درود شریف کی برکت

ایک دن آقاۓ دوجہاں(صلی اللہ علیہ وسلم)اسلامی لشکر کے ساتھ تشریف لے جا رہے تھے راستے میں ایک جگہ پڑاؤ کیا اور حکم دیا کہ یہیں پر جو کچھ کھانا ہے کھا لو.جب کھانا کھانے لگے تو حضرات صحابہ کرام (رضی)نے عرض کیا: یارسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم)!روٹی کے ساتھ سالن نہیں ہے،پھرصحابہ کرام (رضی)نے دیکھا ایک شہد کی مکھی ہے اور بڑے زور زور سے بھنبھناتی ہے،عرض کیا یارسول(صلی اللہ علیہ وسلم)یہ مکھی کیوں شور مچاتی ہے؟

فرمایا:یہ کہہ رہی ہے کہ مکھیاں بے قرار ہیں اس وجہ سے کہ صحابہ کرام(رضی) کے پاس سالن نہیں ہے حالانکہ یہاں قریب ہی غار میں ہم نے شہد کا چھتہ لگایا ہوا ہےوہ کون لاۓ؟کیوں کہ ہم تو اسے لا نہیں سکتے،یہ سن کر فرمایا اے علی!اس مکھی کے پیچھے پیچھے جاؤ اور شہد لے آؤ.حضرت علی(رضی)ایک چوبی پیالہ پکڑ کر اس کے پیچھے ہو لئے،وہ مکھی آگے آگے حضرت علی پیچھے پیچھے اس غار میں پہنچ گۓ اور حضرت علی(رضی)نے وہاں جا کر شہد نچوڑ لیا اور دربار رسالت(صلی اللہ علیہ وسلم)میں حاضر ہو گۓ،سرکاردوعالم(صلی اللہ علیہ وسلم)نے وہ شہد تقسیم فرما دیا.جب صحابہ کرام(رضی) کھانا کھانے لگے تو مکھی پھر آ گئی اور بھنبھنانا شروع کر دیا،صحابہ کرام رضی نے عرض کیا یارسول اللہ( صلی اللہ علیہ وسلم)!مکھی پھر اسی طرح شور کر رہی ہے تو آپ(صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے اس سے ایک سوال کیا ہے اور یہ اس کا جواب دے رہی ہے،میں نے اس سے پوچھا ہے کہ تماری خوراک کیا ہے؟مکھی کہتی ہے کہ پہاڑوں اور بیابانوں میں جو پھول ہوتے ہیں وہ ہماری خوراک ہے!میں نے پوچھا پھول تو کڑوے بھی ہوتے ہیں پھیکے بھی اور بدمزہ بھی ہوتے ہیں تو تیرے منہ میں جا کر نہایت شیریں اور صاف شہد کیسے بن جاتا ہے.تو مکھی نے جواب دیا

یارسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) ہمارا ایک امیر اور سردار ہے جب ہم پھولوں کا رس چوستی ہیں تو ہمارا امیر آپ(صلی اللہ علیہ وسلم)کی ذات اقدس پر درود شریف پڑھنا شروع کرتا ہے اور ہم بھی اپنے امیر کے ساتھ مل کر درودشریف پڑھتی ہیں تو بدمزہ اور کڑوے پھولوں کا رس درود شریف کی برکت ورحمت کی وجہ سے شہد شفاء بن جاتا ہے.

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں