اللہ کا خوف

ایک مرتبہ حضرت داؤد طائی رحمہ اللہ علیہ حضرت امام جعفرصادق رحمہ اللہ علیہ کی خدمت حاضر تھے. تو امام جعفرصادق رحمہ اللہ علیہ سے عرض کرنے لگے کہ حضرت کچھ نصحیت فرما دیں! امام صاحب خاموش رہے

حضرت داؤد طائی رحمہ اللہ علیہ نے پھر عرض کیا حضرت آپ چونکہ اہل بیت رضی اللہ عنھمامیں سے ہیں اس لیے مجھ کوکوئی نصحیت فرمائیں. امام صاحب پھرخاموش رہے. آخر جب حضرت داؤد طائی رحمہ اللہ علیہ نے کہا کہ اہل بیت ہونے کے اعتبار سے اللہ تعالی نے آپ کو جو فضیلت بخشی ہے اس لحاظ سے نصحیت کرنا آپ پر بمنزلہ فرض کے ہے یہ سن کرآپ نےفرمایا کہ

مجھے تو یہی خوف لگا ہوا ہے کہ روز محشر کہیں میرے جد اعلی میرا ہاتھ پکڑ کریہ سوال نہ کر بیٹھیں کہ تو نے خود میری اتباع کیوں نہیں کی؟ اس لیے کہ نجات کا تعلق نسب سے نہیں بلکہ اعمال صالحہ پرموقوف ہے،یہ سن کر حضرت داؤد طائی رحمہ اللہ علیہ کو بہت عبرت ہوئی

اللہ تعالی سے عرض کرنےلگے کہ جب اہل بیت رضی اللہ عنھما پرخوف کے غلبہ کا یہ عالم ہے تو میں کس گنتی میں آتا ہوں؟ اورکس چیز پر فخر کرسکتا ہوں؟

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں