حضرت رابعہ بصری رحمتہ اللہ علیہ (حصہ اول)

حضرت رابعہ بصری رحمتہ اللہ علیہ پردہ نشینوں کی مخدومہ، خاصان خداوندی، سوختہ عشق، قرب الہی کی شیفتہ اور پاکیزگی میں مریم ثانی تھیں، آپ بہ اعتبار ریاضت ومعرفت ممتاز زمانہ تھیں اسی لیے تمام اہل اللہ کی نظر میں معتبر اور ذی عزت تصور کی جاتی ہیں، ولادت کی شب میں آپ کے والد کے یہاں نہ تو اتنا تیل تھا جس سے ناف کی مالش کی جاتی اور نا اتنا کپڑا تھا جس میں آپ کو لپیٹا جاسکتا، حتی کہ بدحالی کا یہ عالم تھاکہ گھرمیں چراغ تک نا تھا اورچونکہ آپ اپنی تین بہنوں کے بعد تولد ہوئیں تو اسی مناسبت سے آپکا نام رابعہ رکھا گیا اور جب آپکی والدہ نے آپ کے والد سےکہا کہ پڑوس میں سے تھوڑا سا تیل مانگ لاؤ تاکہ گھرمیں کچھ روشنی ہوجاۓ تو آپ نے شدید اصرار پرہمسایہ کے دروازے پر صرف ہاتھ رکھ کرگھر میں آ کے کہہ دیا کہ وہ دروازہ نہیں کھول رہے، کیونکہ وہ یہ عہد کرچکے تھے کہ اللہ رب العزت کے سوا کبھی کسی سے کچھ طلب نہیں کرونگا اسی پریشانی میں نیند آگی، توخواب میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تسلی وتشفی دیتے ہوۓ فرمایاکہ تیری یہ بچی بہت ہی مقبولیت حاصل کرےگئ اور اس کی شفاعت سےمیری امت کے ایک ہزار افراد بخش دئیے جائیں گے اس کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ والئ بصرہ کے پاس ایک کاغذ پر یہ تحریرکرکےلے جاو کہ ہریوم ایک سومرتبہ مجھ پر درود بھیجتا ہے اورشب جمعہ میں چارسو مرتبہ لیکن آج جمعہ کی جو رات گزری ہے اس میں تو درود بھیجنا بھول گیا؟ لہذا بطور کفارہ حاصل ہذا کو چارسو دینار دے دے، صبح کو بیدار ہوکر آپ بہت روۓ اور خط تحریرکرکے دربان کے ذریعہ والئ بصرہ کے پاس بھیج دیا اس نے مکتوب پڑھتے ہی حکم دیا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد آوری کے شکرانے میں دس درہم تو فقراء میں تقسیم کر دو اور چار سو دینار اس شخص کو دے دو، اس کے بعد والئ بصرہ تعظیما” خود آپ سےملاقات کرنے پہنچا اور عرض کیا کہ جب بھی آپکو کسی چیز کی ضرورت ہوا کرے آپ مجھے مطلع فرما دیاکریں چنانچہ انھوں چار سو دینار لےکرضرورت کا تمام سامان خرید لیا

حضرت رابعہ بصری شب و روز میں ایک ہزار رکعت نماز پڑھاکرتی تھیں اورگاہے گاہے حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ کے وعظ میں بھی شریک ہوتیں ایک روایت یہ بھی ہےکہ ابتداءمیں آپ گاتی بجاتی تھیں بعد میں تائب ہوکرجنگل میں گوشہ نشین ہوگئیں پھرجس وقت سفرحج پر روانہ ہوئیں تو آپکا ذاتی گدھا بہت نحیف تھا اور جب آپ سامان لاد کر روانہ ہوچکیں تو وہ راستہ ہی میں مرگیا، یہ دیکھ کر اہل قافلہ نے عرض کیاکہ آپکا سامان ہم لوگ اٹھالیں گے لیکن آپ نےفرمایاکہ میں نےتمھارے بھروسے پرسفر نہیں کیا ہے یہ سن کر اہل قافلہ کوبرا محسوس ہوا اور وہ آپکو تنہا وہیں چھوڑ کرآگےبڑھ گے اس وقت آپ نے بارگاہ الہی میں عرض کیاکہ ایک نادار وعاجز کےساتھ کیایہی سلوک کیا جاتا ہے کہ پہلے تو اپنےگھرکی جانب مدعو کیاپھر راستےمیں میرےگدھےکومار ڈالا اور اب مجھکو جنگل میں تنہا چھوڑ دیا گیا؟ ابھی آپ کا شکوہ ختم بھی نہ ہونے پایا تھاکہ آپکے مرے گدھےمیں جان آگی اور آپ اس پرسامان لاد کرعازم مکہ ہوگئیں. ایک راوی کا بیان ہےکہ عرصہ دراز کے بعد میں نے اس گدھے کو مکہ معظمہ کے باذار میں فروخت ہوتے بچشم خود دیکھا، اس سےمعلوم ہوتا ہےکہ آپ کی برکت دعا سے اسکی عمرطویل ہوئی، جب آپ مکہ معظمہ پہنچیں تو کچھ ایام بیابان میں مقیم رہ کر اللہ تعالی سے التجاکی کہ میں اس لیے دل گرفتہ ہوئی کہ میری تخلیق تو خاک سے ہوئی ہے اورکعبہ پتھر سے تعمیرکیاگیا لہذا میں تجھ سے بلاواسطہ ملاقات کی متمنی ہوں چنانچہ بلاواسطہ اللہ تعالی نے مخاطب کرکےفرمایاکہ اۓ رابعہ کیا نظام عالم درہم برہم کرکے تمام اہل عالم کا خون اپنی گردن پرلیناچاہتی ہے اورکیا تجھے معلوم نہیں کہ جب حضرت موسی علیہ السلام نے دیدارکی خواہش کی اور ہم نے اپنی تجلیات میں سے ایک چھوٹی سی تجلی کوہ طور پر ڈالی تو وہ پاش پاش ہوگیا تھا، اس کے بعد جب آپ دوبارہ حج کوگئیں تو دیکھا کہ خانہ کعبہ خود آپکے استقبال کےلیے چلا آرہا ہے تو آپ نےفرمایاکہ مجھےمکان کی حاجت نہیں بلکہ مکین کی ضرورت ہے کیوں کہ مجھے حس کعبہ سے زیادہ جمال خداوندی کے دیدار کی تمنا ہے حضرت ابراہیم بن ادھم رحمتہ اللہ علیہ جب سفرحج پر روانہ ہوۓ تو ہرگام پر دو رکعت نماز نفل ادا کرتے ہوۓ چلے اورمکمل چودہ سال میں مکہ معظمہ پہنچے اور دوران سفریہ بھی کہتے جاتےکہ دوسرےلوگ توقدموں سےچل کر پہنچتے ہیں لیکن میں سر اورآنکھوں کے بل چل کر پہنچونگا

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں