حضرت مرزا مظہر جان جاناں رحمہ اللہ علیہ کی ولایت

حضرت مرزا مظہر جان جاناں رحمہ اللہ علیہ سلسلہ نقشبندیہ کے اکابر اولیاء میں سے ہیں لیکن بادشاہوں کی وہ شان نہیں ہوتی تھی جو ان کی شان تھی، مسند الگ تھی، صفائی ستھرائی الگ، خدام الگ کھڑے ہوۓ ہیں، دروازے کے اوپر دربان الگ موجود ہیں اور صفائی کا یہ عالم کہ اگر ایک تنکا بھی سامنے پڑا ہوا ہوتا تھا تو سرمیں درد ہوجاتا تھا فرماتے تھے” کوڑا کباڑ گھر کے اندر بھر رکھا ہے آپ کے مزاج میں بہت نزاکت تھی.

بادشاہ وقت نےملنے کی آرزو کی، بہت چاہا کہ مجھے اجازت مل جاۓ مگراجازت نہیں تھی. آخر حضرت مرزا صاحب رحمہ اللہ علیہ کےخادم خاص کو اپنے پاس بلایا اورکہا کہ تو ان کے دل میں گھرکئے ہوۓ ہے، تیرا معاملہ بہت رسوخ کا ہے تو میرےلیے ایک پانچ منٹ کی مہلت لےلے، اس نے کچھ اتار چڑھاؤ کرکے حضرت رحمہ اللہ علیہ سے عرض کیاتو پانچ منٹ کی اجازت ہوگی کہ بادشاہ آسکتے ہیں بادشاہ سلامت آۓ. بہت ادب کےساتھ دوزانو ایک طرف بیٹھ گے.

حضرت مرزا صاحب نے کچھ نصائح فرمائیں.اس دوران میں حضرت مرزا صاحب رحمہ اللہ علیہ کو پیاس معلوم ہوئی تو خادم کو پانی لانے کا اشارہ کیا.بادشاہ نے سمجھ لیا کہ حضرت پانی چاہتے ہیں تو کھڑے ہوکر ہاتھ جوڑ کرعرض کیا. اگرمجھے اجازت ہو؟ اجازت ہوگی کہ اچھا تم پانی پلاؤ. تو بادشاہ پانی لینے گۓ توگھڑے کے اوپر جو بڈولی ڈھکی ھوئی تھی. پانی لےکر جو اسے رکھا تووہ کچھ ٹیڑھی رکھی گئ. بس مزاج میں تغیر پیدا ہوگیا . فرمایا” تمہیں پانی پلانا تو آتا نہیں تم بادشاہت کیسے کرتے ہوگے؟

ہٹو یہاں سے” اپنے خادم خاص کوحکم دیا کہ وہی پانی پلاۓ گا. اس جلالی اور نفیس مزاج کے بھی بزرگ گزرے ہیں کہ ان کی ولایت میں کوئی کمی نہیں ولی کامل ہیں ان کی نسبت وتصرف اورتربیت سےہزاروں اولیاء بن گے.

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں