سا نام رکھنا یہ بھی ایک سنت ہے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب فرمایا کہ حمیرا، میرے لیے بھی کچھ پانی بچا دینا تو سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ نے کچھ پانی پیا اور کچھ پانی بچا دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لےگے، تو انھوں نے پیالہ حاضر خدمت کردیا،حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پیالہ ہاتھ میں لیا اور آپ پانی پینے لگے توآپ رک گئے اورسیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سےفرمایا، حمیرا تو نے کہاں سے لب لگاکر پانی پیا تھا؟ کس جگہ سے منہ لگا کے پانی پیا تھا؟ انھوں نے نشاندی کی کہ آقا میں نے یہاں سے پانی پیا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالے کے رخ کو پھیرا اور اپنے مبارک لب اسی جگہ پرلگاکر پانی نوش فرمایا.

جب شوہر بیوی کو ایسی محبت دیگا تو کوئی بدبخت گھر ہی ہوگا جو آباد نا رہے، اپنے گھروں کو آباد کرنے کےلیے اپنی اذدواجی زندگی میں سنتوں کو زندہ کیجۓ. میرے عزیزو! یاد رکھیں بیوی کا جھوٹا پانی پینا سنت بھی ہے اور خوشگوار اذدواجی زندگی کا راز بھی، بحوالہ بکھرے موتی

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں