پانی کی کمی اونی میمتھ کے خاتمے کا سبب بنی

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اون یا روئیں دار ہاتھی (وولی میمتھ) کے قبیل کے آخری معلوم شدہ گروپ کی موت پانی کی قلت کے سبب ہوئی۔

برفانی عہد کا یہ عظیم الجثہ ہاتھی نما جانور الاسکا کے دور دراز ساحل پر آباد تھا اور سائنسدانوں کے مطابق یہ ساڑھے پانچ ہزار سال قبل ناپید ہو گيا۔

ان کا خیال ہے کہ گرم ہوتے ہوئے موسم نے جھیلوں کو اتھلا بنا دیا جس کے سبب یہ جانور اپنی پیاس بجھانے سے قاصر رہے۔

ایک تجزیے کے مطابق زیادہ تر اونی میمتھ ساڑھے دس ہزار سال قبل مر گئے تھے۔

سائنسدانوں کا خیال ہے انسانوں کے شکار اور ماحولیاتی تبدیلی نے ان کے ناپید ہونے میں اہم کردار ادا کیا۔

لیکن جو گروپ بیرنگ سمندر میں سینٹ پال کے جزیرے پر تھے وہ مزید پانچ ہزار سال تک زندہ بچے رہے۔

سائنس کی نیشنل اکیڈمی کی پروسیڈنگز میں شائع اس تحقیق سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ انھیں اپنے قبیل کے مین لینڈ میں رہنے والے دوسرے جانوروں کے مقابلے مختلف خطرات لاحق تھے۔

برفانی عہد کے بعد جب زمین گرم ہوئی اور سطح سمندر میں اضافہ ہوا تو میمتھ کے رہنے والے جزائر کم ہونے لگے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ بعض جھیلیں سمندر میں ضم ہو گئیں اور جیسے ہی نمکین پانی ان میں داخل ہوئے تو تازہ پانی کے ذخائر مزید کم ہو گئے۔

روئیں والے ان دیو پیکر جانوروں کو کم ہوتے ہوئے پانی کے سوتوں پر گزارہ کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ لیکن ان کے حد سے زیادہ استعمال نے مزید مسائل پیدا کیے۔

پینسلوینیا یونیورسٹی میں اس تحقیق کے سربراہ پروفیسر رسل گراہم نے کہا: ’جب دوسری جھیلیں خشک ہو گئیں تو ان جانوروں کو پانی کے سوتوں کے آس پاس یکجا ہونا پڑا۔ ان کے ایک ساتھ ایک جگہ پر گھومنے کی وجہ سے ہریالی کو نقصان پہنچا جیسا کہ ہم جدید دور میں ہاتھیوں کے ساتھ دیکھتے ہیں۔

’اور اس کی وجہ سے ہونے والے شکست و ریخت کے عمل نے جھیلوں کو مزید بھر دیا جس کے سبب تازہ پانی کی کمی ہوتی گئی اور جھیلیں اتھلی ہوتی گئیں۔ اس طرح یہ میمتھ اپنی موت کو بلانے میں خود بھی تعاون کر رہے تھے۔‘

انھوں نے کہا کہ اگر وافر بارشیں نہ ہوتیں اور برف کے پگھلنے سے پانی جھیلیں نہیں بھرتیں یہ یہ جانور اور بھی جلدی مر جاتے۔

پرفیسر گراہم نے بتایا: ’ہمیں یہ پتہ ہے کہ آج ایک ہاتھی کو 70سے 200 لیٹر پانی روزانہ چاہیے۔

’ہم قیاس لگا سکتے ہیں کہ میمتھ بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ اور پانی کے سوتوں کے خشک ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگتا اور اگر یہ صرف ایک ماہ کے لیے سوکھ جاتے تو میمتھ کے لیے یہ مہلک ہو جاتا۔‘

تحقیق کرنے والوں کا خیال ہے کہ جو موسمیاتی تبدیلی آج رونما ہو رہی ہے اس سے چھوٹے جزائر پر ایسے ہی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور تازہ پانی کی کمی جانوروں اور انسانوں دونوں کے لیے خطرہ ہیں۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں