حدیث کے معاملے میں چھان بین اور احتیاط از محمد نعیم یونس

اللہ تعالی فرماتے ہیں:
“وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ”[النحل 44:16 ]
” اور ہم نے آپ کی طرف ذکر “قرآن مجید” نازل کیا ہے تا کہ آپ لوگوں کے لیے بیان کریں جو کچھ ان کی طرف نازل کیا گیا ہے تا کہ وہ غوروفکر کریں۔”

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“الا انی اُوتیتُ الکتابَ وَ مِثلہُ معہُ”
“یاد رکھو! مجھے قرآن مجید اور اس کے ساتھ اس جیسی ایک اور چیز “حدیث” دی گئی ہے۔”
{[صحیح] سنن ابی داود، السنۃ، باب فی لزوم السنۃ، حدیث:4604 ، و سندہ صحیح، امام ابن حبان نے الموارد، حدیث:97 میں اسے صحیح کہا ہے۔}

جس طرح اللہ تعالٰی نے اپنی اطاعت کو فرض کیا ہے، اسی طرح اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت بھی فرض قرار دی ہے۔ فرمایا:
” يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ “[محمد 33:47 ]
“اے اہل ایمان! اللہ کی اطاعت کرو اور “اسکے” رسول کی اطاعت کرو۔ اور “اس اطاعت سے ہٹ کر” اپنے اعمال باطل نہ کرو۔”

معلوم ہوا کہ قرآن مجید کی طرح حدیث نبوی بھی شرعی دلیل اور حجت ہے مگر حدیث سے دلیل لینے سے قبل اس بات کا علم ضروری ہے کہ آیا وہ حدیث، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت بھی ہے یا نہیں؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“یَکُونُ فی آخر الزمَان دَجَّالُونَ کَذَّابُونَ یاتُونَکم منَ الاحَادیثِ بِمَا لم تسمعوا انتم ولا آباوکم فایاکم وایاکم وایاھم لا یُضلونَکم وَلا یفتنونکُمْ”
[صحیح مسلم، المقدمہ، باب النھی عن الروایۃ عن الضعفاء والاحتیاط فی تحملھا، حدیث:7 ]
“آخری زمانے میں دجال اور کذاب ہوں گے، وہ تمھیں ایسی ایسی احادیث سنائیں گے جنھیں تم نے اور تمھارے آباء و اجداد نے نہیں سنا ہوگا، لہذا ان سے اپنے آپ کو بچانا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ تمھیں گمراہ کردیں اور فتنے میں ڈال دیں۔”

مزید فرمایا:
“مَنْ کَذَبَ علی متعمدا فلیتبوا مقعدہ من النار”
[صحیح البخاری، العلم، باب اثم من کذاب علی النبی، حدیث:110,108,107 ]
“جو شخص مجھ پر عمدا جھوٹ بولے تو وہ اپنا ٹھکانا آگ میں بنا لے۔”

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“کفی بالمرء کذبا ان یحدث بکل ما سمع”
[ صحیح مسلم، المقدمۃ، باب النھی عن الحدیث بکل ما سمع، حدیث:5 ، ترقیم دارالسلام۔]
آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات بیان کردے۔”

ایک حدیث میں آیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے مجھ سے ایسی کوئی حدیث بیان کی جسے وہ جانتا ہے کہ جھوٹ ہے تو یہ شخص جھوٹوں میں سے ایک ہے” اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ اس حدیث سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جو آدمی بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی حدیث بیان کرتا ہے جس بارے میں اسے شک ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے یا صحیح نہیں تو یہ شخص جھوٹوں میں سے ایک ہے۔”
[اطراف الغرائب والافراد للدارقطنی، تالیف محمد بن طاہر المقدسی:22/1 ، و سندہ صحیح۔]

متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے یہ ثابت ہے کہ وہ حدیث بیان کرنے میں انتہائی احتیاط برتتے تھے۔
حافظ ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
” صحابہ رضی اللہ عنھم کی ایک جماعت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرنے سے مخص اس لیے گریز کیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ حدیث بیان کرنے میں غلطی، زیادتی یا کمی ہوجائے اور وہ آپ کے اس فرمان ” جو شخص مجھ پر عمدا جھوٹ بولتا ہے، اس کا ٹھکانا آگ ہے” کے مصداق قرار پائیں۔”
[الکامل لابن عدی: 80/1 ۔]

امام مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
“جو شخص حدیث کے ضعیف راوی کا ضعف جاننے کے باوجود ضعف بیان نہیں کرتا تو وہ اپنے اس فعل کی وجہ سے گناہ گار ہے اور عوام الناس کو دھوکا دیتا ہے کیونکہ ممکن ہے کہ اس کی بیان کردہ احادیث یا ان میں سے اکثر اکاذیب “جھوٹ” ہوں اور ان کی کوئی اصل نہ ہو جبکہ صحیح احادیث اس قدر ہیں کہ ان کے ہوتے ہوئے ضعیف احادیث کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ پھر بہت سے لوگ علم ہوجانے کے باوجود عمدا ضعیف اور مجہول اسناد والی احادیث محض اس لیے بیان کرتے ہیں کہ عوام الناس میں ان کی شہرت ہو اور یہ کہا جائے کہ “اس کے پاس بہت احادیث ہیں اور اس نے بہت کتابیں تالیف کردی ہیں”۔ جو شخص علم کے معاملے میں اس روش کو اختیار کرتا ہے۔ اس کے لیے علم میں کچھ حصہ نہیں اور اسے عالم کہنے کی بجائے جاہل کہنا زیادہ مناسب ہے۔”
[صحیح مسلم، المقدمہ، باب بیان ان الاسناد من الدین کے آخری الفاظ]

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
“ائمہ میں سے کسی نے نہیں کہا کہ ضعیف حدیث سے کسی عمل کا واجب یا مستحب ہونا ثابت ہوسکتا ہے۔ جو شخص یہ کہتا ہے، اس نے اجماع کی مخالفت کی۔”
[التوسل والوسیلۃ، ص:95 ۔]

جمال الدین قاسمی فرماتے ہیں کہ یحٰیی بن معین، ابن حزم اور ابوبکر ابن العربی رحمۃ اللہ علیھم کے نزدیک فضائل اعمال میں بھی صرف مقبول احادیث ہی قابل استدلال ہیں۔
[قواعد التحدیث، ذکر المذاھب فی الاخذ بالضعیف۔۔۔۔، ص:113 ۔]

بشکریہ محدث فورم

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں