نویں سیارے کی تلاش، نظام شمسی میں نئی دریافتیں

امریکہ میں ماہرین فلکیات نے نظام شمسی کی بیرونی حدود میں موجود بعض ان چیزوں سے متعلق معلومات حاصل کر لی ہیں جن کے بارے میں پہلے کچھ بھی نہیں معلوم تھا۔

اس میں سے ایک تو مدار میں ایک برفیلی شے ہے جو اسے سورج سے اتنا دور لے جاتی ہے کہ وہ ممکنہ طور پر دوسرے ستاروں کی کشش ثقل سے متاثر ہوتی ہے۔

یہ نئی دریافتیں ایک ممکنہ نویں سیارے کی تلاش کی کوششوں کے دوران ہوئی ہیں جس کی موجودگی کے بارے میں بالواسطہ قیاس آرائیاں ہوتی رہی ہیں۔

یہ نئی معلومات جلد ہی دی ایسٹرونومیکل جرنل میں شائع کی جائیں گی۔

اس کی تحقیق میں شامل سکاٹ شیپرڈ اور چیڈ ترجولو نے اپنی دریافت کی تمام تفصیلات مائنر پلینیٹ نامی ادارے کو سونپ دی ہیں جو چھوٹے ستاروں اور دمدار ستاروں سمیت ایسی چیزوں کی تفصیلات اپنے پاس رکھتا ہے۔

نئی دریافت شدہ چیزوں میں سے ایک، جو ابھی 2014 ایف ای 72 کے نام سے جانی جاتی ہے، اورٹ کلاؤڈ میں موجود ہے اور نیپچیون سے بھی کافی فاصلے پر ایک مدار کے ساتھ پائی گئی۔

اورٹ کلاؤڈ ایک بڑا شیل ہے جو نطام شمسی کی باہری حدود کے سب سے بڑے علاقے پر چھایا ہوا ہے۔

واشنگٹن میں کارنیج انسٹی ٹیوٹ آف سائنس کے ڈاکٹر شیپرڈ اور نادرن ایریزونا یونیورسٹی کے ڈاکٹر ترجولو اس بات کا جائزہ لیتے رہے ہیں کہ آخر کس طرح نئی سیارہ نما اشیا اس نویں سیارے کے نظریے کو مستحکم کرتی ہیں جو نظام شمشی سے بہت دور کہیں پر موجود ہے۔

نظام شمسی میں پائے جانے والے دیگر اجسام کے تجزیے کی بنیاد پر ماہرین فلکیات نے تجویز پیش کی ہے کہ اگر یہ موجود ہے تو پھر نواں سیارہ کرہ ارض سے بھی بہت بڑا ہوگا اور یہ زمین اور سورج کے درمیان فاصلے سے بھی تقریباً 200 گنا زیادہ فاصلے پر ہوگا۔

نئی تحقیق سے نويں سیارے کے مقام کا پتہ کرنے میں کافی مدد مل سکتی ہے۔

ڈاکٹر شیپرڈ کا کہنا تھا: ’چھوٹی چیزیں ہمیں اس بہت بڑے سیارے تک پہنچا سکتی ہیں جس کے متعلق ہمارا خیال ہے کہ وہ موجود ہے۔ جتنا ہی زیادہ ہم دریافت کریں گے اتنا ہی ہم نظام شمشی کے متعلق سمجھ سکیں گے کہ آخر وہ کس طرح کام کرتا ہے۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں