فجر کی نماز

فجر کی نماز سب سےپہلے حضرت آدم علیہ السلام نے ادا فرمائی. جس وقت اللہ تعالی نے انکو دنیا میں اتارا، اس وقت دنیا میں رات چھائی ہوئی تھی،حضرت آدم علیہ السلام جنت کی روشنی سے نکل کر دنیا کی اس تاریک اور اندھیری رات میں دنیا میں تشریف لاۓ

اس وقت ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا تھا، حضرت آدم علیہ السلام کوبڑی تشویش اور پریشانی لاحق ہوئی کہ یہ دنیا اتنی تاریک ہے، یہاں زندگی کیسے گزرےگی؟نہ کوئی چیز نظر آتی ہے، نہ جگہ سمجھ میں آتی ہےکہ کہاں ہیں اورکہاں جائیں؟

ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہے چنانچہ خوف محسوس ہونے لگا.اس کےبعد آہستہ آہستہ روشنی ہونے لگی اور صبح کا نور چمکنے لگا صبح صادق ظاہرہوئی توحضرت آدم علیہ السلام کی جان میں جان آئی اس وقت حضرت آدم علیہ السلام نے سورج نکلنے سے پہلے دو رکعتیں بطور شکرانہ ادا فرمائیں

ایک رکعت رات کی تاریکی جانے کے شکرانہ میں ادا فرمائی اور ایک رکعت دن کی روشنی نمودار ہونے کےشکرانے میں ادا فرمائی، یہ دو رکعتیں اللہ تعالی کو اتنی پسند آئیں کہ اللہ تعالی نے انکو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر فرض فرما دیا.

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں