پریشانی کے لمحات میں سیرت نبیﷺ سے ڈھارس از زعفراء

دخل رسول الله – صلى الله عليه وسلم – المسجد ذات يوم ، فإذا هو برجل من الأنصار يقال له أبو أمامة ، فقال : يا أبا أمامة مالي أراك جالسا في المسجد في غير وقت الصلاة ؟ قال : هموم لزمتني وديون يا رسول الله ، قال : أفلا أعلِّمك كلاما إذا قلته أذهب الله همك وقضى عنك دينك ؟ قال : بلى يارسول الله ، قال : قل إذا أصبحت وإذا أمسيت : اللهم إني أعوذ بك من الهم والحزن ، وأعوذ بك من العجز والكسل ، وأعوذ بك من الجبن والبخل ، وأعوذ بك من غلَبة الدين وقهر الرجال ، قال أبو أمامة : ففعلت ذلك ، فأذهب الله همي ، وقضى عني ديني ” رواه أبو داود. ایک روز نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے تو آپ ﷺ نے وہاں ایک انصاری شخص کو پایا جس کا نام ابو امامہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ اے ابو امامہ کیا بات ہے میں تمہیں مسجد میں بیٹھے دیکھ رہا ہوں جبکہ یہ نماز کا وقت نہیں ہے۔ ابو امامہ نے کہا اے اللہ کے رسول مجھے غموں اور قرضوں نے جکڑ لیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھا دوں جو تم کہو تو اللہ تمہارا غم دور کر دے اور تمہارا قرض چکا دے؟ ابو امامہ نے کہا کیوں نہیں اے اللہ کے رسول۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبح اور شام یہ پڑھا کرو: اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں رنج و غم سے، اور تیری پناہ چاہتا ہوں عاجزی اور سستی سے۔ اور میں پناہ چاہتا ہوں کم ہمتی اور بخل سے۔ اور میں پناہ چاہتا ہوں قرض کے بوجھ سے اور لوگوں کے قہر سے۔ ابو امامہ کہتے ہیں کہ میں نے ایسا ہی کیا۔ تو اللہ نے میرا غم دور کر دیا اور مجھ سے میرا قرض چکا دیا۔ (اسے ابو داؤد نے روایت کیا ہے) سیرت کے اس واقعہ نے مجھے بہت زیادہ متاثر کیا۔ یوں تو اس میں کئی چیزیں ہیں سوچنے اور سمجھنے کے لیے جسے اہل علم نے وضاحت سے حدیث کی شروح میں بیان کیا ہے۔ لیکن مجھے جوبات سب سے زیادہ محسوس ہوئی وہ یہاں شئیر کر رہی ہوں۔ اس کو سنتے ہی جو تصویر میرے ذہن میں بنی وہ یہ تھی۔ ابو امامہ رضی اللہ عنہ مسجد میں اللہ کے در پر پریشان بیٹھے ہیں۔ ایسی حالت میں انسان کا جی چاہتا ہے کہ وہ کسی سے اپنی پریشانی بیان کرے اور غم کا بوجھ بانٹے۔ اتنے میں اللہ کے رسول تشریف لاتے ہیں۔ اور ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے پوچھتے ہیں کہ وہ اس وقت مسجد میں کیوں بیٹھے ہیں جب کہ نماز کا وقت بھی نہیں۔ پوچھنے والی شخصیت اللہ کے رسول کی اور پوچھنے کا انداز ایک غم خوار اور ساتھی کا !!! ابو امامہ رضی اللہ عنہ کی خوش نصیبی کے کیا کہنے۔ ان کا غم تو آدھا ہوگیا ہوگا! اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ بڑھ کر کسی کے لیے کوئی کیا خیر خواہ ہوگا۔ تب ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے اپنی پریشانی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حل بتایا۔ انہوں نے اس پر عمل کیا اور پریشانی سے نجات پا لی۔ وہ کیسا دور ہو گا جب اللہ کے نبی لوگوں کے درمیان موجود ہوتے تھے ۔ لوگ پریشانی میں ان کے پاس جاتے اپنے دلوں کا حال بتاتے تھے اور حل دریافت کرتے تھے۔ ان کو اس پر کامل یقین ہوتا تھا کہ ہم جس سے اپنی پریشانیوں کا تذکرہ کر رہے ہیں اس کے اخلاص میں کوئی شبہ ہو ہی نہیں سکتا۔ اس سے بڑھ کر خیر خواہ کوئی ہو سکتا ہے اور نہ ہی اس سے بہتر حل کوئی بتا سکتا ہے۔ اس سے ان کے دل کی دنیا پرسکون ہوجاتی ہوگی ۔ بر خلاف آج کے دور کے، کہ انسان اپنی پریشانی اگر کسی سے کہتا بھی ہے تو ہزار مرتبہ یہ سوچتا ہے کہ کہے نہ کہے۔ نتائج پر سو بار غور کرتا ہے۔ پھر کہنے کے بعد بھی کئی طرح کے خیالات پریشان کرتے ہیں۔ اس پر بھی شرح صدر نہیں ہوتا کہ مشورہ دینے والے نے درست مشورہ دیا یا نہیں۔ ان خیالات کے دل میں آنے کے بعد میں سوچتی ہوں کہ اللہ نے ہمارے ساتھ ناانصافی تو یقینا نہیں کی کہ ہمیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے محروم رکھا۔ اس نے اسی لیے انﷺ کی سیرت کو ہمارے لیے نمونہ بنا کر محفوظ کردیا۔ تا کہ آئندہ آنے والے جو لوگ اس کے حبیبﷺ سے محبت کریں گے، اس کی اتباع کرنا چاہیں گے ان کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جیسا سکون و اطمینان نصیب ہوگا۔ بس کمی ہمارے ایمان میں ہوتی ہے۔ ہم اپنے ہر مسئلے کے لیے سیرت نبویﷺ سے رجوع کرنے کے عادی نہیں۔ جب ہمارا یقین و ایمان اللہ کے وعدوں پر پختہ ہوگا تو ہمارے دلوں کو بھی سکون و اطمینان مل سکے گا۔ اللہ تعالیٰ مجھ سمیت تمام لوگوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی محبت اور سچی اتباع نصیب فرمائے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے جیسا شرح صدر عطا فرمائے۔ اللہ ہمارا حشر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صالحین کے ساتھ فرمائے۔ آمین۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں