حج دین کی تکمیل کا نام (حصہ اول)

تحریر حافظ اسحٰق جیلانی

دین کی تکمیل اس وقت ہوتی ہے جب دین پوری زندگی میں غالب آجائے اور پوری زندگی دین کے مطابق ہو

اس سال بھی پوری دنیا سے لاکھو ں فرزند ان تو حید حج کی سعادت حاصل کریں گے حج ایک بڑی اہم عبادت ہے اس کو اسلام کے ارکان میں شما ر کیا جاتا ہے ہر عبادت اپنی جگہ پر کوئی خاص مقصد رکھتی ہے حج ایسی عبادت نہیں ہے کہ ہر ایک پر فرض ہو اس کے لیے مال بھی چاہے صحت بھی چاہیے اور سفرکی سہولت بھی اس کے بغیر کوئی آدمی اس کو ادا نہیں کرسکتا حج پور ی زندگی میں صرف ایک دفعہ فرض ہے

جب حج فرض ہوا اور حضور ﷺ نے مسجد نبوی ﷺ میں اعلان فرمایا کہ تم پر ہر سال حج فرض کر دیا گیا ہے تو ایک قبائلی سردار حضرت فرع بن حابسؓ کھڑے ہوگئے اور پوچھا کہ کیا یہ ہر سال فرض کیا گیا ہے ؟اس پر آپﷺ خاموش رہے انہوں نے دوسری بار پھر یہی سوال کیا کیا ہر سال فرض کیا گیا ہے ؟ آپﷺ نے فرمایا کہ اگر میں ہاں کہہ دیتا تو پھر حج ہر سال فر ض ہو جاتا اورپھر تم اس کو ادا نہیں کرسکتے تھے

پھر آپﷺ نے فرمایا کہ جو میں کہا کروں اس کو اسی پر چھوڑ دیا کرو تم سے پہلے لوگوں نے ایسے ہی سوال کرکے دین کو بڑا مشکل بنا دیا تھا پھر وہ اس پر چل نہیں سکے اورآپس میں اختلاف کیا جو میں حکم دوں اس کو سنو اوراس پر عمل کرو گویا نبی کریم ﷺ نے اس بات کو ناپسند فرمایا کہ بہت سارے سوال کرکے کام کو اپنے لیے مشکل بنایا جائے لہذا حج پور ی زندگی میں ایک ہی بار فرض ہے حج دراصل محبت اورعشق کی عبادت ہے اور یہ ایمان کا بنیا دی تقاضا ہے کہ ایمان لانے والوں کو اﷲ تعالی سے ہر چیز سے بڑھ کر محبت ہو تر جمہ ایمان رکھنے والے لوگ سب سے بڑھ کر اﷲ کو محبوب رکھتے ہیں

( البقرہ2;165 )

ایک جگہ پر اﷲ تعالی نے نبی کریم ﷺ کو خود حکم دیا تر جمہ : ’’ اے نبی ﷺ لوگوں سے کہہ دو کہ اگر تم حقیقت میں اﷲ سے محبت رکھتے ہو تو میر ی پیروی اختیار کرو اﷲ تم سے محبت کرے گا اور تمہار ی خطاؤں سے در گزر فرمائے گا ‘‘

( آل عمران31:3)

حج حضرت ابر اھیم علیہ السلام کی اﷲ تعالی سے محبت کی علامت ہے عیدالا ضحی کے موقع پر قربانی بھی اس محبت کو تازہ کرنے کے لیے ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اﷲ کی محبت میں جس طرح اپنے باپ کو چھوڑا اپنا گھر بار چھوڑ ا رشتہ دار وں کو چھوڑا ایک بیابان جنگل میں اپنے بیوی بچے کو لا بسایا وہاں پر پتھروں سے اﷲ کا گھر بنایا یہ سب محبت کی علامت ہے حج دین کی تکمیل کا نام ہے حضور ﷺ حج و داع کے موقع پر عرفات کے میدان میں کھڑے تھے اس وقت اﷲ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی ترجمہ : ’’ آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کردیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تما م کردی ہے اور تمہارے لیے اسلام کو تمہار ے دین کی حیثیت سے قبول کرلیا ہے

( المائدہ3:5 )

اس آیت کا حج کے موقع پر نازل ہونا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ دین کی تکمیل کا رشتہ حج کے ساتھ وابستہ ہے حضور ﷺ نے پوری زندگی میں ایک بار حج کیا اور اس کے تین مہینے بعد آپ ﷺ کاوصال ہوگیا آپ ﷺ نے اپنے وصال سے پہلے حج کا فریضہ انجام دیا اس کے سارے مناسک اورآداب و مسائل لوگوں کو سکھائے اور یہ آپ ﷺ ہی واضح کرسکتے تھے اسی طرح حجۃ الوداع کے موقع پر دین کی تکمیل بھی ہوگئی ۔دین کی تکمیل اس وقت ہوتی ہے جب دین پوری زندگی میں غالب آجائے اور پوری زندگی دین کے مطابق ہو یہ مر حلہ اس وقت آیا جب لوگ دین میں مو ج در مو ج داخل ہوئے اور اﷲ تعالی نے اپنی نصرت اور فتح عنایت فرمائی اورمکہ فتح ہوگیا اور بتدریج پورے عرب میں دین غالب آگیا لو گ گروہ در گروہ دین میں داخل ہونے لگے سورہ نصر میں اسی مرحلے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے تر جمہ : بے شک سب سے پہلے عبادت گاہ جو انسانوں کے لیے تعمیر ہوئی وہ وہی ہے جو مکہ میں واقع ہے اس کو خیر و برکت دی گئی تھی اور تمام جہاں والوں کے لیے مر کز ہدایت بنایاگیا تھا اس میں کھلی نشانیاں ہیں ابر اہیم علیہ السلام کا مقام عبادت ہے اوراس کا حال یہ ہے کہ جواس میں داخل ہوا مامو ن ہو گیا

( آل عمران 97-963)

پھر 10 ھ میں مختلف وفود حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے رہے ان وفود نے اپنے قبیلوں میں واپس جاکر اسلام کا پیغام پہنچایا اس طرح ہر طرف اﷲ کے دین کا بول بالا ہوگیا اور لوگ جو ق در جوق اور فوج در فوج مسلمان ہوئے اب اﷲ کے آخری رسول ﷺ کی امت ہر طرف پھیل چکی تھی اور دور دور تک کفر و شرک کا نشان مٹ چکا تھا ایک سال قبل 9ھ کو حضور ﷺ نے حضرت ابو بکر صدیق ؓ اور حضرت علی مرتضی ؓ کو مکہ میں بھیج کر یہ اعلان کر ا دیا تھا کہ اب اس پاک سر زمین پر مشرکین کے قدم نہ پڑنے پائیں اس لیے کہ اب دین حق کا چراغ پور ی تابانیوں کے ساتھ جگمگا رہا ہے10 ھ میں حضورﷺ نے اراد ہ فرمایا کہ خود حج کے لیے مکہ تشریف لے جائیں تاکہ خود حج کرکے لوگوں کو دکھا دیں کہ حج کا اسلامی طریقہ کیا ہے

چنا نچہ ہر طرف اعلا ن ہوگیا کہ اس سال اﷲ کے رسول حج کے لیے تشریف لارہے ہیں یہ سننا تھا کہ ہر طرف سے لوگ ساتھ جانے کے لیے تیا ر ہوگئے 25ذیعقد10 ھ کے روز اﷲ کے آخری رسول ﷺ ایک لاکھ سے زیادہ صحابہ ؓ کے ساتھ مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے اور 9دن بعد 4ذی الحج 10ھ کے دن مکہ میں داخل ہوئے اس سفر میں آپ کی تمام ازواج مطہرات ؓ بھی ساتھ تھیں

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں