حج دین کی تکمیل کا نام (حصہ دوم)

تحریر حافظ اسحٰق جیلانی

صاحبزادی حضرت سیدہ فاطمہ بھی ساتھ تھیں حضرت علی جو یمن گئے ہوئے تھے وہ بھی مکہ پہنچ کر شر یک ہوگئے حضورﷺ مکہ میں داخل ہوئے اور کعبہ شریف پر آپ ﷺ کی نظر پڑی تو یہ دعا پڑھی ’’اے اﷲ تو سلامتی دینے والا ہے اورتیری ہی طرف سے سلامتی ہے اے رب ہمیں سلامتی کے ساتھ زندہ رکھ اے اﷲ اس گھر کی عظمت ٗ شرف ٗعزت اور ہیبت کو زیادہ فرما اور جو لوگ اس گھر کا حج اور عمرہ کرے تو اس کی بزرگی اورشرف و عظمت کو زیادہ فرما 

جب حضور ﷺ حجر اسو د کے سامنے تشریف لے گئے تو حجر اسو د پر ہاتھ رکھ کر اس کو بوسہ دیا پھر خانہ کعبہ کا طواف فرمایا جب طواف سے فارغ ہوئے تومقام ابر اہیم کے پاس تشر یف لائے اور2 رکعت نما ز ادا کی پھر صفا کی جانب روانہ ہوئے قریب پہنچے تو اس آیت کی تلاوت فرمائی ’’ بے شک صفا اور مروہ اﷲ کے دین کے نشانیوں میں سے ہیں ‘‘ صفا اور مروہ کی سعی فرمائی چونکہ حضورﷺ کے ساتھ قربانی کے جانو ر بھی تھے اس لیے عمرہ ادا کرنے کے بعد آپ ﷺ نے احرام نہیں اتا را آٹھویں ذوالحجہ کے دن آپ منیٰ تشر یف لے گئے اور پانچ نمازیں ظہر ، عصر ، مغرب ، عشاء اور فجر منی ٰ میں اد ا فرمائیں نو ذوالحجہ کے دن حضور ﷺ عرفات میں تشریف لے گئے عرفات پہنچ کر حضورﷺ نے ایک خیمہ میں قیام فرمایا جب سورج ڈھل گیا توا ٓپﷺ اپنی اونٹنی قصوا پر سوار ہوئے اور مسلمانوں کے سامنے اپنے وہ خطبہ ارشاد فرمایا جس میں دین کے اہم امو ر بیان فرمائے اس میں سے چند حصے درج ذیل ہیں

آپ ﷺ نے حمد وثناء کرتے ہوئے خطبہ کی یوں ابتداء فرمائی خدا کے سوا کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے کوئی اس کا شریک نہیں خدا نے اپنا وعدہ پورا کیا اس نے اپنے بندے رسو ل اﷲ ﷺ کی مدد فرمائی اور تنہا اس کی ذات نے باطل کی ساری مجمع قوتوں کو زیر کیا لوگو میری بات سنو کیو نکہ میں نہیں سمجھتا کہ آئندہ ہم اس طرح کسی مجلس میں یکجا ہوسکے گے اورغالباً اس سال کے میں حج نہ کرسکوں گا لوگو اﷲ تعالی کاارشاد ہے کہ

انسانوں ہم نے تم سب کو ایک ہی مر د و عورت سے پیدا کیا ہے اور تمہیں جماعتو ں اور قبیلوں میں بانٹ دیا کہ تم الگ الگ پہچانے جاسکو

تم میں سے زیادہ عزت و کرامت ولا خدا کی نظروں میں وہی ہے جو خدا سے زیا دہ ڈرنے والا ہے

چنانچہ نہ کسی عربی کو کسی عجمی پر کو ئی فوقیت حاصل ہے نہ کسی عجمی کو کسی عر بی پر نہ کالا گورے سے افضل ہے نہ گورا کالے سے ہا ں بزرگی اور فضیلت کا کوئی معیار ہے تو وہ تقوی ہے اب فضیلت و بر تری کے سارے دعوے خون و مال کے سارے مطالبے اور سارے انتقام میرے پاؤں تلے دفن اور پامال ہو چکے ہیں

قر یش کے لوگو خدا نے تمہار ی نخوت کو ختم کر ڈالا اور باپ دادا کے کارناموں پر تمہارے فخر و مباہات کی اب کوئی گنجائش نہیں تمہارے خو ن ومال اور عزتیں ایک دوسرے پر قطعا حرا م کردی گئیں ہمیشہ کے لیے ان چیزوں کی اہمیت ایسی ہے جیسی تمہارے اس دن کی اور اس ماہ مبارک (ذی الحج )کی خاص کر اس شہرمیں تم سب خدا کے پاس جاؤ گے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کی باز پرس کرے گا

دیکھو کہیں میرے بعد گمراہ نہ ہوجانا کہ تم آپس کشت و خون کرنے لگو اگر کسی کے پاس امانت رکھوائی تو وہ اس بات کا پابند ہے کہ امانت رکھوانے والے کی امانت پہنچا دے لوگو ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور سار ے مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہے

اپنے غلاموں کاخیال رکھو ہاں غلاموں کا خیال رکھو انہیں وہی کھلا ؤ جو خود کھاتے ہوایسا ہی پہناؤ جیسے تم پہنتے ہو دیکھو تمہارے اور تمہاری عورتوں کے کچھ حقوق ہیں ا س طرح ان پر تمہارے حقو ق واجب ہے عور توں سے بہتر سلوک کرو لوگو میر ی بات سمجھ لو کہ میں نے حق تبلیغ ادا کر دیا میں تمہار ے درمیان ایک ایسی چیز چھوڑے جاتا ہو ں اگر تم اس پر قائم رہو اور اس کی پیر وی کرتے رہو تو کبھی گمراہ نہ ہوگے او ر وہ خدا کی کتاب ہے

اور ہاں دیکھو دینی معلومات میں حد سے تجاوز نہ کرنا کہ تم سے پہلے کے لوگ انہی باتوں کے سبب ہلاک کردیئے گئے شیطان کو اب اس بات کی کوئی توقع نہیں رہ گئی ہے کہ اب اس کی اس شہر میں عبادت کی جائے گی لیکن اس کا امکان ہے کہ ایسے معاملات میں جنہیں تم کم اہمیت دیتے ہو اس کی بات مان لی جائے اور وہ اسی پر راضی ہے اس لیے تم اس سے اپنے دین اور ایمان کی حفاظت کرنا اورلوگو اپنے رب کی عبادت کرو پانچ وقت کی نماز اداکرو مہینے بھر کے روزے رکھو اپنے مالوں کی خوش دلی کے ساتھ دیتے رہو اپنے خدا کے گھر کا حج کرو اور اپنے اہل امر کی اطاعت کرو تم اپنے رب کی جنت میں داخل ہوجاؤ گے

اب مجرم خود ہی اپنے جر م کا ذ مہ دار ہوگا اور اب نہ باپ کے بدلے بیٹا پکڑا جائے گا اور نہ بیٹے کا بدلہ باپ سے لیا جائے گا سنو جو لوگ یہاں موجو د ہیں یہ احکام اوریہ باتیں ان لوگوں بتا دیں جو یہاں نہیں ہے ہوسکتا ہے کوئی غیر مو جو د تم سے زیادہ سمجھنے اور محفوظ رکھنے والا ہو اور ( لوگو) تم سے میر ے بارے میں خدا کے ہاں سوال کیا جائے گا بتا ؤ تم کیا جواب دوں گے لوگو نے جواب دیا کہ ہم اس بات کی شہادت دے گے کہ آپﷺ نے امانت پہنچا دی اورآپ ﷺ نے حق رسالت ادا کردیا اور ہماری خیر خواہی فرمائے یہ سن کر حضور اکرم ﷺ نے اپنی انگشت شہادت آسمان کی جانب اٹھائی اور لوگو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا

اے خدایاگواہ رہنا خدایا گواہ رہنا خدایا گواہ رہنا ۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں