جناب ِرسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی انگوٹھی

آغاز ِ اسلام میں مردوزن کے لیے سونا یکساں حلال تھا مگر تھوڑے ہی عرصہ بعد شریعت نے مردوں کے لیے سونا پہننے کی ممانعت فرمادی ،حدیث مبارکہ میں ہے کہ سیدنا ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ ؐ نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی تو آپ ؐ اسے اپنے دائیں ہاتھ میں پہنتے تھے پھرلوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنالیں تورسول اﷲ ؐ نے اپنی انگوٹھی پھینک دی اور فرمایا ’’میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا ‘‘ تو لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں ۔

الترمذی ۱۷۴۱ومسلم ۵۴۷۵

پھر آپ ؐ نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی ،سیدنا انس ؓ اس کی وجہ بھی بیان کرتے ہیں ،کہتے ہیں کہ حدیبیہ سے واپسی پر رسول اﷲ ؐ نے بلاد عجم کی طرف دعوتی خطوط ارسال کیے توپتہ چلا کہ عجمی لوگ صرف وہی خطوط قبول کرتے ہیں جس پر مہر لگی ہوئی ہو ،آپ ؐ نے مہر (والی انگوٹھی ) بنوائی ۔سیدنا انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ؐ نے کسریٰ ،قیصر اور نجاشی کی طرف خطوط بھیجے توآ پؐ سے کہا گیا کہ یہ لوگ مہر کے بغیر خط قبول نہیں کرتے تو رسول اﷲ ؐ نے ایک انگوٹھی بنوائی ،جس کا حلقہ چاندی کا تھا اوراس پر محمد رسول اﷲؐ لکھا ہواتھا ۔

صحیح مسلم ۵۴۸۲

ایک دوسری روایت میں ہے کہ رسول اﷲ ؐ کی انگشتری (انگوٹھی )چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ بھی اسی(چاندی)سے تھا ۔

الترمذی۱۷۴۰ صحیح

سیدنا انس ؓ نے وضاحت فرمائی کہ آپ ؐ کی انگوٹھی میں آپ ؐؐ کا جو نام نقش تھا ، اس کا انداز یہ تھا کہ ایک سطر میں محمد ،دوسری میں رسول اورتیسری سطر میں اﷲ تھا ۔

الترمذی۱۷۴۷صحیح

اوریہ انگوٹھی آ پ ؐ ہر وقت نہیں پہنتے تھے بلکہ جب کبھی مہر لگا تے تو پھر اسے پہنتے تھے جیسا کہ احادیث میں وضاحت موجود ہے ۔

سنن النسائی ۵۲۲۱ حسن

علاوہ ازیں آپؐ جب انگوٹھی پہنتے تو نگینے والے حصے کو ہتھیلی کے قریب (یعنی ہتھیلی کی جانب ) رکھتے ۔

صحیح مسلم ۵۴۸۷

بعض احادیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ ؐ کی ایک اور انگوٹھی بھی تھی جس کا نگینہ حبشی پتھر کا تھا صحیح مسلم ۵۴۸۷و الترمذی ۱۷۳۹

سیدنا عبداﷲ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ ؐ نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی جو آپ ؐ پہنتے تھے ،پھر( آپ ؐ کی رحلت کے بعد )اسے جناب ابوبکر ؓ پہنتے تھے،پھرجناب عمر ؓ پہنتے تھے پھر یہ انگوٹھی جناب عثمان ؓ کے ہاتھ میں ہوتی تھی حتیٰ کہ وہ اریس کنویں میں گر گئی ، اس کا نقش ’’ محمد رسول اﷲ ) لکھا ہوا تھا ۔

بخاری ۵۸۷۳ ومسلم ۲۰۹۱

اریس کا کنواں مسجد قبا کے قریب واقع تھا ۔﴿فتح الباری ۱۰۔۳۱۹

مزید وضاحت کرتے ہوئے ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ؐ نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی اوراس کے نگینے والا حصہ ہتھیلی کے قریب تھا ،جس پر محمد رسول ااﷲ ؐ لکھا ہوا تھا ، آ پ ؐ نے اس طرح کا نقش (محمد رسول اﷲ ؐ ) لکھنے سے لوگوں کو منع فرمادیا اور وہ انگوٹھی (دورِ عثمانی) مصعیب ؓ سے اریس والے کنویں میں گر گئی تھی ۔

صحیح مسلم ۵۴۷۷

انگوٹھی پر نقش محمد رسول اﷲ لکھوانا اور پھر ایسی انگوٹھی پہننا درست نہیں جب کہ کوئی اور نام وغیرہ لکھوانا درست ہے جیساکہ ابن عمر ؓ نے اپنی انگوٹھی پر سنت کی پیروی میں اپنا نام عبداﷲ بن عمر لکھوایا ہوا تھا ۔﴿مصنف ابن ابی شیبہ ۸۔۲۷۰صحیح﴾انگوٹھی کے متعلق یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ انگوٹھی کس انگلی میں پہنی جائے ۔
سیدنا علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ؐ اپنے دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے ۔

ابوداؤد۴۲۲۷
۲انگوٹھی بائیں ہاتھ میں پہنی جاسکتی ہے جب کہ افضل دائیں ہاتھ کی انگلیوں میں پہننا ہے ۔

صحیح مسلم ۵۴۸۹ والترمذی ۱۷۴۴
۳نبی کریم ؐ نے درمیانی اور شہادت والی انگلی میں انگوٹھی پہننا ممنوع قراردی ہے ۔

صحیح مسلم ۵۴۹۰۔۵۴۹۳
بنصر (بڑی انگلی کے درمیان والی انگلی )اورخنصر (چھنگلی ) دونوں انگلیوں میں انگوٹھی پہننا درست ہے کیونکہ آپ ؐ کی ممانعت موجودنہیں مزید یہ کہ چھنگلی میں انگوٹھی پہننا ثابت ہے

صحیح مسلم ۵۴۸۹

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں