ماسٹر کارڈ نے فنگر پرنٹ ٹیکنالوجی متعارف کروا دی

کریڈٹ کارڈ فراہم کرنے والے کمپنی ماسٹر کارڈ نے فنگر پرنٹ سینسر کی خصوصیت متعارف کروائی ہے۔

کمپنی کی جانب سے فراہم کی جانے والی اس خصوصیت کا جنوبی افریقہ میں کامیابی سے تجربہ کیا گیا۔

یہ ٹیکنالوجی بالکل اسی طرح کام کرتی ہے جس طرح موبائل فونز کے ذریعے ادائیگی کی جاتی ہے تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ صارفین ادائیگی کرتے ہوئے سینسر پر اپنی انگلی رکھیں۔

سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ فنگر پرنٹس کا استعمال فول پروف نہیں ہے تاہم یہ بائیو میٹرک ٹیکنالوجی کا ’سمجھدار‘ استعمال ہے۔

ماسٹر کارڈ کی سیفٹی اور سکیورٹی کے سربراہ اجے بھلا کا کہنا ہے کہ فنگر پرنٹ ٹیکنالوجی کا استعمال سے ‘ اضافی سہولت اور سکیورٹی فراہم کرنے میں مدد ملے گی اور اسے چھینا یا نقل نہیں کیا جا سکتا ہے۔’

تاہم پرنٹ سینسرز کو دھوکا دیا جا سکتا ہے۔

برلن کی سکیورٹی ریسرچ لیبز کے چیف سائنسدان کارسٹن نوہل نے بی بی سی کو بتایا ‘اس کے لیے مجھے صرف ایک گلاس یا کچھ ایسی چیز کی ضرورت ہو گی جسے آپ نے ماضی میں چھوا ہو گا۔‘

نوہل نے فنگر پرنٹ سینسر ٹیکنالوجی کے بارے میں محتاط تبصرہ کرتے ہوئے کہا ‘موجودہ وقت کے مقابلے میں یہ بہتر ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ‘کریڈٹ کارڈ میں چپ اور پِن کی کمبینیشن میں پِن ایک کمزور عنصر ہے۔‘

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں