واقعات صحابہ کے

حضرت ایاس بن سلمہ اپنے والد(حضرت سلمہ) رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا: ایک مرتبہ امیرالمومنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بازار سےگزرے، ان کے ہاتھ میں کوڑا بھی تھا، انہوں نے آہستہ سے وہ کوڑا مجھے مارا جو میرے کپڑے کےکنارے کولگ گیا اورفرمایا، راستہ سے ہٹ جاؤ. جب اگلا سال آیا تو آپ کی مجھ سےملاقات ہوئی، تومجھ سےفرمایا اۓ سلمہ! کیا تمہارا حج کا ارادہ ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں. پھر امیرالمومنین نے میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھرلے گئے اورمجھے چھ سو درہم دئیے اورفرمایا: انہیں اپنے سفر حج میں کام میں لے آنا، اوریہ اس ہلکے سے کوڑے کے بدلہ میں ہیں جو میں نے تم کومارا تھا. میں نے عرض کیا: اۓ امیرالمومنین! مجھے تو وہ کوڑا یاد بھی نہیں رہا. تو امیرالمومنین نےفرمایا: لیکن میں تو اسے نہیں بھولا، میں نےمار تو دیا تھا لیکن سارا سالمجھے کھٹکتا رہا. بحوالہ حياة الصحابہ جلد دوم.

حضرت ابوخزیمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک خواب میں دیکھا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی مبارک پرسجدہ کررہے ہیں.جب یہ خواب حضرت ابوخزیمہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ گئے اورفرمایا.ابوخزیمہ لو اپنا خواب پورا کرلو، تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی مبارک کے اوپر سجدہ کرلیا. اکابرین نے فرمایا! حضرت ابوخزیمہ رضی اللہ عنہ وہ خوش نصیب صحابی ہیں جنہیں سجدہ کرنےکےلیےعرش اورکرسی سے بھی افضل جگہ ملی. بحوالہ ترجمان السنہ جلد دوم .

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں