حضرت رابعہ بصری رحمتہ اللہ علیہ (حصہ دوم)

اور جب مکہ میں داخل ہوۓ تو وہاں سےخانہ کعبہ غائب تھا چنانچہ آپ اس تصور سے آبدیدہ ہوگےکہ شاید میری بصارت زائل ہوچکی ہےلیکن غیب سے ندا آئی کہ آپکی بصارت زائل نہیں ہوئی ہے بلکہ کعبہ ایک ضعیفہ کے استقبال کےلیےگیاہواہے یہ سن کر آپ کی نظر اٹھی تو دیکھاکہ سامنے سےحضرت رابعہ بصری رحمہ اللہ لاٹھی کے سہارےچلی آرہی ہیں اور کعبہ اپنےمقام پر پہنچ چکا ہے اور نے حضرت رابعہ بصری سے کہاکہ آپ نے نظام عالم کو کیوں درہم برہم کر رکھا ہے؟ حضرت رابعہ نےفرمایا کہ میں نے تو نہیں البتہ آپ نے نظام عالم میں ایک ہنگامہ کھڑا کررکھا ہے جو جودہ برس میں کعبہ تک پہنچے ہوحضرت ابراہیم بن ادھم نےکہا کہ میں ہرگام پر دو رکعت نفل پڑھتا ہوا آیا ہوں جسکی وجہ سے اتنی تاخیر سے پہنچا تو حضرت رابعہ نے فرمایا کہ آپ نے تو نماز پڑھ پڑھ کرفاصلہ طےکیا ہے اورمیں عجز وانکساری کےساتھ یہاں تک پہنچی ہوں پھر ادائیگی حج کے بعد اللہ رب العزت سے رو کرعرض کیا ” یا اللہ تو نے حج پر بھی اجرکا وعدہ فرمایا ہے اورمصیبت پرصبر کرنے پر بھی لہذا اگرتو نے میرا حج قبول نہیں فرمایا تو پھر مصیبت پر صبرکرنے کا ہی اجر عطافرما دے؟ کیونکہ حج کی عدم قبولیت سےبڑھ کر اورکونسی مصیبت ہوسکتی ہے اور پھر وہاں سے بصرہ واپس ہوکر عبادت میں مشغول ہوگئیں اور جب دوسرے سال حج کا زمانہ آیا تو فرمایاکہ گزشتہ سال تو کعبہ نےمیرا استقبال کیا تھا اس سال میں اس کا استقبال کروں گئ چنانچہ شیخ فارمدی کےقول کےمطابق ایام حج کےموقع پر آپ نے جنگل میں جاکرکروٹ کے بل لڑھکنا شروع کردیا اورمکمل سات سال کے عرصہ میں عرفات پہنچیں اور وھاں یہ غیبی آواز سن کرکہ اس طلب میں کیا رکھا ہے؟ اگرتوچاہے تو ہم اپنی تجلی سے بھی نوازسکتے ہیں آپ نے عرض کیاکہ مجھ میں اتنی قوت وسکت کہاں البتہ رتبہ فقرکی متمنی ہوں. ارشاد ہوا کہ فقر ہمارے قہر کےمترادف ہے جسکو ہم نےصرف ان لوگوں کےلیےمخصوص کردیا ہے جو ہماری بارگاہ سے اس طرح متصل ہوجاتے ہیں کہ سرمو فرق باقی نہیں رہتا پھر ہم انہیں لذت وصال سےمحروم کرکے آتش فراق میں جھونک دیتے ہیں لیکن اس کےباوجود ان پرکسی قسم کا حزن وملال نہیں ہوتا بلکہ حصول قرب کےلیے سرگرم عمل ہوجاتے ہیں مگرتو ابھی دنیاکےسترپردوں میں ہے اورجب تک ان پردوں سے باہرآکرہماری رہ میںگامزن نہ ہوگی اس وقت تک تجھے فقرکا نام بھی نہیں لیناچاہے

پھرارشاد ہوا کہ ادھر دیکھ! اور جب رابعہ بصری نے نگاہ اٹھاکر دیکھا تولہو کا ایک بحربےکراں ہوا میں معلق نظرآیا اور ندا آئی کہ یہ ہمارے ان عشاق کی چشم خونچکاں کا دریا ہے جو ہماری طلب میں چلے اور پہلی ہی منزل میں اس طرح پاشکستہ ہوکر رہ گۓ کہ انکا کہیں سراغ نہیں ملتا رابعہ بصری نے عرض کیاکہ اۓ اللہ ان عشاق کی ایک صفت کا مجھے بھی مظاہرہ کروا دے مگریہ کہتے ہی انہیں نسوانی معذور ہوگی اور یہ ندا آئی کہ ان کا مقام یہی ہے جوسات برس تک پہلو کےبل لڑھکتے ھیں تاکہ خدا تک رسائی میں ایک حقیرسی شۓ کامشاہدہ کرسکیں اور جب وہ قرب منزل تک رسائی حاصل کرلیں تو ایک حقیرسی علت ان کی راہوں کو مسدود کرکےرکھ دے، پھر رابعہ نے عرض کیاکہ اگرتیری مرضی مجھے اپنےگھرمیں رکھنےکی نہیں ہےتو پھرمجھے بصرہ میں ہی سکونت کی اجازت عطافرمادے کیوں کہ میں تیرےگھرمیں رہنےکی اہل نہیں ہوں اور یہاں آمد سےقبل صرف تمناۓ دیدار میں زندگی بسرکرتی رہی جس کی مجھے اتنی بڑی سزا دی گی ہے یہ عرض کرکے آپ واپس بصرہ پہنچ گئیں اور پھرتاحیات گوشہ نشین ہوکرمعصروف عبادت رہیں

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں