حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شہادت

27 ذی الحجہ سن 23 ہجری بروز بدھ کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسجد نبوی میں نماز فجر کی امامت کروا رہے تھے۔ نماز کے دوران ابو لؤلؤ فیروز نامی مجوسی غلام نے زہر آلود خنجر سے آپ کے جسم مبارک پر تین چار وار کیے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ زخمی ہو کر گر پڑے، حضرت عبدالرحمن بن عوف  رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی، بدبخت قاتل نے مسجد سے بھاگتے ہوئے تقریباً تیرہ مسلمانوں پر وار کیا جن میں سے سات شہید ہو گئے۔
آپ  رضی اللہ عنہ کو بیہوشی کی حالت میں گھر لایا گیا، ہوش آنے پر جب آپ کو بتایا گیا کہ حملہ آور مجوسی تھا تو آپ نے اس بات پر اللہ کا شکر ادا کیا کہ حملہ آور مسلمان نہ تھا۔ آپ  رضی اللہ عنہ پر خشیت الٰہی کی کیفیت طاری ہو گئی، آپ نے اپنے بیٹے عبداللہ کو حکم دیا کہ میرا سر اپنی گود سے ہٹا کر زمین پر رکھ دو تاکہ اللہ تعالٰی مجھ سے رحم و کرم والا معاملہ فرمائیں۔ اس موقع پر حضرت عبداللہ بن عباس  رضی اللہ عنہ آپ کو بشارتیں اور تسلیاں دیتے رہے۔
تین دن کرب میں گزارنے کے بعد آپ  رضی اللہ عنہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے یکم محرم الحرام سن 24ھ کو جام شہادت نوش کر گئے۔
حدیث:جس نےعمرسےبغض رکھا،اس نےمجھ سےبغض رکھااورجس نےعمرسےمحبت کی اس نےمجھ سےمحبت کی،بےشک اللہ عرفہ کی رات سب مسلمانوں پرفخرکررہا ہےمگرعمرپرخاص طورپر فخرکررہاہےاوراللہ نےکوئی ایسانبی نہیں بھیجاجسکی امت میں محدث نہ ہواگرمیری امت میں محدث ہےتووہ عمرہےصحابہ نےعرض کیامحدث کسےکہتے ہیں؟
فرمایا:جسکی زبان پرفرشےبولتےہیں
(مجمع الزوائد،حدیث14439
کتاب المناقب
باب:مناقب عمربن خطاب رضی اللہ عنہ
ناشر:دارالفکربیروت)

جماعت صحابہ رضی اللہ عنہ  میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ  کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ آپ کا نام لے کر نبی مہربان ﷺ اللہ سے ہدایت کی دعا مانگا کرتے تھے۔ حالانکہ  حضرت عمر رضی اللہ عنہ  خون کے پیاسے تھے۔ اللہ نے دعاء قبول فرمائی اور سیدنا  حضرت عمر رضی اللہ عنہ  اسلام کی آغوش میں آ گئے۔
وہ دوسرے خلیفہ راشد ہیں عدل و انصاف کے لیے ان کا نام ضرب المثل ہے۔ دنیا میں پہلی حقیقی فلاحی ریاست جس کی ہدایت آنحضرت ﷺ نے فرمائی تھی وسائل حاصل ہونے پر حضرت حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قائم کی۔
ڈاک کا نظام ، فوجی چھاؤنی ، فوجیوں کی تنخواہ کا نظام ، سلطنت کا معاشی نظام ، کھیتی باڑی کے لیے نہری نظام اور تعلیمی نصاب کی تدوین کا کام بھی آپ کے دور میں شروع ہوئے۔
کرۂ ارض کے بائیس لاکھ مربع میل کا فرمانروا،، پیوند لگا لباس زیبِ تن کرنے والا وہ درویش حکمران کہ جس نے اپنا رخسار مٹی پر رکھا اور حالتِ تقویٰ میں یہ کہتے ہوئے اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کی؛ “میری ماں ہلاک ہو اگر اﷲ نے میری بخشش نہ کی”۔۔ اس کے بارے میں اللہ کے پیغمبر ﷺ کا فرمانِ حق ہے؛ “اللہ نے عمرؓ کی زبان اور دل پر حق جاری کر دیا ہے۔” (ترمذی :۳۶۸۲)
وہ ہستی جسکے متعلق مسلمانوں کے خلیفۂ چہارم حضرت علیؓ کی گواہی موجود ہے؛ “میں ابوبکرؓ کے بعد اس امّت کے بہترین آدمی کے بارے میں نہ بتاؤں؟ پھر فرمایا، وہ عمرؓ ہیں۔” (مسند احمد:۸۳۳)
اس عظیم انسان پر لاکھوں سلامِ عقیدت اور اللہ کی کروڑہا رحمتیں ہوں جس کے نام سے ابلیسیت ہمیشہ لزرتی رہے گی۔۔!!
آپ کی تمنا تھی کہ شہادت ملے اور موت آئے تو دیار حبیب میں ! اللہ نے شہادت بھی بخشی اور وہ بھی دیار حبیب میں نہیں محراب حبیب میں۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں