بم کیا ہے؟ MOAB

یہ بم 2003 میں ٹیسٹ کے بعد گزشتہ روز تاریخ میں پہلی بار اس تجربہ کا موقع مسلمانوں کو ملا اور وہ بھی اس بم کی آتش و آہن میں جھلس کر، افغانستان کے صوبے ننگرہار میں اس بم کو پھینکا گیا۔ جس کی وجہ سےہزاروں معصوم اپنی جانوں سو ہاتھ دھو بیٹھے۔

تاہم یہ امریکہ کا سب سے بڑا غیر نیوکلائی بم ہے۔ MOAB ‘ماس آرڈیننس ائیر بلاسٹ’ کا مخفف ہے۔ جسے ‘مدر آف آل بمز’ بھی کہا جاتا ہے۔

اس کا اصل نام ‘جی بی یو 43/بی’ ہے۔ یہ بم کنکریٹ میں 200 میٹر تک گھس سکتا ہےاور خاص طور پر غاروں اور بنکر پر حملے کیلئے بنایا گیا تھا۔ اس کا وزن 21000 پاؤند یعنی 9525 کلو ہے اور لمبائی تقریباً30 فٹ ہے۔ یہ ایک سیٹلائٹ گائیڈڈ میزائل ہے۔

افغان حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان سے متصل صوبے ننگرہار کے ضلع اچین میں امریکا کے ’’مادر آف آل بمز‘‘حملے میں داعش کے 36؍ عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔ اس کے علاوہ داعش کے زیر استعمال غاروں،سرنگوں ،خندقوں اور اسلحے کے ذخیروں کو تباہ کردیا گیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حملے کو ’’ایک اور کامیاب مشن‘‘ قرار دیا اور کہا انہوں نے امریکی فوج کو اس کا ممل اختیار دے رکھا تھا۔ واشنگٹن میں امریکی محکمہ دفاع پنٹاگون کے ترجمان ایڈم اسٹمپ نے کہا کہ یہ تباہ کن اور ہلاکت خیز بم کچھ عرصہ قبل ممکنہ استعمال کے لئے افغانستان منتقل کیا گیا تھا۔2003میں تجربے کے بعد اسے پہلی بار استعمال کیا گیا۔ اس کے فضا ہی میں پھٹنے سے پیدا ہو نے و الے ہوا کے دبائو کے نتیجے میں زد میں آنے والی سرنگیں، غار، خندقیں ا ور تنصیبات منہدم ہوگئے۔ یہ بم دشمن پر بھرپور حملے سے قبل اسے مفلوج کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ امریکی اندازے کے مطابق اس وقت داعش کے 600؍ سے 800؍ تک عسکریت پسند افغانستان میں مو جود ہیں۔ اکثریت ننگرہار میں بتائی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دور صدارت کے پہلے 100؍ دنوں میں افغانستان سے شام تک ہلاکت خیز بموں کی بارش کردی۔ اپنی صدارت کے پہلے ہی ہفتے میں 29؍ جنوری کو ٹرمپ نے امریکی اسپیشل فورسز کو یمن میں القاعدہ کے مبینہ ٹھکانوں پر حملوں کا حکم دیا جس میں نیوی سیل چیف پیٹی آفیسر ولیم ریان اوونز مارا گیا جو ٹرمپ کے دور صدارت میں پہلی امریکی فوجی ہلاکت تھی۔ اس آپریشن میں خو اتین اور بچوں سمیت 23 ہلاک ہو ئے تھے۔

سوال یہ ہے کہ کیا مسلم امت کے رکھوالے مر گئے ہیں؟ جی ہاں! ہماری 23 مارچ کی پریڈ تو صرف نمائش ہے، کیوںکہ دشمن سے نمٹنے کی ہر صلاحیت ہمارے پاس ہے. مسئلہ یہ ہے کہ اس صلاحیت کو استعمال کرنے کی طاقت ہونا بھی چاہیئے.

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں