سام سنگ کا نیا سمارٹ فون گلیکسی ایس ایٹ متعارف کروا دیا گیا

(بی بی سی اردو)
جنوبی کوریا کی ٹیکنالوجی کمپنی سام سنگ کے اپنے نئے سمارٹ فون میں ‘ہوم بٹن’ ختم کرتے ہوئے نئی ورچوئل ٹیکنالوجی متعارف کروائی ہے جس میں یہ بٹن آئیکون کی شکل میں سکرین پر ظاہر ہوتا ہے۔
نئے متعارف کیے گئے سمارٹ فون گلیکسی ایس ایٹ اور ایس ایٹ پلس کی سکرین بھی ایس سیون اور سیون ایچ ماڈلز کے مقابلے میں بڑی ہیں۔
یہ دونوں نئے ماڈلز گذشتہ سال سام سنگ کے نوٹ سیون میں آگ بھڑک اٹھنے کے بعد ان کی فروخت روک دینے کے بعد متعارف کروائے گئے ہیں۔
سام سنگ نے اس خرابی کا ذمہ داری خراب بیٹریوں کو قرار دیا تھا اور اس وقت سے اضافی حفاظتی اقدامات کیے ہیں جن میں بیٹریوں کا ایکسرے سکین بھی شامل ہے۔
دوسری جانب کمپنی کو کوریا میں بدعنوانی کے سکینڈل کا بھی سامنا ہے۔
ٹیک کنسلٹنسی سی سی ایس کے بین ووڈ کا کہنا ہے کہ ‘گلیکسی ایس ایٹ کی رونمائی کو سام سنگ کے لیے گذشتہ دس برسوں میں سب اہم قرار دی جاسکتی ہے اور نوٹ سیون کو واپس منگوا لینے کے بعد اس کے ہر پہلو کا خودبینی جائزہ لیا جائے گا۔’
ان کا کہنا تھا کہ ‘ایس ایٹ بلاشبہ ایک مضبوط پراڈکٹ ہے لیکن سام سنگ کو اب کسی نقص کے بغیر اسے متعارف کروانا ہوگا تاکہ وہ گذشتہ مشکلات سے نکل سکے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو وہ مزید بہتر طریقے سے ابھر کر سامنے آئے گا۔’
نئے سمارٹ فونز 21 اپریل کو فروخت کے لیے پیش کیے جائیں گے۔
آئی ڈی سی مارکٹ ریسرچ کمپنی کے مطابق سام سنگ 2016 میں سب سے زیادہ موبائل فون فروخت کرنے والی کمپنی تھی تاہم آخری تین ماہ میں ایپل نے اسے پیچھے چھوڑ دیا۔
گلیکسی ایس ایٹ کی سکرین کا سائز 8۔5 انچ اور ایس ایٹ پلس کی 2۔6 انچ ہے۔
نئے سمارٹ فونز میں ایک نئی ٹیکنالوجی بکسبی متعارف کروائی گئی ہے جو کہ ایپل کی ‘سری’ سے ملتی جلتی مصنوعی ذہانت سے مدد فراہم کرتی ہے۔ اور اس میں موجود دس ایپلی کیشنز جیسا کہ فوٹو گیلری، پیغامات، موسم وغیرہ کے بارے میں معلومات آواز کی مدد سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔
اس کا کیمرہ 12 میگاپکسل ہے جبکہ اس کی فرنٹ کیمرے میں بہتری لاتے ہوئے اسے آٹھ میگا پکسل کر دیا گیا ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کا کیمرہ گذشتہ سال متعارف کروائے گئے سمارٹ فونز کے کیمروں سے زیادہ بہتر ہے۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں