سلطان نورالدین محمود زنگیؒ

تحریر خالد محمود

خلفائے راشدین اور حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کےبعد جن مسلمان حکمرانوں کی عظمت کردار نے آسمان کی رفعتوں کو چھو لیا ان میں ملک العادل سلطان نورالدین محمود زنگیؒ کا نام نامی امتیازی حیثیت رکھتا ہے۔

اس کی عظمت کا اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہوگا کہ ہردور کے مورخ ،دوست اوردوشمن سبھی نے اسکی شہرتِ عام اور بقائے دوام کےدربار میں نمایاں جگہ دی ہے۔ بعض مورخین نےخلفائے راشدینؓ کےبعد تمام فرماں روایان اسلام میں اس کوسب سےبہتر قرار دیا ہے ۔

سلطان نور الدین زنگی سلطنت کے بانی عماد الدین زنگی کا بیٹا تھا عماد الدین زنگی سلجوقی حکومت کی طرف سے شہر موصل کا حاکم تھا۔ جب سلجوقی حکومت کمزور ہوگئی تو اس نے زنگی سلطنت قائم کرلی اورعیسائیوں کو شکستوں پر شکستیں دیں جس نے تاریخ میں بڑا نام پیدا کیا۔ نور الدین فروری 1118ء میں پیدا ہوا اور 1146ء سے 1174ء تک 28سال حکومت کی۔

نور الدین بہادری میں اپنے باپ کی طرح تھا۔ ایک مرتبہ جنگ میں اسے دشمنوں کی صف میں بار بار گھستے دیکھ کر اس کے ایک مصاحب قطب الدین نے کہا : ”اے ہمارے بادشاہ! اپنے آپ کو امتحان میں نہ ڈالئے اگر آپ مارے گئے تو دشمن اس ملک کو فتح کرلیں گے اور مسلمانوں کی حالت تباہ ہوجائے گی“۔ نورالدین نے یہ بات سنی تو اس پر بہت ناراض ہوا اور کہا : ”قطب الدین! زبان کو روکو، تم اللہ کے حضور گستاخی کررہے ہو۔ مجھ سے پہلے اس دین اور ملک کا محافظ اللہ کے سوا کون تھا؟“۔

نور الدین صرف ایک فاتح نہیں تھا بلکہ ایک شفیق حکمران اور علم پرور بادشاہ تھا۔ اس نے سلطنت میں مدرسوں اور ہسپتالوں کا جال بچھا دیا۔ اس کے انصاف کے قصے دور دور تک مشہور تھی۔ وہ بڑی سادی زندگی گزارتا تھا، بیت المال کا روپیہ کبھی ذاتی خرچ میں نہیں لایا۔ مال غنیمت سے اس نے چند دکانیں خرید لیں تھیں جن کے کرائے سے وہ اپنا خرچ پورا کرتا تھا۔ اس نے اپنے لیے بڑے بڑے محل تعمیر نہیں کئے بلکہ بیت المال کا روپیہ مدرسوں، شفاخانوں اور مسافر خانوں کے قائم کرنے اور رفاہ عامہ کے دیگر کاموں میں صرف کرتا۔  دمشق میں اس نے ایک شاندار شفاخانہ قائم کیا تھا جس کی دنیا میں مثال نہ تھی۔ اس میں مریضوں کو دوا بھی مفت دی جاتی تھی اور کھانے، رہنے کا خرچ بھی حکومت کی طرف سے ادا کیا جاتا تھا۔ نور الدین نے تمام ناجائز ٹیکس موقوف کردیئے تھے۔ وہ مظلوموں کی شکایت خود سنتا اور اس کی تفتیش کرتا تھا۔

نور الدین کی ان خوبیوں اور کارناموں کی وجہ سے اس زمانے کے ایک مورخ ابن اثیر نے لکھا ہے کہ: ”میں نے اسلامی عہد کے حکمرانوں سے لے کر اس وقت تک کے تمام بادشاہوں کی تاریخ کا مطالعہ کیا لیکن خلفائے راشدین اور عمر بن عبدالعزیز کے سوا نور الدین سے زیادہ بہتر فرمانروا میری نظر سے نہیں گزرا“۔

 آپ نے عیسائیوں سے بیت المقدس واپس لینے کے لیے پہلے ایک مضبوط حکومت قائم کرنے کی کوشش کی اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے گرد و نواح کی چھوٹی چھوٹی مسلمان حکومتوں کو ختم کرکے ان کو اپنی مملکت میں شامل کرلیا۔ شروع میں نورالدین کا دارالحکومت حلب تھا۔ 549ھ میں اس نے دمشق پر قبضہ کرکے اسے دارالحکومت قرار دیا۔ اس نے صلیبی ریاست انطاکیہ پر حملے کرکے کئی قلعوں پر قبضہ کرلیا اور بعد ازاں ریاست ایڈیسا پر مسلمانوں کا قبضہ ختم کرنے کے لیے عیسائیوں کی کوشش کو بھی ناکام بنا دیا۔ دوسری صلیبی جنگ کے دوران دمشق پر قبضہ کرنے کی کوششیں بھی سیف الدین غازی اور معین الدین کی مدد سے ناکام بنا دیں اور بیت المقدس سے عیسائیوں کو نکالنے کی راہ ہموار کردی۔

 دوسری صلیبی جنگ میں فتح کی بدولت ہی مسلمان تیسری صلیبی جنگ میں فتحیاب ہوکر بیت المقدس واپس لینے میں کامیاب ہوئے۔ اس زمانے میں مصر میں فاطمی حکومت قائم تھی لیکن اب وہ بالکل کمزور ہوگئی تھی اور مصر چونکہ فلسطین سے ملا ہوا تھا اس لیے عیسائی اس پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔ یہ دیکھ کر نورالدین نے ایک فوج بھیج کر 564ء میں مصر پر بھی قبضہ کرلیا اور فاطمی حکومت کا خاتمہ کردیا

 سلطان نورالدین محمود زنگیؒ بظاہر ایک جنگجو اور مجاہد حکمران تھے۔ مگر در پردہ وہ ایک نہایت عابدو زاہد انسان تھے۔عام مسلمانوں کی طر ح وہ پانچوں وقت باجماعت نماز ادا کر تے ، رمضان المبارک کے پورے روزے رکھتے ۔ لیکن سلطان کا ایک پوشیدہ عمل یہ بھی تھا کہ وہ ہر رات سرور کونین ﷺ پر بڑے پر سوز لہجے میں دورد وسلام بھیجتے تھے ۔یہاں تک کہ ان کی آنکھوں سے آنسوجاری ہو جاتے پھر وہ اسی حالت میں سو جاتے ۔ ہر اہل ایمان کی طرح سلطان نورالدین زنگی ؒ کی بھی ایک ہی خواہش تھی کہ کسی دن خواب میں حضور اکرم ﷺ انہیں بھی اپنے دیدار سے مشرف فرمائیں۔ سلطان کا یہ عمل برسوں سے جاری تھا ۔

 پھر جب ایک رات جب وہ سوئے تو دیدار مصطفی ﷺ سے ان کی تشنہ آرزو سیراب ہو گئی۔ سرور کونینﷺ فرما رہے تھے کہ ” نورالدین:یہ دونوں آدمی مجھے ستا رہے ہیں ۔ جلدی اٹھو اور ان کے شر کا خاتمہ کرو۔” سر کار دوعالمﷺ کی زیارت کے بعد سلطان نورالدین زنگیؒ کو دو اور نورانی چہر ے نظر آئے ۔ ان دونوں کی بڑی بڑی داڑھیاں تھیں اور رنگ بہت زیادہ گورا تھا۔ پھر دو نورانی چہر ے بھی غائب ہو گئے۔

 سلطان نورالدی زنگی ؒ کی آنکھ کھل گئی اور وہ گھبرا کر اٹھ بیٹھے ۔ بہت ہی عجیب خواب تھا ۔ ایک حضور اکرم ﷺ نے سلطان عاد ل کو اپنی زیارت سے بھی شرف یاب کیا اور شکایتا یہ بھی فرمایا تھا کہ دو آدمی آپﷺ کو ستا رہے ہیں۔ سلطان نور الدین زنگیؒ اس خواب کی تعبیر سمجھنے سے قاصر رہے ۔ پھر ان پر وحشت طاری ہو گئی اور وہ رو رو کر رات بھر توبہ استغفار کر تے رہے یہاں تک کہ فجر کی آذان ہو گئی پھر سلطان نورالدین زنگی ؒ نے نماز ادا کی ۔ کچھ دیر حسب معمول قرآن مجید کی تلاوت کر تے رہے اس کے بعد دربار آراستہ کیا ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب سلطان دمشق میں مقیم تھے۔

امرائے دربار نے بڑی حیرت سے سلطان عاد ل کی طر ف دیکھا ۔ وہ خلاف توقع بجھے بجھے نظر آ رہے تھے حاضرین دربار نے سلطان کی اس کیفیت کو طبیعت کی ناسازی پر محمول کیا ۔پھر تھوڑی ہی دیر بعد سلطان عاد ل کے پاس ایک اہم مقدمہ پیش کیا گیا۔ والئی شام کچھ دیر تک دونوں فریقین کے بیانات سنتے رہے ۔ لیکن امراء نے محسو س کر لیا کہ سلطان ذہنی طور پر دربار میں موجود نہیں ہیں اور مقدمے کی سماعت کے دوران کہیں کھو جاتے ہیں۔ پھر یکا یک سلطان خود ہی اٹھ کھڑے ہوئے اور امرائے دربار سے مخاطب ہوتے ہوئے بولے ۔

“اس وقت ہمارا ذہن حاضر نہیں ہے ۔ یہ مقدمہ پھر کسی دن پیش کیا جائے ۔”

سلطان عادل کے مصاحب خاص اسد الدین شیر کوہ (سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کے چچا) معتمد خاص یوسفؒ (سلطان صلاح الدین ایوبیؒ) تیزی سے آگے بڑھے اور سلطان کے پیچھے پیچھے چلنے لگے ۔ سلطان نور الدین زنگی ؒ دربار سے نکل کر دمشق کے محل میں چلے گئے ۔

 سپہ سالار اسدالدین شیر کوہ نے بصد احترام عرض کیا ” سلطان عادل کی طبیعت کچھ ناساز معلوم ہوتی ہے؟””ہاں کچھ ایسا ہی ہے” سلطان نے کھوئے کھوئے لہجے میں کہا ۔ ان کے چہر ے کی افسردگی میں اضافہ ہو گیا تھا۔”اگر اجازت ہو تو طبیب خا ص کو طلب کیا جائے” اسد الدین شیر کوہ نے گھبرائے ہو ئے لہجے میں کہا ۔”اس معاملے میں طبیب کچھ نہیں کر سکتا “سلطان نے پر سوز لہجے مٰیں کہا۔”تم ایسا کر و کہ فوری طور پر دمشق کے تمام غریبوں میں کپڑے، اناج اور زر نقد تقسیم کر دو۔ اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ کوئی غریب ان صدقات سے محروم نہ رہے۔

پھر جب اسد الدین شیر کو ہ اور یوسف (سلطان صلاح الدین ایوبیؒ) خلوت سلطانی سے جانے لگے تو سلطان نورالدین محمود زنگی ؒ نے ان دونوں کو روک کر مزید ہدایت دیتے ہوئے کہا “جب تم ضرورت مند وں میں صدقات تقسیم کر نے لگو تو ان سے یہ درخواست بھی کر نا کہ وہ اپنے سلطان کے لیے دعا کریں۔

اسدالدین شیر کوہ اور یوسف (سلطان صلاح الدین ایوبیؒ) نے سلطان کے اس حکم کو بڑی حیرت سے سنا اور خلوت گا ہ سے نکل کر چلے گئے ۔پھر جب وہ دونوں دمشق کے غریبوں میں صدقا ت تقسیم کر رہے تھے تو ایک ہی خیا ل ان کے ذہن میں گردش کر رہا تھا کہ سلطان کی گزشتہ بیماری ابھر آئی ہے جسے سلطان عاد ل اپنی بے پناہ ہمت کے سبب امرائے سلطان سے چھپارہےہیں۔”ہمیں کسی سنگین صو’رت حال کے لیے تیار رہنا چاہیے۔”اسدالدین شیرکو ہ نے انتہائی راز داری سے اپنے بھتیجے یوسف (سلطان صلاح الدین ایوبیؒ) کو مخاطب کر تے ہو ئے کہا ۔

اسدالدین شیر کو ہ اور یوسف(سلطان صلاح الدین ایوبیؒ) اس مخصو ص کمر ے میں داخل ہوئے جہاں سلطان نورالدین محمود زنگیؒ آرام کر رہے تھے ۔ اس وقت بھی سلطان عادل کا چہر ہ بجھا بجھا ہوا تھا اور کسی گہری سوچ میں گم تھے اپنے سپہ سالار اور معتمد خاص کو دیکھ کر اٹھ کھڑے ہوئے ۔”سلطان عاد ل کے حکم کے مطابق صدقا ت غریبوں اور مسکینوں میں تقسیم کر دیئے گئے”۔ اسد الدین شیرکو ہ نے بصد احترام عرض کیا۔”دمشق کے سارے باشندے سلطان عادل کی سلامتی جا ن اور عظیم الشان فتوحات کے لئے دست بہ دعاہیں۔”یہ سن کر سلطان نورالدین محمود زنگیؒ کے ہونٹو ں پر اداس سی مسکراہٹ آئی۔”اللہ تعالیٰ تمام اہل ایمان کو جزائے خیردے۔ مجھ ناتواں کو جس قدر فتوحات حاصل ہوئیں وہ سب اسی قادر مطلق کے رحم وکر م کا صدقہ تھیں ۔ اب تو بس ایک ہی آرزو ہے کہ بیت المقد س میں حاضر ہو کر خطبہ دوں اور اپنے اللہ تعالیٰ کی کبریائی بیان کر تا ہوا رخصت ہو جاؤں۔””وہ دن بھی ضرور آئے گا سلطان عادل ۔”یوسف(سلطان صلاح الدین ایوبیؒ) نے کسی قدر پر جوش لہجے میں کہا “مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اس سعادت سے بھی محروم نہیں رکھے گا۔ “”یہ تو وہی جانتا ہے کہ کون بامراد ہو گا اور محرومی کس کا مقد ر بنے گی؟”سلطان نور الدین محمود زنگیؒ کا لہجہ کچھ اور اداس ہو گیا۔”اب آپ کی طبیعت کیسی ہے “سلطان کی مایوسانہ گفتگو سے اسدالدین شیرکوہ کی تشویش بڑھ گئی۔”ہماری گزارش ہے کہ آپ اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتیں اور بلاتاخیر طبیبان خاص سے مشور ہ کر لیں ورنہ ہم زندگی بھر یہ سوچ کر شرمندہ رہیں گے کہ ہم نے اپنا فر ض منصبی ادا نہیں کیا۔”سلطان نورالدین زنگیؒ نے اپنے دونوں معتمدہ خاص کو مخاطب کر تے ہوئے کہا “تم مستعدی کے ساتھ اپنی سرحدوں کی نگرانی کرو اور سختی کے ساتھ بند گان خدا کے حقوق ادا کر تے رہو میں نے اپنا معاملہ طبیبی حقیقی کے سپرد کر دیا ہے ۔وہی میر ی بیماری کے جاننے والا ہے اور وہی شفا دینے والا ہے۔ “

اسدالدین شیر کوہ اور یوسف(سلطان صلاح الدین ایوبیؒ)سلطان عادل کے جواب سے مطمئن نہیں تھے ۔ ان کے خیال میں بیماری کے موقع پر دعا کے دوا کا جاری رکھنا بھی ضروری تھا ۔ مگر وہ حاکم وقت کے ساتھ مزید بحث نہیں کر سکتے تھے ۔ مجبورا مختلف اندیشو ں میں گھر ئے ہوئے سلطان کی خلوت گا ہ سے نکل گئے۔

 دوسری رات آئی سلطان نورالدین زنگی ؒ نماز عشاء کے بعد حسب معمول سرور کونین ﷺ کی بارگا ہ میں درد وسلام بھیجا۔اس دوران سلطان کی آنکھو ں اشکوں کا سیل رواں جاری تھا ۔پھر اسی گریہ زاری کی حالت میں دعا کر تے ہوئے سو گئے۔ پھر جیسے ہی سلطان نورالدین زنگی ؒ کی آنکھ لگی ، خواب میں وہی منظر دوبارہ ابھر آیا۔رسالت مآب ﷺسلطان کو مخاطب کر کے فرما رہے تھے “نورالدین : یہ لوگ مجھے بہت ستا رہے ہیں ۔ جلدی اٹھو ااور ان کےفتنہ و شر کا خاتمہ کر و” اتنا فرما کر سرکار دوعالم ﷺ تشریف لے گئے ۔ اس کے بعد خواب کا دوسرا منظر ابھرا وہی دو نورانی چہر ے ۔ لمبی لمبی سفید عبائیں ، سفید داڑھیاں وہی دلکش خدوخال جن سے انتہائی معصومیت جھلک رہی تھی۔ پھر کچھ دیر بعد دونوں چہر ے بھی غائب ہو گئے۔ گھبرا کر سلطان نورالدین زنگی ؒ کی آنکھ کھل گئی ۔ پورا جسم پسینے سے شرابور تھا ۔ پیغمبر اسلام ﷺ کی زبان مبار ک سے ادا ہونے والے مقد س کلما ت کی باز گشت پھر سنائی دی۔ “نورالدین یہ لوگ مجھے بہت ستا رہے ہیں ۔”سلطان نورالدین زنگی ؒ کے جسم پر لرزہ طاری ہو گیا اور آنکھوں سے آنسو بہنے لگے سلطان عاد گھبر ا کر سجدے میں چلے گئے ۔پھر اس وقت تک گریہ زاری کے ساتھ اس وقت تک توبہ استغفار کر تے رہے جب تک آذان فجر نہ ہو گئی۔

 دوسرے سلطان عاد ل نے پہلے سے زیاد ہ صدقا ت غریبوں میں تقسیم کرائے۔سلطان کو اس خواب نے اس قدر رنجید ہ کر دیا تھا وہ کمر ے سے با ہر نہ نکل سکے اور نہ دربار آراستہ کیا ۔ سلطان کی اس گوشہ نشینی سے سے امرائے سلطان میں شدید اضطراب پیدا ہو گیا ۔ تمام عہد داران سلطنت سلطان نورالدین زنگی ؒ سے ملاقات کر نے صورت حال جاننا چاہتے تھے مگر سلطان عاد ل نے ملنے سے انکار کر دیا ۔ سارا دن کمر ے میں رہے ۔ یہاں تک کھانا بھی برائے نام کھایا ۔ تمام وقت عباد ت کے ساتھ یہ دعا کر تے رہے۔

اے اللہ :اپنے عاجز و ناتواں بندے کو ہدایت دے اور میر ی مشکل کشائی فرما۔

پھر تیسری رات بھی سلطان نورالدین زنگیؒ نے وہی خواب دیکھا ، ہدایت مل چکی تھی ۔ خواب ٹوٹا تو سلطان عادل کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ۔ والئ شام بستر سے اترے اور مدینہ منورہ کی طرف رخ کر کے دست بدستہ کھڑے ہو گئے پھر نہایت رقت امیز لہجے میں عرض کرنے لگے اس غلام کے ہوتے ہوئے یہ ممکن نہیں کہ کوئی ملعون و بدبخت میرے آقا ﷺ اذیت پہنچائے ۔

    دوسرے دن سلطان نورالدین محمود زنگیؒ نے اسدالدین شیر کوہ اور یوسف (سلطان صلاح الدین ایوبیؒ) کو اپنی خلوت گاہ میں طلب کیا ۔ پھر رازدارنہ طور پر اسدالدین شیر کوہ دمشق کا منتظم اعلیٰ مقر ر کیا اور بیس معتمد امراء کو اپنے ساتھ لے کر دمشق سے نکل کھڑے ہوئے ان امراء میں یوسف (سلطان صلاح الدین ایوبیؒ) بھی شامل تھا ۔فوج کا ایک دستہ چند میل آگے تھا اور دوسرا چند میل پیچھے ۔درمیان میں سلطان نورالدین محمود زنگیؒ اپنے امراء کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔آگے جانے والے فوجی دستے کو صرف اتنا معلوم تھا کہ ان کی منزل مدینہ منورہ ہے۔ باقی فوج اور امراء اس راز سے بے خبر تھے کہ سلطان عادل کے ارادے کیا ہیں ۔سب ایک دوسرے سے آنکھوں ہی آنکھو ں سے سوال کر رہے تھے۔ مگر کسی کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا اور کسی میں اتنی جرات بھی نہیں تھی کہ سلطان عادل سے اس سفر کا مقصد معلوم کر سکے۔ سلطان نورالدین محمود زنگی ؒ کی طر ف سے تمام امراء اور سپاہیوں کے لئے ایک ہی حکم جاری ہو اتھا کہ راستے میں کم سے کم آرام کریں اور اپنے گھوڑوں کی رفتا ر تیز رکھیں۔

         دمشق سے مدینہ منورہ پہنچنے میں 25 دن لگتے تھے مگرسلطان نورالدین محمود زنگیؒ اور ان کے لشکر نے یہ طویل فاصلہ اپنی تیز رفتاری کے سبب 15 دن میں طے کیا اور سولہویں دن نماز فجر کے بعد سلطان عادل اور ان کی پوری فوج گھوڑوں سے اتر کر مدینہ منورہ کی حدود میں داخل ہوئی۔ یہ اس ارض مقد س کا احترام تھا۔ مشہور فقہیہ و محدث حضرت امام مالکؒ اس خیال سے زندگی بھر مدینہ منورہ میں ننگے پاؤں پھرا کر تے تھے کہ کہیں ان کے جوتے اس مقام پر نہ پڑ جائیں جہاں حضور اکرم ﷺ گزرے ہوں۔

  سلطان نورالدین محمود زنگی ؒ کی اچانک آمد کی خبر سن کر گورنر مدینہ سلطان عاد ل کے استقبال کو پہنچے ۔ ان کی زبان پر بس ایک ہی سوال تھا ۔

آپ پہلے تو کبھی اس طر ح مدینہ منورہ حاضر نہیں ہوئے ۔آخر اس کی کیا وجہ؟

  سلطان نورالدین محمود زنگیؒ نے سرگوشی میں کچھ کہا جسے گورنر مدینہ حیر ت زدہ رہ گئے ۔پھر سلطان عاد ل کے ہمراہ آئے ہوئے فوجی دستے اور مدینہ منورہ کے سپاہیوں نے ملکر پورے شہر کی ناکہ بندی کر دی کسی گورنر کی اجازت کے بغیر مدینہ منورہ سے باہر جانے کی اجازت نہیں تھی۔

  پھر سلطان نورالدین محمود زنگیؒ نے گورنر مدینہ کی وساطت سے ایک طویل و عریض میدان کو عارضی طور پر قناتو ں سے بند کرادیا۔ تمام امراء اور گورنر مدینہ سلطان عادل کے اس عمل پر حیران تھے۔ ان تمام کاموں سے فارغ ہونے کے بعد سلطان عادل نے گورنر مدینہ سے کہ

آپ اعلان کرا دیجئے کل ہماری طر ف سے تمام اہل مدینہ کی ضیافت ہے ۔سب لوگ ہمارے ساتھ کھانا کھاہیں گے اور اس کے ساتھ یہ تنبیہ بھی کرا دیجئے کہ جو شخص اس دعوت میں شریک نہیں ہو گا وہ سزا کا مستحق قرار پائے گا۔

  تھوڑی دیر بعد گورنر مدینہ کے ہرکارے گلی گلی کوچے کوچے یہ اعلان کر نے لگے ۔ بڑا عجیب اعلان تھا تمام اہل مدینہ حیرت زدہ رہ گئے ۔مگر اس حیر ت کے ساتھ انہیں مسرت بھی تھی کہ وہ سلطان نورالدین محمود زنگیؒ جیسے نیک سیرت حکمران کی دعوت میں شریک ہوں گے۔

  پھر دوسرے دن جب طویل وعریض میدان مقامی باشندوں سے بھر گیا تو انتہائی پر تکلف اور لذیز کھانوں سے مہمانوں کی تواضع کی گئی اس دوران سلطان نورالدین محمود زنگیؒ اپنے امراء ،گورنر مدینہ اور دوسرے افسران مدینہ کے ساتھ دروازے میں کھڑے ہو گئے ۔ جوشخص کھا نے سے فارغ ہو جا تا وہ اسی دروازے سے باہر آتا۔ سلطان عادل اس شخص کو بڑے غور سے دیکھتے پھر جانے کی اجازت دے دیتے ۔دروازے پر موجود تما م امراء اور مدینہ منورہ کے تمام چھوٹے بڑے سرکار افسران بڑے حیران تھے کہ آخر سلطان نورالدین محمود زنگی ؒ کو کس کی تلاش ہے؟پھر جب دعوت کا آخری مہمان بھی کھانا کھا کر چلا گیا تو سلطان عادل نے بڑی مایوسی سے اپنے سر کو جنبش دی۔ ان میں سے تو کوئی بھی نہیں” سلطان نورالدین محمود زنگیؒ کےلہجے میں انتہائی اداسی جھلک رہئ تھی اور وہ چہر ے سے بہت زیاد ہ پریشان نظر آرہے تھے۔

 سلطان عادل آپ کسے ڈھونڈ رہے ہیں ؟” گورنر مدینہ نے سلطان عادل سے پوچھا ۔سلطان نورالدین زنگیؒ نے اپنے دل کی بات بتانے کی بجائے گورنر مدینہ سے سوال کیا “آپ سمجھتے ہیں کہ میر ی دعوت میں اس ارض مقد س کے تمام رہنے والے شریک ہوئے تھے؟””میرا تو یہی خیال ہے “گورنر مدینہ نے جواب دیا ۔”اس قدر سخت احکام جاری کیے گئے تھے کہ کوئی شخص شریک محفل ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔”گورنر مدینہ کا جواب سن کو سلطان عادل بہت زیادہ پریشان نظر آرہے تھے ۔

دیگر افراد بھی عجیب سی فکر میں مبتلا تھے کہ اچانک مدینہ منورہ کے ایک انتظامی افسر نے سلطان عادل کو مخاطب کر تے ہوئے کہا ۔

“صرف دو افراد اس دعوت میں شریک نہیں ہوئے تھے ۔”

سلطان نورالدین محمود زنگیؒ نے گھبرا کر اس شخص سے پوچھا “وہ دونوں کون ہیں؟””سلطان عادل :وہ دونوں نہایت عابد وزاہد انسان ہیں۔”مدینہ منور ہ کے انتظامی افسر نے جواب دیتے ہوئے کہا

“وہ دونوں تارک الدنیا لوگ ہیں دن رات عباد ت میں مصروف رہتے ہیں کسی دعوت میں شریک ہونا بڑی بات ہے وہ لوگوں سے ملنا بھی گورا نہیں کر تے اگر انہیں کچھ وقت ملتا ہے تو وہ جنت البقیع میں لوگو ں کو پانی پلاتے ہیں ۔”ان دونوں نادیدہ افراد کا سن کر سلطان نورالدین زنگی ؒ کے چہر ے پر اطمینان و آسودگی کا رنگ ابھر آیا۔پھر سلطان عادل نے گورنر مدینہ سے کہا کہ ان دونوں کو سر دربار پیش کیا جائے۔

    پھر جب وہ دونوں عابد و زاہد انسان سر دربار لائے گئے تو سلطان نورالدین محمود زنگیؒ نےایک نظر میں انہیں پہچان لیا ۔ یہ وہی دونوں تھے جن کے چہر ے سلطان عادل کو خواب میں دیکھا ئے گئے تھے اور سرکا ر دوعالمﷺ نے ان ہی کے بار ے میں فرمایا تھا کہ یہ لوگ مجھے ستا رہے ہیں۔ ان دونوں کو دیکھ سلطان نورالدین محمود زنگی ؒ جو اضطراب میں اپنی نشست سے کھڑے ہو گئے ۔ پھر بڑی مشکل سے سلطان عادل نے اپنے جذبات پر قابو پایا اور ان نورانی چہر ے رکھنے والوں کو مخاطب کر تے ہوئے کہا

تم لوگ کون ہو اور مدینہ منورہ میں کیا کر تے ہو؟

وہ دونوں سلطان نورالدین محمود زنگی ؒ سے ناآشنا تھے اس لئے بے نیازی کے لہجے میں کہنے لگے

ہم قربت رسول (ﷺ) چاہتے ہیں اس کے سوا ہمیں دنیا کی کوئی شے سے غرض نہیں۔

سلطان نورالدین محمود زنگیؒ ان دونوں کا اندازہ گفتگو دیکھ چونک اٹھے ۔پھر سلطان عادل نے سخت لہجے میں انہیں مخاطب کر تے ہوئے کہا

تم اپنے بیان کی وضاحت کر و کہ آخر کس طر ح رسول اللہ ﷺکی قربت تلاش کر تے ہو؟

ان دونوں نے اسی بے نیازنہ لہجے میں جواب دیتے ہو ئے کہا ۔

ہم نے روضہ رسول (ﷺ) کے قریب مکان کرا ئے پر لیا ہے اسی میں دن رات عبادت کر تے ہیں یا پھر گبند رسول (ﷺ)کی زیارت کرتے ہیں تا کہ قلب و نظر کو سکون حاصل ہو۔

سچ سچ بتاؤ تم لوگ کون ہو؟

یکا یک سلطان نور الدین محمود زنگی ؒ کا لہجہ غضب ناک ہو گیا تھا۔

کیا مسلمان کے علاوہ کوئی اور بھی روضہ رسول( ﷺ)کی قربت کا طلب گا رہو سکتا ہے ؟

ان میں سے ایک نے بلند آواز میں کہا جیسے وہ سلطان عادل پر اپنے زہد و تقویٰ کا رعب ڈال رہا ہو۔

تمہاری ظاہری شکلیں تو اہل ایمان کی سی ہیں مگر تم مجھے اند ر سے مسلمان نظر نہیں آتے ۔

سلطان نورالدی محمود زنگیؒ کی آواز سے بدستورغصہ جھلک رہا تھا ۔

ایک مسلمان کو زیب نہیں دیتا کہ وہ دوسرے مسلمان پر شک کرے ۔

دوسرے شخص نے انتہائی ناگورا لہجے میں کہا ۔

دلوں نیتوں کا حال تو صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے ۔

بے شک

سلطان نور الدین محمود زنگیؒ پر جلا ل لہجے میں کہا ۔

          مگر میں نے ایسا کوئی مسلمان نہیں دیکھا کہ جو رسول اللہ ﷺ کا نام لے اور ان کے اسم مقدس کے ساتھ ﷺ نہ کہے ۔ اتنی طویل گفتگو میں تم نے ایک بار بھی سرکار دوعالم ﷺپر درود وسلام نہیں بھیجا ۔پھر تم کس طر ح رسول اللہ ﷺ کی قربت کے طلب گار ہو سکتے ہو۔ حق تعالیٰ مر ی بدگمانی کو معاف کرے۔ مگر مجھے تمہارے اہل ایمان ہونے پر شک ہے۔

یہ کہہ کر سلطان نورالدین محمود زنگیؒ اپنی مسند سے اٹھے اور اپنے سپاہیوں کو حکم دیا

“جب تک میں واپس نہ آؤں ان دونوں کو اپنی تحویل میں رکھو اور سخت نگرانی کرو۔ “

پھر سلطان نورالدین محمود زنگیؒ اپنے امراء ، گورنر مدینہ اور دیگر مقامی افسروں کے ساتھ اس مکان پر پہنچے جہاں وہ دونوں عابد و زاہد انسان دن رات عباد ت کیا کر تے تھے ۔یہ ایک چھوٹا سا مکان تھا جس میں موجود مختصر سا سامان مکینوں کی زہدانہ زندگی کی گواہی دے رہا تھا ۔ بظاہر وہاں کوئی قابل اعتراض شے نظر نہیں آ رہی تھی ۔ سلطان نورالدین محمود زنگیؒ ان دونوں کی طرف سے مطمن نہیں تھے ۔سلطان عادل نے کمر سے اپنی تلوار کھولی اور تلوار سے مکان نے فرش کو زورزور سے ٹھوکنا شروع کر دیا ۔ پھر ایک جگہ انہیں چٹائی کے نیچے فرش ہلتا ہوا محسوس ہوا ۔ سلطان نورالدین محمود زنگیؒ بہت تیزی سے جھکے اورچٹائی کو الٹ دیا پھر سب کی آنکھوں کے سامنے ایک عجیب منظر تھا ۔چٹائی کے نیچے پتھر کی ایک چوڑی سل رکھی تھی ۔ سلطان نورالدین محمود زنگیؒ نے اپنے امراء کو اس سل کو ہٹا نے کا حکم دیا ۔ جب وہ سل ہٹائی گئی تو ہر شخص حیرت زدہ رہ گیا ۔وہاں پتھر کے برابر ایک خلا ء موجود تھا جو کسی سرنگ کی نشاندہی کر رہا تھا ۔

 سلطان نورالدین محمود زنگیؒ پر چند لمحوں کےلئے سکتہ سا طاری ہو گیا۔پھر سلطان عادل نے ایک مشعل روشن کر نے کا حکم دیا ۔ اس کے بعد سلطان عاد ل مشعل لے کر اکیلے اس سرنگ میں داخل ہوئے یہاں تک کہ کچھ دور جانے کے بعد وہ سرنگ ختم ہو گی پھر جو منظر سلطان نورالدین محمود زنگیؒ کے پیش نظر تھا اسے دیکھ سلطان عادل کے جسم پر لرزہ طاری ہو گیا اور بے اختیا ر آنکھوں سے آنسوبہنےلگے ۔

 سر کار دوعالم ﷺ کے پائے اقدس نظر آرہے تھے ۔ سلطان عاد ل نے مضطر ب ہو کر اپنے دونوں ہونٹ پائے اقدس پر رکھ دیئے ۔ وہ قدم جنہیں چومنے کےلئے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ علیہم اجمٰعین بے چین رہتے تھے ، آج وہ عظیم سعاد ت سلطان نورالدین محمود زنگیؒ کے حصے میں آئی ۔

“ائے اللہ تعالیٰ:میں گناہ گار اس قابل نہیں تھا ۔”

سلطان نورالدین محمود زنگیؒ حضوراکرم ﷺ کے پائے اقد س اپنی آنکھوں سے مل رہے تھے اور زاروقطار رو رہے تھے۔پھر جب سلطان عادل کا پورا چہرہ آنسوؤں سے دھل گیا تو انہوں نے آخر ی بار سردار انبیاء ﷺ کے مقد س قدموں کو چوما۔ اور الٹے پاؤ ں واپس لوٹے پھر جب سرنگ سے باہر آئے تو سارے امراء اور گورنر مدینہ اپنی اپنی جگہ ساکت و جامد کھڑے تھے ۔ پھر جب انہوں نے سلطان عادل کی سرخ آنکھیں اور آنسوؤ ں سے بھیگا ہوا چہرہ دیکھا تو پریشان نظر آنے لگے ۔

  پھر گورنر مدینہ کے استفسا ر کر نے پر سلطان عادل نےصرف اتناہی بتایا کہ وہ دونوں شیطان سرنگ کھو د کر میر ے آقاﷺ کے مقد س قدموں تک پہنچ گئے تھے۔یہ سن کر تما م لوگوں کا خون کھول اٹھا ۔ مگر سلطان نورالدین محمود زنگیؒ نے انہیں ضبط وتحمل کی تلقین کی اور دوبار مجرموں کو اپنے روبر و طلب کیا ۔

   اب ان کے لئے کوئی راہ فرار نہیں تھی ۔ مجبورا انہیں اعتراف کر نا پڑا ۔

“ائے سلطان:ہم یہودی ہیں اور اپنی قوم کی طرف سے تمہارے رسول (ﷺ) کا جسم اطہر چرانے پر مامور ہوئے ہیں ۔ ہمارے نزدیک اس سے بڑھ کر کار ثواب کوئی اور نہیں ہے۔ لیکن افسوس تم نے ہمیں اس وقت گرفتار کر لیا جب ہمارا تھوڑا ساکام باقی رہ گیا تھا ۔اگر ہمیں دو تین دن کہ مہلت مل جاتی توہم اپنے مقصد میں کامیاب ہوجاتے۔

 ان دونوں کی ناپاک گفتگو سن کا سلطان نورالدین محمود زنگیؒ شدت سے غضب سے بے قابوہو گئے اور چیختے ہوئے ان سفید شیطانوں کو مخاطب کر کے کہنے لگے

“تم اپنے ناپاک مقصد میں کس طرح کامیاب ہوسکتے تھے جبکہ کہ تمہاری نقل و حرکت کی نگرانی وہ آنکھ کر رہی ہے جسے کبھی اونگھ بھی نہیں آتی ۔ “یہ کہہ کر سلطان عادل اپنی مسند سے اترے اپنی شمشیر بے نیام کی اور دونوں کے سر قلم کر دیئے۔

  پھر جب ان شیطانوں کی لاشیں ٹھنڈی ہو گئیں تو سلطان نورالدین محمود زنگیؒ نے دوسرا حکم جاری کیا “ان دونوں کے سر نیزوں پر بلند کر کے ارض مقدس کے گلی کوچوں میں پھراؤ اور تشہیر کر و کہ اہل مدینہ لوگو ں کے چہروں اور لباس سے دھوکہ نہ کھاہیں۔ “پھر جب دیار سرکار دوعالم ﷺ کے رہنے والے ان مردودوں پر لعنت بھیج چکے تو سلطان نورالدین محمود زنگیؒ نے آگ جلانے کا حکم دیا ۔یہ آگ ایک وسیع میدان میں جلائی گئی جہاں ہزاروں اہل ایمان یہ عبرت ناک منظر دیکھنے کے لئے جمع ہوئے تھے ۔پھر جب آگ کے شعلے بلند ہونے لگے تو سلطان نورالدین محمود زنگیؒ نےان دونوں یہودیوں کی لاشیں اپنے ہاتھوں سے اٹھا کر آگ میں ڈال دیں ۔پھر جب وہ راکھ ہو گئے تو سلطان نورالدین محمود زنگیؒ نے انہیں مخاطب کر تے ہوئے کہا ۔”یہ آگ تو بجھ گئی ۔مگر وہ آگ کبھی سر د نہیں ہوگئی جس کامزہ تم قیامت میں چکھو گے ۔

    اس کے بعد سلطان نورالدین محمود زنگیؒ نے پورے مدینہ کو طواف کیا ۔ سلطان عادل ارض مقد س کے ہر گلی کوچے سے گزرے ۔ آنکھیں اشک برسا رہی تھیں اور زبان سے بس ایک کلمہ جاری تھا۔ “میر ے آقا ﷺ:میں اپنی قسمت پر نازاں ہوں کہ آپﷺ نے اس خدمت کےلئے غلام کو منتخب فرمایا۔

   طواف مدینہ کے بعد سلطان نورالدین محمود زنگیؒ نے اپنی نگرانی میں روضہ اطہر کے چاروں طر ف اتنی گہری خندق کھدوائی کہ پانی نکل آیا پھر اس خندق کو سیسے سے بھر دیا گیا ۔ یہ سیسے کی دیوار آج بھی حضوراکرم ﷺ کے روضہ اقد س کے گر د موجود ہے اور انشاءاللہ قیامت تک موجود رہے گی۔

آج بھی اہل مدینہ سلطان نورالدین محمود زنگیؒ کا نام نہایت محبت و احترام سے لیتے ہیں اور ان کا شمار ایسے برگزیدہ انسانوں میں کر تے ہیں جن پر خود سرورکونینﷺ نے اپنے اعتماد کا اظہار کیا اورعاشق رسولﷺ ہونے کی تصدیق فرمائی۔       

   مصر پر قبضہ کرنے کے بعد نورالدین نے بیت المقدس پر حملہ کرنے کی تیاریاں شروع کردیں۔ بیت المقدس کی مسجد عمر میں رکھنے کے لیے اس نے اعلیٰ درجے کا منبر تیار کروایا۔ اس کی خواہش تھی کہ فتح بیت المقدس کے بعد وہ اس منبر کو اپنے ہاتھوں سے رکھے گا لیکن خدا کو یہ منظور نہ تھا۔ نورالدین ابھی حملے کی تیاریاں ہی کررہا تھا کہ زنگی کو حشاشین نے زہر دیاحوالہ درکار؟ جس سے ان کے گلے میں سوزش پیدا هو گئی جو کے ان کی موت کا باعث بنی۔

15 مئی 1174ء کو ان کا انتقال ہوگیا۔ انتقال کے وقت نورالدین کی عمر 58 سال تھی

(فاتح اعظم سلطان صلاح الدین ایوبیؒ، خان آصف ، صفحہ 134 تا 146)

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں