بیٹی اللہ کی رحمت

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ ایک دن ایک عورت اپنی دو بچیوں کولیےمیرے پاس آئی اور اس نےکچھ مانگا میرے پاس صرف ایک ہی کھجور تھی وہ میں نے اس کے ہاتھ پر رکھ دی، اس عورت نےکھجور کے دو ٹکڑے کئے اورآدھی آدھی دونوں بچیوں میں بانٹ دی اورخود ناکھائی! اس کے بعد وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور باہر نکل گئ

اسی وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لاۓ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سارا ماجرا کہہ سنایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کرفرمایا جوشخص بھی لڑکیوں کی پیدائش کے ذریعے آزمایا جاتا ہے اور وہ ان کےساتھ اچھا سلوک کرکے آزمائش میں کامیاب ہو تو یہ لڑکیاں اس کےلیےقیامت کے روز جہنم کی آگ سے ڈھال بن جائیں گئ{مشکوۃ} لڑکیوں کوحقیرنہ جانیئے، نہ لڑکے کو اس پرکسی معاملہ میں ترجیح دیجۓ دونوں کےساتھ یکساں محبت کا اظہار کیجئے اوریکساں سلوک کیجۓ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ” جس کے ہاں لڑکی پیدا ہوئی اور اس نے جاہلیت کے طریقے پر اسے زندہ دفن نہیں کیا اور نہ اس کوحقیرجانا اورنہ لڑکے کو اس کے مقابلے میں ترجیح دی تو ایسے آدمی کو اللہ رب العزت جنت میں داخل کریگا{ابوداؤد} جائیداد میں لڑکی کا مقرر حصہ پوری خوش دلی اور اہتمام کے ساتھ دیجۓ

یہ خدا کا فرض کردہ حصہ ہے اس میں کمی بیشی کرنے کا کسی کوکوئی اختیار نہیں، لڑکی کاحصہ دینے میں حیلےکرنا یا اپنی صوابدید کےمطابق کچھ دے دلا کرمطمئن ہوجانا اطاعت شعار مومن کا کام نہیں ہے ایساکرنا خیانت بھی ہے اور اللہ رب العزت کے دین کی توہین بھی اللہ تعالی ہم سب کو صحیح سمجھ عطافرماۓ آمین.

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں