6 دن بغیر پھیپھڑوں کے زندہ رہنے والی خاتون

سائنس کی ترقی اور سرجری کے طریقوں میں جدت کی بہترین مثال دنیا کو ایک بار پھر اس وقت دیکھنے کو ملی، جب کینیڈا سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے 6 دن بغیر پھیپھڑوں کے گزارے۔

کینیڈا کے ٹورنٹو جنرل ہسپتال کے ڈاکٹرز نے اپریل 2016 میں پھیپھڑوں کے انفیکشن میں مبتلا میلیسا بینوٹ کی جان بچانے کے لیے اہم فیصلہ کیا جبکہ ان کے پھیپھڑوں کو جسم سے نکال کر اس کی جگہ مشینوں کے ذریعے خون میں آکسیجن شامل کرنے اور اس کی گردش کو یقینی بنایا۔

یونیورسٹی ہیلتھ نیٹورک میں شعبہ انتہائی نگہداشت کے سربراہ ڈاکٹر نیال فرگوسن کے مطابق ملیسا کے کیس میں یہ فیصلہ بالکل اچانک کیا گیا کیونکہ اگر ایسا نہ کیا جاتا تو ملیسا کی جان جا سکتی تھی۔

ڈاکٹر نیال فرگیوسن کا بتانا تھا کہ ملیسا کے لیے اس وقت کوئی ڈونر موجود نہیں تھا جبکہ نہ ہی ماضی میں ایسے کیس کی کوئی مثال ملتی تھی تاہم سینئر ڈاکٹرز کی ٹیم نے اس معاملے پر رسک لینے کا انتخاب کیا، لیکن انہوں نے یہ نہیں سوچا تھا کہ ملیسا کو 6 دن کے لیے اس طرح مشینوں کے سہارا رکھنا پڑے گا۔

ٹورنٹو لنگ ٹرانسپلانٹ پروگرام کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شف کیشووجی کے مطابق یہ پہلا موقع تھا کہ ہمارے آئی سی یو میں ایک مریض ایسا تھا جو مصنوعی پھیپھڑوں، مصنوعی دل اور مصنوعی گردوں پر گزارا کررہا تھا۔

سینئر ڈاکٹرز کی ٹیم کے اس تجربے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی معلومات کو 25 جنوری کو جرنل آف تھوریسک اور کارڈیو ویسکیولر سرجری میں شائع کیا گیا، جبکہ ڈاکٹرز اب بھی ملیسا کی صحت کی جانچ میں مصروف ہیں۔

پھیپھڑوں کے کامیاب ٹرانسپلانٹ کے بعد موت کو شکست دینے والی ملیسا اب دوبارہ سے اپنی نارمل زندگی میں آنے کی کوشش کررہی ہیں۔

بیماری کے باعث گردوں پر پڑنے والے غیرضروری دباؤ کی وجہ سے ملیسا کے گردوں کو بھی تبدیل کیا جائے گا جس کے لیے ان کی والدہ انہیں اپنا گردہ عطیہ کریں گے۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں