فتنۂ دجال اور نزولِ حضرت عیسیٰ علیہ السلام

فتنۂ دجال اور نزولِ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق ایک جامع حدیثِ مبارکہ، جس کے بارے میں حافظ ابوعبداللہ ابن ماجہ نے کہا کہ میں نے )اپنے شیخ( ابوالحسن طنافسی سے سنا وہ کہتے تھے میں نے عبدالرحمن محاربی سے سنا وہ کہتے تھے یہ حدیث تو اس لائق ہے کہ مکتب کے استاد کو دے دی جائے وہ بچوں کو مکتب میں سکھلائے۔
آپ بھی کچھ وقت اس حدیثِ مبارکہ کو ضرور دیں۔
۔
۔
حضرت ابوامامہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو خطبہ سنایا تو بڑا خطبہ آپ کا دجال سے متعلق تھا آپ نے دجال کا حال ہم سے بیان کیا اور ہم کو اس سے ڈرایا.
تو فرمایا,
کوئی فتنہ جب سے اللہ تعالی نے آدم کی اولاد کو پیدا کیا زمین پر دجال کے فتنے سے بڑھ کر نہیں ہوا اور اللہ تعالی نے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا جس نے اپنی امت کو دجال سے نہ ڈرایا ہو۔ اور میں تمام انبیاء کے آخر میں ہوں اور تم آخر میں ہو سب امتوں سے اور دجال تمہی لوگوں میں ضرور پیدا ہوگا۔
پھر اگر وہ نکلے اور میں تم میں موجود ہوں تو میں ہر مسلمان کی طرف سے حجت کروں گا۔ دجال کا فتنہ ایسا بڑا ہے کہ اگر میرے سامنے نکلے تو مجھ کو اس سے بحث کرنا پڑے گی اور کوئی شخص اس کام کے لئے کافی نہ ہوگا اور اگر میرے بعد نکلے تو ہر شخص اپنی ذات کی طرف سے حجت کر لے اور اللہ میرا خلیفہ ہے ہر مسلمان پر۔
دیکھو دجال نکلے گا خلہ سے جو شام اور عراق کے درمیان ہے )خلہ کہتے ہیں راہ کو( پھر فساد پھیلا دے گا بائیں طرف )ملکوں میں(۔
اے اللہ کے بندو جمے رہنا ایمان پر کیونکہ میں تم سے اسکی ایسی صفت بیان کرتا ہوں جو مجھ سے پہلے کسی نبی نے بیان نہیں کی )پس اس صفت سے تم خوب اس کو پہچان لو گے(۔
پہلے تو وہ کہے گا میں نبی ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے، پھر دوبارہ کہے گا میں تمہارا رب ہوں اور دیکھو تم اپنے رب کو مرنے تک نہیں دیکھ سکتے۔
اور ایک بات اور ہے، وہ کانا ہو گا اور تمہارا رب کانا نہیں ہے۔ اور دوسرے یہ کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان یہ لکھا ہوگا، کافر۔ اس کو ہر ایک مومن )بقدر الہی( پڑھ لے گا خواہ لکھنا جانتا ہو یا نہ جانتا ہو۔
اور اس کا فتنہ سخت ہوگا کہ اس کے ساتھ جنت اور دوزخ ہوگی لیکن اسکی جنت دوزخ ہے اور اسکی دوزخ جنت ہے پس جو کوئی اس کی دوزخ میں ڈالا جائیگا )اور وہ سچے مومنوں کو دوزخ میں ڈالنے کا حکم دے گا( وہ اللہ سے فریاد کرے اور سورہ کہف کے شروع کی آیتیں پڑھے اور وہ دوزخ اللہ کے حکم سے اس پر ٹھنڈی ہو جائیگی اور سلامتی جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر آگ ٹھنڈی ہوگئی،
اور اسکا فتنہ یہ ہوگا کہ ایک گنوار دیہاتی سے کہے گا دیکھ اگر میں تیرے ماں باپ کو زندہ کروں جب تو مجھ کو اپنا رب کہے گا؟ وہ کہے گا بے شک۔ پھر وہ شیطان دجال کے حکم سے اس کے ماں باپ کی صورت بن کر آئیں گے اور کہیں گے بیٹا اسکی اطاعت کر یہ تیرا رب ہے )معاذ اللہ( یہ فتنہ اس کا یہ ہوگا کہ آدمی پر غالب ہو کر اس کو مار ڈالے گا بلکہ آری سے چیر کر اس کے دو ٹکڑے کر دے گا پھر )اپنے معتقدوں سے( کہے گا دیکھو میں اپنے اس بندے کو اب زندہ کرتا ہوں، اب بھی وہ یہ کہے گا کہ رب اور کوئی ہے سوا میرے؟
پھر اللہ تعالی اس کو زندہ کر دے گا۔ اس سے دجال خبیث کہے گا تیرا رب کون ہے؟ وہ کہے گا میرا رب اللہ ہے اور تو اللہ کا دشمن ہے تو دجال ہے۔ قسم خدا کی آج تو مجھے خوب معلوم ہوا کہ تو دجال ہی ہے۔
ابوالحسن علی بن محمد طنافسی نے کہا )جو شیخ ہیں ابن ماجہ کے اس حدیث میں( ہم سے عبیداللہ بن ولید وصافی نے بیان کیا انہوں نے عطیہ سے روایت کی، انہوں نے ابوسعید خدری سے کہ آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس مرد کا درجہ میری امت میں سب سے بلند ہو گا جنت میں۔ اور ابو سعید نے کہا قسم خدا کی ہم تو یہ سمجھتے تھے کہ یہ مرد جو دجال سے ایسا مقابلہ کریں گے کوئی نہیں ہے سوائے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے۔ یہاں تک کہ حضرت گزر گئے۔
محاربی نے کہا اب پھر ہم ابو امامہ کی حدیث کو جس کو ابو رافع نے روایت کیا بیاں کرتے ہیں )کیونکہ ابوسعید کی حدیث درمیان میں اس مرد کے ذکر پر آگئی تھی اخیر دجال کا ایک فتنہ یہ بھی ہوگا(۔
دجال آسمان کو حکم کرے گا پانی برسانے کے لئے، تو پانی برسے گا اور زمین کو حکم کرے غلہ اُگانے کا، وہ غلہ اگائے گی۔ اور اس کا ایک فتنہ یہ ہوگا کہ وہ ایک قبیلے پر سے گزرے گا۔ وہ لوگ اسکو سچا کہیں گے تو وہ آسمان کو حکم کرے گا غلہ اور گھاس اگانے کا تو وہ اُگ آئیگی یہاں تک ان کے جانور اسی دن شام کو نہایت موٹے اور بڑے اور کوکھیں بھری ہوئی اور تھن دودھ سے پھولے ہوئے آئیں گے )ایک دن میں یہ سب باتیں ہو جائیں گی پانی بہت برسنا چارہ بہت پیدا ہونا جانوروں کا اس کو کھا کرتیار ہو جانا انکے تھن دودھ سے بھر جانا معاذ اللہ، کیا بڑا فتنہ ہو گا(۔
غرض دنیا میں کوئی ٹکڑا زمین کا باقی نہ رہے گا جہاں دجال نہ جائے گا اور اس پر غالب نہ ہوگا، سواۓ مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے۔ ان دونوں شہر میں جس راہ میں آئے گا اس کو فرشتے ملیں گے ننگی تلواریں لئے ہوئے، یہاں تک کہ دجال اتر پڑے گا چھوٹی لال پہاڑی کے پاس جہاں کھاری تر زمین ختم ہوئی ہے، اور مدینہ میں تین بار زلزلہ آئے گا )یعنی مدینہ اپنے لوگوں کو لے کر تین بار حرکت کرے گا( تو جو منافق مرد یا منافق عورت مدینہ میں ہوں گے وہ دجال کے پاس چلے جائیں گے اور مدینہ پلیدی کو اپنے میں سے دور کر دے گا جیسے بھٹی لوہے کا میل دور کر دیتی ہے۔ اس دن کا نام یوم الخلاص ہوگا )یعنی چھٹکارے کا دن(۔ ام شریک بنت ابوعکر نے عرض کیا یا رسول اللہ ! عرب کے لوگ اس دن کہاں ہوں گے؟ آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا عرب کے لوگ )مومن مخلصین( اس دن کم ہوں گے اور دجال کے ساتھ بے شمار لوگ ہوں گے، ان کو لڑنے کی طاقت نہ ہوگی، اور عرب )مومنین میں سے اکثر لوگ( اس وقت بیت المقدس میں ہوں گے، انکا امام ایک نیک شخص ہوگا۔
ایک روز انکا امام آگے بڑھ کر صبح کی نماز پڑھنا چاہے گا۔ اتنے میں حضرت عیسی بن مریم علیہ السلام صبح کے وقت اتریں گے تو یہ امام انکو دیکھ کر الٹے پاؤں پیچھے ہٹے گا تاکہ حضرت عیسی اپنا ہاتھ اس کے دونوں مونڈھوں کے درمیان رکھ دیں گے پھر اس سے کہیں گے تو ہی آگے بڑھ اور نماز پڑھا اس لئے کہ یہ نماز تیرے ہی لئے قائم ہوئی تھی )یعنی تکبیر تیری ہی امامت کی نیت سے ہوئی تھی( خیر وہ امام لوگوں کو نماز پڑھائے گا۔ جب نماز سے فارغ ہو گا حضرت عیسی علیہ السلام )مسلمانوں سے( فرمائیں گے )جو قلعہ یا شہر میں محصور ہوں گے اور دجال ان کو گھیرے ہو گا( دروازہ قلعہ کا یا شہر کا کھول دو۔ دروازہ کھول دیا جائے گا وہاں پر دجال ہوگا ستر ہزار یہودیوں کے ساتھ جن میں سے ہر ایک کے پاس تلوار ہوگی، اسکے زیور کے ساتھ اور چادر ہوگی۔ جب دجال حضرت عیسی علیہ السلام کو دیکھے گا تو ایسا گھل جائے گا جیسے نمک پانی میں گھل جاتا اور بھاگے گا اور حضرت عیسی علیہ السلام فرمائیں گے میری ایک مار تجھ کو کھانا ہے تو اس سے بچ نہ سکے گا۔ آخر باب لد کے پاس جو مشرق کی طرف ہے اسکو پائیں گے اور اسکو قتل کریں گے پھر اللہ تعالی یہودیوں کو شکست دے گا )یہود مردود دجال کے پیدا ہوتے ہی اس کے ساتھ ہو جائیں گے اور کہیں گے یہی سچا مسیح ہے جس کے آنے کا وعدہ اگلے نبیوں نے کیا تھا اور چونکہ یہود مردود حضرت عیسی علیہ السلام کے دشمن تھے اور محمد صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے اس لئے مسلمانوں کی ضد اور عداوت سے بھی اور دجال کے ساتھ ہو جائیں گے دوسری روایت میں ہے کہ اصفہان کے یہود میں سے ستر ہزار یہودی دجال کے پیرو ہو جائیں گے(۔
خیر یہ حال ہو جائے گا کہ یہودی اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزوں میں سے جس چیز کی آڑ میں چھپے گا اس چیز کو اللہ بولنے کی طاقت دے گا۔ پتھر ہو یا درخت یا دیوار یا جانور سو ایک درخت کے، جس کو غرقد کہتے ہیں، )وہ ایک کانٹے دار درخت ہوتا ہے، وہ یہودیوں کا درخت ہے، یہود اسکو بہت لگاتے ہیں اور اس کی تعظیم کرتے ہیں( نہیں بولے گا، تو یہ چیز )جس کی آڑ میں یہودی چھپے گا( کہے گی اے اللہ کے مسلمان بندے یہ یہودی ہے تو آ اور اسکو مار ڈال۔
اور آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ دجال چالیس برس تک رہے گا لیکن ایک برس چھ مہینے کے برابر ہوگا اور ایک برس ایک مہینے کے برابر ہو گا اور ایک مہینہ ایک ہفتہ کے برابر اور اخیر دن دجال کے ایسے ہوں گے جیسے چنگاری اڑتی جاتی ہے )ہوا میں(۔ تم میں سے کوئی صبح کو مدینہ کے ایک دروازے پر ہو گا پھر دوسرے دروازہ پر نہ پہنچے گا کہ شام ہو جائے گی۔
لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم ان چھوٹے دنوں میں نماز کیونکر پڑھیں آپ نے فرمایا اندازہ سے نماز پڑھ لینا جیسے لمبے دنوں میں اندازہ کرتے ہو۔
اور آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا حضرت عیسی علیہ السلام میری امت میں ایک عادل حاکم اور منصف امام ہوں گے اور صلیب کو )جو نصاری لٹکائے رہتے ہیں( توڑ ڈالیں گے۔ اور سور کو مار ڈالیں گے اس کا کھانا بند کرا دیں گے اور جزیہ موقوف کر دیں گے، بلکہ کہیں گے کافروں سے یا مسلمان ہو جاؤ یا قتل ہونا قبول کرو، تو نہ بکریوں پر نہ اونٹوں پر کوئی زکوة لینے والا مقرر کریں گے اور آپس میں لوگوں کے کینہ اور بغض اٹھ جائے گا اور ہر ایک زہریلے جانور کا زہر جاتا رہے گا۔ یہاں تک کہ بچہ اپنا ہاتھ سانپ کے منہ میں دے دے گا، وہ کچھ نقصان نہ پہنچائے گا، اور ایک چھوٹی بچی شیر کو بھگا دے گی وہ اسکو ضرر نہ پہنچائے گا، اور بھیڑیا بکریوں میں اس طرح رہے گا جیسے کتا، جو ان میں رہتا ہے۔
اور زمین صلح سے بھر جائے گی جیسے برتن پانی سے بھرجاتا ہے۔ اور سب لوگوں کا کلمہ ایک ہو جائے گا سواۓ خدا کے کسی کی پرستش نہ ہوگی )تو سب کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھیں گے( اور لڑائی اپنے سب سامان ڈال دے گی )یعنی ہتھیار اور آلات اتار کر رکھ دیں گے مطلب یہ ہے کہ لڑائی دنیا سے اٹھ جائے گی( اور قریش کی سلطنت جاتی رہے گی اور زمین کا یہ حال ہو گا کہ جیسے چاندی کی سینی )طشت(، وہ اپنا میوہ ایسے آگائے گی جیسے آدم کے عہد میں اگاتی تھی۔ )یعنی شروع زمانہ میں جب زمین میں بہت قوت تھی( یہاں تک کہ کئی آدمی انگور کے ایک خوشے پر جمع ہوں گے اور سب سیر ہو جائیں گے۔ اور بیل اس قدر داموں سے بکے گا )کیونکہ لوگوں کی زراعت کی طرف توجہ ہوگی تو بیل مہنگا ہوگا( اور گھوڑا تو چند روپوں میں بکے گا۔
لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم گھوڑا کیوں سستا ہوگا؟ آپ نے فرمایا اس لئے کہ لڑائی کے لئے کوئی گھوڑے پر سوار نہ ہوگا۔ پھر لوگوں نے عرض کیا بیل کیوں مہنگا ہوگا؟ آپ نے فرمایا، ساری زمین میں کھیتی ہو گی۔
اور دجال کے نکلنے سے تین برس پہلے قحط ہوگا، ان تینوں سالوں میں لوگ بھوک سے سخت تکلیف اٹھائیں گے۔ پہلے سال میں اللہ تعالی یہ حکم کرے گا آسمان کو کہ دو تہائی بارش روک لے اور زمین کو یہ حکم کرے گا کہ تہائی پیداوار روک لے، پھر تیسرے سال میں اللہ تعالی آسمان کو یہ حکم کرے گا کہ بالکل پانی نہ برسائے، ایک قطرہ بارش نہ ہوگا۔ اور زمین کو یہ حکم ہوگا کہ ایک دانہ نہ اگائے، تو گھاس تک نہ اگے گی نہ کوئی سبزی۔ آخر گھر والا جانور )جیسے گائے بکری( تو کوئی باقی نہ رہے گا سب مرجائیں گے، مگر جو اللہ چاہے۔
لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم پھر لوگ کیسے جئیں گے اس زمانہ میں؟
آپ نے فرمایا جو لوگ لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر اور سبحان اللہ اور الحمدللہ کہیں گے ان کو کھانے کی حاجت نہ رہے گی )یہ تسبیح اور تہلیل کھانے کے قائم مقام ہوگی(۔
)سنن ابن ماجہ – 4077

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں