“ڈارک انرجی” کا معمہ

! ہم اب تک اندھیرے میں ہیں

یہ کوئی ایبسٹریکٹ آرٹ کا نمونہ نہیں بلکہ اب تک کا کائینات کا سب سے بڑا سہ جہتی تھری ڈی نقشہ ہے.
یہ ہمارے آسمان کے بیسویں حصے پر مشتمل ہے اور یہاں سے شروع ہو کر ہماری کائنات کے 6 ارب نوری سال کی وسعت کا عکس ہے
اب تک کے محتاط ترین تخمینے کے مطابق کائنات کی کل عمر 13.8 ارب سال ہے
یوں سمجھیں کے اگر ایک کیک کا تکونا سلائیس کاٹیں تو مرکز والا کونا ہمارا آسمان ہے جہاں سے ہم ٹیلیسکوپ سے پرلے کنارے کی طرف دیکھ رہے ہیں اور دوسری طرف والا کنارا ہماری ٹیلیسکوپ میں نظر آنے والی کائنات کی وہ پرلی انتہا ہے جسکا فاصلہ اس کنارے کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک 6 ارب نوری سال ہے
اور اس میں نظر آنے والے “نقطے” دراصل 48،741 کہکشائیں ہیں
اس نقشے کا مقصد تھا کائنات کے پھیلاؤ کی رفتار کو جانچنا اور اس میں “ڈارک انرجی” کا مجوزہ کردار.
“بگ بینگ” اور پھر اسکے بعد کائنات کے پھیلنے کی حقیقت تو 1400 سال پہلے اللہ نے ہمیں قران میں بتا دی تھی، جس پر سائنس اب جا کر “ایمان لائی” ہے

أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا ۖ وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ ۖ أَفَلَا يُؤْمِنُونَ ﴿٣٠
سورة الأنبياء
کیا کافر لوگوں نے یہ نہیں دیکھا کہ آسمان وزمین باہم ملے جلے تھے پھر ہم نے انہیں جدا کیا اور ہر زنده چیز کو ہم نے پانی سے پیدا کیا، کیا یہ لوگ پھر بھی ایمان نہیں ﻻتے (30

وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ
(الذّاريات، 51 : 47)

اور ہم نے آسمان (کائنات کے سماوِی طبقات) کو طاقت (توانائی) سے بنایا ہے اور بلاشبہ ہم کائنات کو پھیلاتے چلے جا رہے ہیں

سائنس دانوں کا خیال ہے کہ کشش ثقل مادے کو ایک دوسرے سے قریب اور ڈارک انرجی دور کرنے کا باعث ہے. اس لحاظ سے کائنات کے پھیلاؤ کی رفتار میں اضافہ بتاتا ہے کہ ڈارک انرجی کے اثرات کا تناسب زیادہ ہے.
لیکن مخمصے کی بات یہ ہے کہ فی الحال کوئی بھی یہ نہیں جانتا کہ “ڈارک انرجی” دراصل ہے کیا. کیونکہ اسکے وجود بارے بھی نسبتاً ٹھوس شواہد اب جا کے سامنے آئے ہیں جب ہم کائنات کا اسقدر عظیم الشان نقشہ بنانے کے قابل ہوئے ہیں. اور دوسری اہم بات یہ ہے کہ اس تصور نے اب آئینسٹائن کی ریلیٹوٹی تھیوری پر بھی سوالیہ نشان ڈال دئیے ہیں اور بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ کائنات میں مادے کی ترتیب اتنی “ہموار” اور “متناسب” نہیں جتنی کے میتھمیٹکل کیلکولیشنز کیلئے اب تک “فرض” کر رکھی گئی ہے
لب لباب اس محیر العقول دریافت کا یہ ہے کہ بظاہر فزکس میں ترقی کی معراج پر پہنچ کر ہمیں پتہ چلا ہے کہ ابھی تو ہم کچھ بھی نہیں جانتے
واضح رہے کہ یہ پوری کی پوری کائنات سات آسمانوں میں سے محض پہلا آسمان ہے جسکی حیثیت دوسرے آسمان کے مقابلے میں محض اتنی ہے جتنی کہ صحرا میں پڑی کسی انگوٹھی کی
اور یہی تناسب ہر آسمان کا اگلے آسمان کے مقابلے میں اور ساتویں آسمان کا “عرش” کے مقابلے میں ہے

فبای آلاء ربکما تکذبان؟؟

تحریر : رضوان اسد خان

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں