رمضان کی تیاری تحریر: محمد عدیل معاویہ

تحریر ۔محمد عدیل معاویہ اٹک
رمضان کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ نبی کریمﷺ شعبان سے ہی اس مہینے کی تیاری شروع فرما دیتے تھے،اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرتے تھے۔جس طرح تاجر سیزن آنے سے پہلے کمائی کی تیاری کر لیتا ہے تا کہ سیزن میں خوب نفع کمائے۔اگر کوئی تاجر کمائی کے سیزن سے پہلے تیار نہ ہو تو خواطر خواہ نفع حاصل نہیں کر سکتا اسی طرح رمضان چونکہ نیکیوں کا سیزن ہے اگر اس سے پہلے تیاری نہیں ہو گی تو کماحقہ اس کی برکات حاصل نہیں کی جا سکیں گی۔الحمدللہ ررمضان کی آمد آمد ہے۔اللہ رب العزت نے ایک مرتبہ پھر امت محمدیہ کو اپنی رحمتیں سمیٹنے کا موقع دیا ہے۔اب ہم نے رمضان کی آمد سے پہلے اپنا محاسبہ کرنا ہے کہ آیا میری تیاری مکمل ہے کہ نہیں؟
سب سے پہلے دیکھنا ہے کہ میرے عقائدواعمال قرآن و سنت کے مطابق ہیں کہ نہیں؟نہیں تو ان کی اصلاح کی جائے۔
کیا سحر افطار میں خرچ ہونے والا مال حلال ہے؟
کیا میرے والدین،رشتہ دار،اساتذہ،پڑوسی اور بہن بھائی مجھ سے راضی ہیں؟اگر ناراض ہیں تو ان سے معافی مانگ کر انہیں راضی کیا جائے۔
کیا محلے میں کوئی ایسا گھر تو نہیں کہ جن کے پاس سحر و افطار کا سامان نہیں؟اگر کوئی ایسا گھر ہے تو طاقت کے مطابق ان کی مدد کی جائے۔
اگ
ر رمضان سے پہلے یہ کام کر لیے جائیں تو سمجھیں رمضان کی تیاری مکمل ہے پہر اس کے بعدعبادت میں لگ جائیں اور خوب اللہ کی رضا اور خوشنودی کو سمیٹیں۔اے اللہ اس ماہ رمضان کے صدقے اسلام اور پاکستان پر رحم فرما(آمین)

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں