محرم کا پیغام

تحریر: مفتی فیصل احمد
تحریکات میں بہت سے لوگ اپنی محنت اور لگائو کی بنیاد پر تاریخ میں نامور قرار پاتے ہیں، لیکن بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو خود تحریک کی شہرت کا باعث بنتے ہیں۔ حضرت عمرؓ اور حضرت حسینؓ ایسی ہی نابغۂ روزگار شخصیات تھیں، جو اسلام کی شہرت کا استعارہ قرار پائیں۔ حضرت عمرؓ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے خود مانگا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی تھی کہ عمرو بن ہشام یا عمر بن خطاب کے ذریعے اسلام کو قوت عطا فرما۔ آپ کی دین اسلام سے فطری و طبعی مناسبت ایسی تھی کہ جو آپ تجویز دیتے، وہ ہی وحی اتر جاتی۔ بدر کے قیدیوں کے بارے میں رائے ہو یا امہات المؤمنین کے حجاب کا مسئلہ… دسیوں امور میں آپ کی رائے وحی الٰہی کے موافق ثابت ہوئی۔ کوئی تو بات تھی کہ آپ کے بارے میں زبان نبوت سے یہ بات جاری ہوئی کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتا۔ گویا وحی الٰہی سے مناسبت اور دیگر کوائف میں آپؓ میں صلاحیت تو تھی، لیکن نبوت مجاہدے سے حاصل ہونے والا مرتبہ نہیں، یہ تو اللہ تعالیٰ کا انتخاب ہے، لہٰذا آپ کو حاصل نہ ہوا۔ آپ کی دین اسلام سے مناسبت کا یہ عالم تھا کہ لسان نبی نے اعلان کردیا کہ شیطان عمر سے بھاگتا ہے۔

قارئین اندازہ کرسکتے ہیں کہ ایسی باصلاحیت شخصیت جو نبی کی دعا سے اسلام کا حصہ بنی ہو، وہ کون سا کارنامہ ہے جو ان کی پہنچ سے محفوظ رہا ہوگا؟ دوسری طرف حضرت حسینؓ بچپن سے غیرمعمولی شخصیت ثابت ہوئے۔ جس عمر میں بچے کھیل کود کر اپنے اوقات ضائع کرتے ہیں، یہ ایک پختہ بزرگ کی طرح نیکیوں کا اہتمام کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر جان نچھاور کرتے تھے۔ ان کی آمد پر خطبہ رُک جایا کرتا تھا۔ یہ نفل نماز کے دوران پیغمبر علیہ السلام کی پیٹھ پر سوار ہوتے تو پیغمبر نماز کو لمبا کردیتے۔ ان سے یہ بے پناہ چاہتیں صرف ان کے اولاد ہونے کی وجہ سے نہ تھیں، بلکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی سے یہ علم ہوچکا تھا کہ حسن و حسین جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔ آپ جان چکے تھے کہ حسن مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان صلح کا باعث بنیں گے اور حسین اپنی مظلومانہ شہادت سے مسلمانوں کو فقر میں بادشاہی کا انداز سکھائیں گے۔ چنانچہ یہ دونوں نواسے نبوی تربیت کے اثر سے غیرمعمولی صفات سے مزین ہوتے رہے اور بالآخر نبوت کی پیشین گوئی پر پورا اترے۔

نیا سال شروع ہورہا ہے۔ محرم کے آغاز پر ان دونوں شخصیات کا ذکر نہ ہو تو لگتا ہے کہ ناقدری کی حد ہی ہوگئی۔ یکم محرم خلیفہ ثانی کی اور 10؍ محرم نواسۂ نبی کی شہادت کا دن ہے۔ اللہ تعالیٰ دونوں بزرگوں کو ان کی ہمت و توفیق سے کہیں بڑھ کر اپنے شایانِ شان اجر عطا فرمائے اور ہمیں بھی ان کی صفات سے کچھ حاصل کرنے کی توفیق دے۔ ان دونوں غیرمعمولی شخصیات کی زندگی غیرمعمولی واقعات سے بھری پڑی ہے۔ حضرت عمرؓ عدل، فیصلہ سازی اور شجاعت میں کمال کا مرتبہ رکھتے تھے۔ جب عہد صدیق میں معانین زکوٰۃ اور منکرین ختم نبوت کے معاملات نمٹ گئے اور داخلی طور پر معاشرہ پرامن ہوگیا تو یہاں سے حضرت عمرؓ کی جارحانہ اور اقدامی حکمت عملی کا آغاز ہوا۔ دس سال کی قلیل مدت میں 22 لاکھ مربع میل کا علاقہ فتح کرکے آپ نے سکندر اعظم کے 17 لاکھ مربع میل کے کارنامے کو مکمل طور پر گہنا دیا۔ یہ معاملہ اور بھی حیرت انگیز معلوم ہوتا ہے جب آپ کو پتہ چلے کہ سکندر اعظم شہزادہ تھا۔ اس کی تربیت شاہی اموال سے ہوئی تھی۔ اس کے پاس جنگی تربیت دینے والے ماہرین کی کمی نہیں تھی، جبکہ حضرت عمرؓ محض اپنی خداداد صلاحیت اور دعائے نبوی کی بدولت یہ کارنامہ سرانجام دینے میں کامیاب ہوئے آپ کی اپنی فوج پر گرفت ایسی تھی کہ آپ نے وقت کے کامیاب ترین سپہ سالار خالد بن ولیدؓ کو معزول کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصی دعا کے مستحق حضرت سعد بن ابی وقاصؓ اور حارث بن کعبؓ کو گورنری سے ہٹایا، لیکن سیاسی بھونچال تو دور کی بات، نظامِ حکومت پر ذرا برابر بھی اثر محسوس نہ کیا گیا۔ آپ نے سیاسی و عسکری اصلاحات سے حکومت کو ایسا مضبوط کیا کہ طویل زمانے تک حکمرانوں کی کمزوریوں کے باوجود سلطنت کو زوال نہ آیا۔ آپ نے سن ہجری کا باضابطہ اجراء کیا۔ مسجدوں میں روشنی کا انتظام کیا، آب پاشی کے نظام کو منظم کیا، سرکاری عہدے داروں کے احتساب کا نظم فعال کیا حتیٰ کہ آپ بنفس نفیس گلیوں میں چکر لگاکر عوام کے احوال سے آگاہ ہوا کرتے تھے۔ مستشرقین نے لکھا ہے کہ اگر اسلام کو ایک اور عمر مل جاتا تو آج دنیا میں صرف اسلام ہوتا۔

حسن و حسین کو دیکھیے کہ ان نوجوانوں نے بچپن سے جو اہل بیت کا وقار قائم کیا تھا، مرتے دم تک اس کی لاج رکھے رہے۔ 30 سالہ خلافت راشدہ کے آخری چھ مہینے حضرت حسنؓ کی خلافت رہی۔ پھر وہ مسلمانوں کی جماعتوں میں اتحاد کی خاطر پیچھے ہٹ گئے اور نظامِ حکومت حضرت معاویہؓ کے حوالے کردیا۔ یوں آپؓ نے مسلمانوں کے لیے دینی و دنیاوی اعتبار سے خیر کا فیصلہ کرکے ایک جانب نبوی پیشین گوئی کو درست ثابت کیا تو دوسری طرف نیک نامی بھی کمائی۔ ادھر حضرت حسینؓ نے یزید کے نامناسب حالات کے پیش نظر بیعت کرنے کے بجائے حالات کا جائزہ لینا شروع کیا۔ آپ کی رائے میں ابھی یزید کی خلافت کا انعقاد نہیں ہوا تھا، لہٰذا حکومت سازی کے عمل میں خیر کے فیصلے کرنے کے لیے اپنے سیاسی اثر کو استعمال کرنا ضروری خیال کیا، لہٰذا آپ نے اس سلسلے میں مختلف کوششیں کیں جو تاریخ کا حصہ ہیں۔ آپ نے خلافت کے انعقاد کا اندازہ ہونے پر صلح کی پیشکش بھی کی، لیکن چند بدبخت ہر قسم کے مذاکرات اور رابطوں میں رکاوٹ بنے رہے اور بالآخر آپ نے اپنے خاندانی وقار پر حرف لائے بغیر مظلومیت اور جرأت کے ساتھ شہادت کو قبول کیا۔ آپ کی مظلومانہ شہادت حضرت عثمانؓ کے بعد تاریخ کی مظلوم ترین شہادت ہے۔ آپ نے مسلمانوں کو بتادیا کہ خاندانی تعلقات اور نسب نامے سے کچھ نہیں ہوگا جب تک اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور اس کے لیے جان دینے کا جذبہ نہ ہو۔ حضرت عمرؓ نے ایک جانب اگر اصحابِ رسول کی عظمت کو چار چاند لگائے تو حضرت حسینؓ نے اہل بیت کے سینے پر شہادت کے تمغے سجائے۔ آج محرم کی مناسبت سے ہم دونوں بزرگوں کے ذکرخیر کے ساتھ عزم کرتے ہیں کہ ہم انہی کے اسوۃ اور نمونے پر زندگی گزاریں گے اور اسلام اور پاکستان کو سربلندی کی نئی بلندیوں سے آشنا کریں گے، ان شاء اللہ!

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں