عشاء کی نماز

عشاء کی نماز سب سے پہلے کس نے ادا فرمائی؟ اس کےبارے دوقول ہیں ایک قول یہ ہے کہ سب سےپہلے عشاء کی نماز حضرت موسی علیہ السلام نے اس وقت ادا فرمائی.جس وقت آپ حضرت شعیب علیہ السلام کےپاس دس سال قیام کرنے کےبعد اپنے اہل وعیال کےساتھ مصرواپس تشریف لارہے تھے اور آپ کی گھروالی امید سےتھیں ولادت کا وقت قریب تھا اورسفر بھی خاصاطویل تھا اس وجہ سےآپ کو بڑی فکرلاحق تھی کہ یہ اتنا لمباسفر کیسے پورا ہوگا؟

دوسرا اپنے بھائی حضرت ھارون علیہ السلام کی فکرتھی تیسرا فرعون جوآپکا جانی دشمن تھا، اس کاخوف اوراسکی طرف سےفکرلاحق تھی اورچوتھے ہونے والی اولاد کی فکرلاحق تھی ان چارپریشانیوں کےساتھ آپ سفرکررہے تھے، پھر دوران سفر صحیح راستے سےبھی منجانب اللہ ہٹا دئیے گے جسکی وجہ سےپریشانی میں اوراضافہ ہوگیا اس پریشانی کےعالم میں چلتےچلتے آپ کوہ طورکےقریب اس کی مغربی اور داہنی جانب پہنچ گے

رات اندھیری ٹھنڈی اوربرفانی تھی اہلیہ محترمہ کو ولادت کی تکلیف شروع ہوگی. چقماق پتھرسے آگ نکلی اسی حیرانی وپریشانی کےعالم میں دیکھا کہ کوہ طور پرآگ جل رہی ہے، آپ نے اپنےگھروالوں سےکہا آپ یہاں ٹھہریں میں کوہ طور سےآگ کاکوئی شعلہ لےکرآتا ہوں جب آپ کوہ طور پرپہنچے تواللہ رب العزت سےہم کلامی کاشرف حاصل ہوا، اورآپ کوبطور خاص ہم کلامی کی نعمت سےنوازا گیا، اللہ کریم نےفرمایا” پھرجب وہ آگ کےپاس پہنچےتو ان کومنجانب اللہ آواز دی گی کہ اۓموسی میں تمہارا رب ہوں آپ اپنےجوتے اتار دیں اس لیےکہ آپ مقدس وادی طوی میں ہیں اور میں نےآپ کو اپنی رسالت کےلیےمنتخب کرلیا ہے لہذا جو وحی آپ کی طرف بھیجی جارہی ہے اس کوغور سے سنیں

سورہ طہ آیت گیارہ

بہرحال جب اللہ رب العزت کی جانب سے یہ انعام حاصل ہوا تو آپ کی چارپریشانیوں کاخاتمہ ہوگیا، اس موقع پرعشاء کے وقت حضرت موسی علیہ السلام نے ان چار پریشانیوں سےنجات کےشکرانے میں چار رکعت نماز ادا فرمائی اور یہ نماز اللہ کریم کو اتنی پسند آئی کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر ان کو فرض کردیا، اور دوسراقول یہ ہےکہ عشاء کی نماز سب سے پہلے جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ادا فرمائی.


تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں