کیا مشینیں ہم پر غالب آ جائیں گی؟

اگر ہالی وڈ کی فلمیں ہی مصنوعی ذہانت کے متعلق آپ کی گائیڈ ہیں تو ہمیں ایک بہت خوفناک مستقبل کا سامنا ہے جس میں مشینیں اتنی چالاک ہو جاتی ہیں کہ وہ ہم پر غالب ہو جاتی ہیں اور ہمیں تباہ بھی کر دیتی ہیں۔

اور کئی با اثر شخصیات نے اس جلتی آگ پر تیل بھی چھڑکا ہے: سٹیفن ہاکنگ کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت انسانی نسل کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے جبکہ کاروباری شخصیت ایلون مسک کہتے ہیں کہ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے بھوت کو دعوت دی جائے۔

تو کیا اس سے کمپیوٹر کی فتح ناگزیر بن جاتی ہے۔

اس لیے اس طرح کے گرما گرم موضوع کے لیے ضروری ہے کہ پریشان ہونے سے پہلے یہ دیکھا جائے کہ کیا ہو سکتا ہے اور کیا بعید از قیاس ہے۔

آغاز میں تو دیکھیں کہ ہم مصنوعی ذہانت کے ساتھ پہلے ہی رہ رہے ہیں۔ گوگل کی سرچوں اور ایمیزون کی براؤزنگ صرف چند کلکنگ ہی نہیں ہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک سافٹ ویئر ہے جو مسلسل سیکھتا اور اپنے آپ کو بہتر کرتا رہتا ہے کہ کس طرح تیزی اور مفید طریقے سے ردِ عمل ظاہر کرنا ہے۔

یہ بہت قابلِ ذکر لیکن اسے بہت ہی ’محدور‘ اور’ کمزور‘مصنوعی ذہانت کہا جاتا ہے کیونکہ یہ صرف ان ہدایات کے تحت کام کر سکتی ہے جو اسے اس کے انسانی موجدوں نے دی ہیں۔ اور یہی اس کی ایک اہم کمزوری ہے۔

لیکن اس کے مقابلے میں ’عمومی‘ اور ’ٹھوس‘مصنوعی ذہانت کا، جو ابھی معرضِ وجود میں نہیں آئی، یعنی کام کرنے کی ایسی تحکمانہ صلاحیت ہے جو اصل انسانی ارادوں سے بہت آگے جاتی ہے، یعنی صرف سوچنا نہیں بلکہ اس میں جدت اور اختراع پیدا کرنا۔

انسانی دماغ کی نقل بنانے میں یا پھر ایسے طریقۂ کار واضح کرنے میں یا وہاں تک پہنچنے میں بہت سی دشواریاں حائل ہیں۔ یہ تو دور کی بات ابھی ایسا روبوٹ بنایا جائے جس کی اپنی سوچ اور ایجنڈا ہو یہ بھی مشکل کام ہے۔

اس کے لیے میں نے پہلے کیلیفورنیا کے علاقے پیسے ڈینا میں ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری (جے پی ایل) کا دورہ کیا کہ تاکہ دنیا میں سب سے باصلاحیت روبوٹس پر کام کرنے والے انجینئروں کو دیکھوں۔

وہ یہ بات سن کر ہنس پڑے کہ کبھی روبوٹس کی فوج ہم پر غالب آ جائے گی۔

اس منصوبے کے پراجیکٹ ڈائریکٹر بریٹ کینیڈی نے کہا کہ ’مجھے ذہین مشینوں کے آنے پر کوئی تشویش نہیں۔‘

ان کی ٹیم کا بنایا ہوا روبوسیمیئن ایک مشینی بندر ہے جو مختلف کھڑے ہونے، رینگنے اور پہیوں پر چلنے جیسے مختلف انداز دکھا سکتا ہے۔

اسے آفت زدہ علاقوں اور جگہوں پر بھیجنے کے لیے بنایا گیا ہے جہاں انسان کا جانا خطرے سے خالی نہیں جیسا کہ گری ہوئی عمارتیں اور تباہ شدہ جوہری ری ایکٹر ہیں۔ اس میں دو کمپیوٹر ہیں۔ ایک اس کے سینسرز جبکہ دوسرا اس کی حرکت کو کنٹرول کرتا ہے۔ یہ گاڑی چلانے اور بڑے والو کو بند کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

لیکن روبوسیمئن کی ذہانت ابتدائی نوعیت کی ہے۔ میں نے دیکھا کہ جب اس کو دروازہ کھولنے کا کہا گیا تو اس نے دروازہ کھولا۔ میں نے دیکھا کہ یہ درست سمت بڑھا اور پھر اس نے دیکھا کہ ہینڈل کو دھکیلنے کے لیے اسے اپنے بازو کو کہاں تک لے جانے کی ضرورت ہے۔ لیکن مشین کو بہت خاص ہدایات دینے کی ضرورت ہے۔

جیسے روبوٹ ہمارے قریب سے آواز پیدا کرتا گیا بریٹ کینیڈی نے کہا: ’مستقبل میں تو مجھے نہ تو تشویش ہے اور نہ ہی میں توقع کرتا ہوں کہ روبوٹ انسانوں جتنے ذہین ہو جائیں گے۔ مجھے اس بات کا براہِ راست علم ہے کہ روبوٹ بنانا کتنا مشکل ہے جو کچھ کرتا ہے۔‘

ان لوگوں کے لیے یہ کافی حوصلہ بخش بات ہو گی جن کومصنوعی ذہانت پر تشویش ہے۔

مصنوعی ذہانت پر کام کرنے والی برطانیہ کی سرکردہ شخصیت پروفیسر ایلن ونفیلڈ کہتے ہیں کہ روبوٹس کے دنیا پر قبضے کا خوف کافی حد تک بڑھا چڑھا کہ پیش کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایجادات کو بڑی احتیاط سے استعمال کرنا چاہیے اور وہ ان 1000 سے زیادہ سائنسدانوں میں شامل ہیں جنھوں نے اس اپیل پر دستخط کیے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ ہتھیاروں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر پابندی ہونی چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ ’روبوٹ اور ذہین نظام کو حفاظت کی اسی بلند حد پر بنایا جانا چاہیے جو ہم اپنی واشنگ مشینوں، کاروں اور جہازوں میں چاہتے ہیں۔‘

لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ٹیکنالوجی کے مستقبل کے بارے میں کوئی بھی پیشگوئی کرنا ناممکن بھی ہے۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں