کیا ہمارے بچے ہم سے زیادہ ذہین ہیں؟

دنیا کے بیشتر حصوں میں لوگوں کی ذہانت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے پیچھے کیا محرکات ہیں اور کیا واقعی لوگ اپنے بزگوں سے ذیادہ ذہین ہیں؟

اکثر والدین کو کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ ہمارے بچے ہم سے زیادہ ذہین ہیں اور لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ ایسا صرف اپنے بچے کی تعریف کے لیے کہا جا رہا ہے۔

لیکن حال ہی میں ایک میگزین ’انٹیلیجنس جرنل‘ میں چھپنے والی ایک تحقیق کے مطابق اس بات میں کافی حد تک صداقت ہے۔

کنگز کالج لندن کے محققین پیرا ونگوپراج، وینا کماری اور رابن مورس نے اس سلسلے میں کی گئی 405 گزشتہ تحقیقوں کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا۔ ان تحقیقوں میں 64 سال کے دوران 48 ممالک کے 2 لاکھ سے ذائد افراد کی ذہانت کے ٹیسٹ کے نتائج موجود تھے۔

اس تجـزیے سے وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ اوسطًا 1950 سے ’آئی کیو‘ یعنی ذہانت میں 20 پوائنٹ کا اضافہ ہوا ہے۔ خیال رہے کہ آئی کیو ٹیسٹ کا اوسطًًا نتیجہ ہمیشہ 100 پوائنٹ ہی ہوتا ہے لحاظہ 20 پوائنٹس ایک خاطرخواح اضافہ ہے۔

دنیا کے مختلف حصوں میں ذہانت میں اضافہ ایک جیسا نہیں ہے۔ ترقی پزیر ممالک کے افراد کے آئی کیو میں زیادہ تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور سب سے زیادہ اضافہ چین اور بھارت میں دیکھنے میں آیا ہے۔

نئی تحقیق اس رحجان کی مزید تصدیق کرتی ہے جس سے سائنسدان کافی عرصہ سے آگاہ ہیں۔ 1982 میں نیوزی لینڈ کی اوٹاگو یونیورسٹی سے منسلک ایک فلسفی اور ماہر نفسیات ’جیمز فلن‘ پرانے امریکن آئی کیو ٹیسٹ کا مشاہدہ کر رہے تھے۔انھوں نے دیکھا کہ ہر 25 سال بعد جب نظر ثانی شدہ ٹیسٹ لیا جا تا تو ٹیسٹ میں بیٹھنے والے افراد سے پرانا ٹیسٹ بھی لیا جاتا۔

جیمز فلن کا کہنا ہے کہ ’میں نے دیکھا کہ پرانے ٹیسٹ میں نئے ٹیسٹ کی نسبت ہمیشہ لوگوں کے نمبر زیادہ آتے ہیں۔‘ دوسرے الفاظ میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ وقت کے ساتھ یہ ٹیسٹ مشکل ہوتے جا رہے ہیں۔

اگرچہ جیمز اس بات کا پتہ چلانے والے پہلے شخص نہیں تھے مگر پھر بھی اس کو ’فلن افیکٹ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

فلن کا کہنا ہے کہ اگر آج کے امریکی شہری سو سال پہلے والا ٹیسٹ دیں تو اوسطًا ان کا آئی کیو 130 ہو گا اور اگر سو سال پہلے والے آج کا آئی کیو ٹیسٹ دیں تو ان کا اوسط آئی کیو 70 ہو گا۔ دوسرے الفاظ میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہر دہائی میں آئی کیو میں 3 پوائنٹ کا اضافہ ہوا ہے۔

اضافے کی ایک وجہ نظامِ تعلیم میں تبدیلی بھی ہو سکتی ہے۔

ترقی پزیر ممالک میں لوگ اب سکولوں میں زیادہ وقت گزارتے ہیں اور پڑھانے کے طریقے میں بھی بہتری آئی ہے۔

یہ ایک معقول مفروضہ لگتا ہے کہ تعلیم لوگوں کی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیتوں میں اضافہ کر رہی ہے۔

لیکن درحقیقت اس سے متعلق ثبوت واضع نہیں ہیں۔امریکی سکولوں کی کارکردگی اور بڑھتے ہوئے آئی کیو سکور میں کوئی واضع تعلق نظر نہیں آتا ہے۔

ماہرِ نفسیات ’آرتھر جنسن‘ کا کہنا ہے کہ اب سکول بچوں کو امتحانات میں بیٹھنے کے لیے بہتر طریقے سے تربیت دیتے ہیں اور طالبعلم امتحانات کے دباؤ کے عادی ہوگئے ہیں اس لیے وہ ہر قسم کے ٹیسٹ میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر تے ہیں۔

دوسری جانب جیمز فلن کا کہنا ہے کہ 20ویں صدی کے پہلے نصف میں لوگوں کے آئی کیو میں اضافے کی ایک وجہ امتحانات دینے میں مہارت ہو سکتی ہے مگر یہ واحد وجہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آئی کیو ٹیسٹ میں تبدیلیوں کے باوجود لوگوں کی ذہانت میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ان کے مطابق ذہانت میں اضافے کی وجہ نظامِ تعلیم کے ساتھ معاشرے کے بدلتے ہوئے رویے ہیں جن کی وجہ سے لوگ اب زیادہ تجریدی اور سائنسی انداز میں سوچتے ہیں اور اسی طرح کی ذہانت کا آئی کیو ٹیسٹ میں جائزہ لیا جا تا ہے۔

سکولوں کے علاوہ لو گ اب معاشرے میں بھی بہت سی ایسی چیزیں سکھتے ہیں جو ان کے آئی کیو میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔ خاندان اب چھوٹے ہوتے ہیں اس لیے اب بچے ماں باپ کے ساتھ زیادہ وقت گزارتے ہیں اور ان کی گفتگو سے بچوں کے علم میں اضافہ ہو تا ہے۔

اس کے ساتھ چھوٹی عمر سے ہی بچوں پر بہتر تعلیم حاصل کرنے اور زندگی میں اچھا مقام حاصل کرنے کے لیے زور ڈالنا بھی ایک عنصر ہو سکتا ہے۔

اس کے علاوہ خوراک کے متعلق بھی کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بچے کی ذہانت کی نشونما میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

ان اعداد وشمار کی روشنی میں آج ہمارے درمیان پہلے کی نسبت کہیں زیادہ ذ ہین لوگ موجود ہیں مگر وہ ہمیں نظر کیوں نہیں آتے؟

اس بارے میں کہا جاتا ہے کہ ذہین لوگ سائنس اور مخلتلف شعبہِ زندگی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں اور اکثر وہ عام لوگوں کی نظر سے اوجھل ہو تے ہیں۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں