لاہور کے بعد اوبر سروس کراچی پہنچ گئی

اکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں جمعرات سے اوبر ٹیکسی سروس کے آغاز ہو گیا ہے۔

اوبر موبائل فون کی ایپ کے ذریعے ٹیکسی بک کرنے کی سروس ہے جو دنیا کے 76 ممالک کے 473 شہروں میں موجود ہے۔

اوبر کے بین الاقوامی کاروبار میں توسیع کے سربراہ لیوک اماڈو نے بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ سال اوبر نے مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور پاکستان کے خطے کے لیے 25 کروڑ ڈالر کی خطیر رقم مختص کی تھی جس کا ایک بڑا حصہ پاکستان میں خرچ کیا جائے گا۔

انھوں نے بتایا کہ جمعرات کو سندھ حکومت کے ساتھ ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیےگئے جس کا مقصد ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ٹیکنالوجی کے استعمال سے کراچی کے شہریوں کے لیے معاشی مواقع فراہم کرنا ہے۔

اوبر نے فی الحال کراچی میں اپنی سب سے سستی سروس ’اوبرگو‘ متعارف کروائی ہے جو نو روپے 38 پیسے فی کلومیٹر اور دو روپے فی منٹ کے حساب سے بل بنائے گی۔

فاصلے اور وقت دونوں کے حساب سے پیسے لینا عوام کے لیے مہنگا بھی ہو سکتا ہے تاہم اوبر کے پاکستان میں نمائندے زہیر یوسفی اس سے متفق نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے عوام کو سستی اور معیاری سہولت میسر آئے گی۔

کراچی میں جمعرات سے اتوار تک اوبر کی تین سو روپے تک کی سروس مفت فراہم کی جا رہی ہیں۔ اوبر کا کہنا ہے کہ جلد ہی اسلام آباد میں بھی سروس متعارف کروائی جائے گی۔

یاد رہے کہ اوبر کا پاکستان میں آغاز اس سال مارچ میں لاہور سے ہوا تھا۔

تاہم اوبر پاکستان میں پہلی ٹیکسی سروس نہیں ہے جو موبائل ایپ کے ذریعے چل رہی ہو۔ اس سے پہلے پاکستان میں ’کاریم‘ کے نام سے ایک ٹیکسی سروس موجود ہے جو کراچی لاہور اور اسلام آباد میں کام کر رہی ہے۔

دوسری جانب کاریم کے سی ای او جنید اقبال نے کہا کہ کاریم ایک مکمل پاکستانی کمپنی ہے جس کی ایپ بھی پاکستان میں تیار کی گئی ہے ۔

انھوں نے بتایا کہ دنیا کے دس ممالک کے 30 شہروں میں کاریم نے اوبر کا کافی سخت مقابلہ کیا ہے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ مصر کے سوا تمام ممالک میں کاریم کے 85 فیصد ڈرائیور پاکستانی ہیں۔

یاد رہے کہ کراچی میں عوام کے لیے سرکاری سطح پر ٹرانسپورٹ کا کوئی انتظام نہیں ہے اور تقریباً دو کروڑ کی آبادی والے شہر میں کوئی ماس ٹرانزٹ سسٹم نہیں ہے۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں