اذان شیطانی جنات کی موت

جب شیطان کسی کوپریشان کرے اور ڈراۓ اس وقت بلند آواز سے اذان کہنی چاہیے، کیونکہ شیطان اذان سے بھاگتا ہے، حضرت سہیل بن ابی صالح کہتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے بنوحارثہ کے پاش بھیجا، اورمیرے ہمراہ ایک بچہ یاساتھی تھا دیوار کی طرف سےکسی پکارنے والے نے اس کا نام لیکر آواز دی اور اس شخص نے جومیرے ہمراہ تھا دیوار کی طرف دیکھا

اس کو کوئی چیز نظر نہیں آئی. پھرمیں نے اپنے والد صاحب سے اس کا تذکرہ کیاتو انہوں نے فرمایا،اگرمجھے پتہ ہوتا کہ تمہیں یہ بات پیش آۓ گی تومیں تم کو نہ بھیجتا:” لیکن{یہ بات یاد رکھوکہ} جب تم کوئی آواز سنوتوبلند آواز سے آذان کہو، کیونکہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کرتے ہوۓ سنا ہے کہ جب اذان کہی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ پھیرکر گوز مارتا ہوا بھاگتاہے

 بحوالہ مسلم شریف جلد اؤل.

گھرکے کسی حصے میں آتے جاتے خوف محسوس ہو. یا گھرکے کسی حصہ سے خوف ذدہ آوازیں سنائی دیتی ہو. تواس حصہ میں بلند آواز میں اذان کہو.جن پر جادو ہو یا جنات کا سایہ ہو ان کے کانوں میں اذان پڑھو اذان جادو کا توڑ ہے اذان شیطانی جنات کی موت ہے اذان میں وہ طاقت اورقوت ہے کہ کسی شیطان کی کسی جنات کی اتنی ہمت نہیں کہ اذان کے سامنے پل بھر بھی ٹھہرسکے. مزید جناتی بیماریوں میں مریض کے کانوں میں اذان کہو.

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں