پاکستان میں بھی موٹرسائیکل ٹیکسی سروس

پاکستان میں پہلی مرتبہ موٹرسائیکل ٹیکسی سروس کا آغاز ہوا ہے۔ ’کارگر‘ نامی اس موٹرسائیکلٹیکسی سروس کا آغاز ابتدائی طور پر پاکستان کے دو شہروں راولپنڈی اور وفاقی دارلحکومت اسلام آباد کے درمیان کیا گیا ہے۔

’کارگر‘ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر فاران احمد نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آباد کے گریجویٹ اور سافٹ وئیر ڈیزائنر ہیں۔ یہ پروجیکٹ اسی یونیورسٹی کے چند طلبہ کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔

’کارگر‘ کا آغاز ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب پاکستان میں ’اُوبر‘ اور ’کریم‘ جیسی آن لائن ٹرانسپورٹ سروس کام کر رہی ہیں مگر ’کارگر‘ کے فاران احمد کا کہنا ہے کہ اُن کی یہ سروس ماحول دوست ہونے کے ساتھ ساتھ مسافروں کی جیب پر بھاری بھی نہیں پڑتی۔

کارگر‘ کا استعمال خاصا آسان ہے اسے ایک آن لائن ایپ کی مدد سے موٹرسائیکل ٹیکسی کو اُس مقام پر بُلا سکتے ہیں جہاں آپ موجود ہوں۔

بی بی سی اردو کے عبید ملک سے بات کرتے ہوئے کمپنی کے مالک کا کہنا تھا کہ کارگر 15 روپے ایک کلومیٹر کا کرایہ اور 20 روپے سروس چارجز وصول کرتی ہے، اور مسافر کی سہولت اور اُن کی حفاظت کو مد نظر رکھتے ہوئے اُنھیں ہیلمٹ، بارش کی صورت میں رین کوٹ اور موبائل چارج کرنے کے لیے ایک پورٹ ایبل بیٹری بھی فراہم کی جاتی ہے۔

یہ خیال مُجھے اُس وقت آیا جب میں انڈونیشیا میں تھا، کیونکہ انڈونیشیا میں موٹرسائیکل ٹیکسی کا بہت رواج ہے اور اس سروس کا خاصہ ٹریفک کا رش، اس سروس کا سستا ہونا اور ایک جگہ سے دوسری جگہ کم وقت میں پہنچا دینا ہے۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں